-،-اسلام سے انحراف ،منافق ،مرتد اور یورپ کا رخ ( پہلو ۔ صابر مغل ) -،-

sab
منافق کے معنی ہیں نفاق کرنے والا،دو رخی کرنے والا،بظاہر مسلمان اوردل سے اسلام کے خلاف عقیدہ رکھنے والا،نہ نافقا ء و نفقہ ہے جس کے معنی ہیں گوہ(جنگلی چوہا)کا بھٹ،جس کے کم از کم دو منہ ہوتے ہیں ایک دہانے سے کوہ اس میں داخل ہوتی ہے شکاری اس کی جانب متوجہ ہوتا ہے تو دوسرے سوراخ سے باہر نکل جاتا ہے(تبریزی)،اصطلاح قرآن میں نفاق اور منافقت اسی دورخی کا نام ہے بظاہر زبان سے تویہ آدمی مومن ہونے کا تذکرہ کرتا ہے اور دکھاوے کی نمازیں بھی پڑھتا ہے لیکن اس کے دل میں کافر رہتا ہے،اسلام کے خلاف عقیدہ رکھتا ہے یہ تو ایک ایسا ہے اسے اگر کفر سے نقصان پہنچے تو وہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتا ہے اور اگر اسلام کے باعث اسے نقصان پہنچے تو فورااپنے کافر ہونے کا اعلان کر دیتا ہے یعنی حقیقت میں عقیدے کا نہیں بلکہ مفاد کا آدمی ہوتا ہے اسی لئے اس کی زبان اور دل میں ہم آہنگی نہیں بلکہ وہ دل میں اپنے مفادات کی ہر وقت پرورش کرتا رہتا ہے اور زبان پر اسی بات کو لاتا ہے جس سے اس کے دل میں اگنے والی فصل کی آبیاری ہو سکے ،اسلام کے بنیادی عقائد جس پر مسلمانوں کے کسی فرقہ میں کوئی اختلاف نہیں ان میں سے بنیادی عقیدہ یہی ہے کہ ۔حضرت محمدﷺ اللہ کے آخری رسول ہیں،گذشتہ روز آزاد کشمیر کی اسمبلی نے بھی قادیانیوں کو آستین کا سانپ کہتے ہوئے آئینی طور پر غیر مسلم قرار دے دیا،لیبیا کے قریب سنہرے خواب سجائے پاکستانیوں سمیت درجنوں افراد کشتی الٹنے سے لقمعہ اجل بن گئے،پاکستان میں بدترین مالی و معاشی حالات کی بدولت ہر غریب آدمی دیار غیر باالخصوص یورپ جانے کے لئے سرگرداں ہے مگر مسلمان جس کا عقیدہ ختم نبوتﷺ پر پختہ یقین ہے وہ مسلمان ہے وہ مر تو سکتا مگر رسول عربی ؐ ؑ سے کسی صورت انحراف یا رخ نہیں موڑ سکتا ،مگر منافقین کے لبادے میں چھپے اب بھی ایسے خبیث موجود ہیں جو اپنے دنیاوی مفادات کی خاطر مرتد ہونے میں لمحہ کی بھی کی تاخیر نہیں کرتے،قادیانیوں کا عیسائیوں،یہودیوں کی آشیر باد پر یورپ،پاکستان اور دنیا بھر میں پھیلا نیٹ ورک ایسے خبیثوں کے لئے ہر مدد اور معاونت کے لئے تیار رہتے ہیں،ربوہ پاکستان میں کفار کی مدد سے مزرائیوں کی پوری ریاست قائم ہے،عام غیر مسلم کا تو عقیدہ ختم نبوتؐ پر یقین ہی نہیں اس کے بر عکس قادیانی ایک ایسا گروہ ہے جو ہر لمحہ،ہر جگہ ،ہر وقت توہین رسالتﷺ میں مگن اور پیش پیش ہیں،ملک کے کونے کونے میں اس تبلیغ کاعمل جاری ہے ،پاکستان کے ہر اہم محکمہ میں قادیانی اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز ہیں،اب تک لاکھوں پاکستانی دین اسلام سے مرتد ہو کر خاندانوں سمیت یورپ میں جا کرمنافقین کا وہ کردار ادا کر رہے ہیں جو حضور اکرم ﷺ اور خلفائے راشدین کے دور میں بھی تھا،ان میں کئی ایسے ہیں جو نئے سرے سے قادیانیت میں گئے اور دوسری قسم ایسی ہے جن کے اباؤ اجداد یا اب بھی کئی خاندان مرزائی ہیں وہ آف دی ریکارڈ تمام جھوٹی دستاویزات تیار کرنے کے بعد مقامی قادیانی لیڈر سے قادیانی ہونے کا سرٹیفکیٹ لے کر یورپ نکل جاتے ہیں،یہ ایک ایسا عمل ہے جس پر ختم نبوت ﷺ کے حوالے سے لبیک یا رسول اللہ ﷺ کی تحریک چلانے والوں کی آنکھیں بند ہیں یا انہیں علم نہیں،پاکستان کے جن علاقوں سے ایسے مرتد لوگ بیرون ملک گئے ہیں وہاں مسلمانوں کے ملی حمیت کو گھن لگ چکی ہیں ان کے دل سلب ہو چکے ہیں،حقیقت یہی ہے کہ مادیت کے اس دور میں سچے مسلمانوں کی بھی کمی نہیں مگر فی زمانہ دین نہیں خود نمائی کا دور دورہ ہے،اسلام سے رخ بدل کر قادیانی ہونے والے تو مرتد ہوئے مگر ان مرتدوں کے ساتھ پہلے سے بھی زیادہ تعلق رکھنے والے کون ہوتے ہیں ؟یہ تو ہمارے علماء ہی بہتر بتا سکتے ہیں،مرازئی بھی اپنے آقا انگریز کے اس منصوبے پر عمل پیرا ہیں کہ اتنا جھوٹ بولوکہ لوگ اسے سچ سمجھنے پر مجبور ہو جائیں،قادیانیوں کا کفر ایک مکمل حقیقت ہے ،ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔یعنی یہ منافق جب آپؐ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپؐ اللہ کے رسول ہیں وہ کلمہ پڑھ کر یقین دلاتے ہیں کہ مسلمان ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے سب واضح کر دیا،ترجمہ۔اللہ جانتا ہے کہ بے شک یہ منافقین جھوٹے ہیں،مزید فرمایا،منافقین سے جہاد اور قتال کا حکم ہے،اگرچہ کسی کا دل چیر کر نہیں دیکھا جا سکتا کہ یہ مسلمان ہے کہ نہیں مگر ان کے عمل سب کچھ واضح کر دیتے ہیں،مرتد کے معنی ہیں ،غدار،ناقص عہد،جس کا ادعا ہو اسی لا تعلقی،واپس جانا،اسلام سے پھر ہوا شخص،مسلمان جو کافر ہو جائے،مردود،ملعون،کافر،ملحد اور برگشتہ وغیرہ،اسلام میں مسکمانوں کے تبلیغ و ترغیب تو ہے لیکن قاعدہ کے مطابق کسی کو جبراً مسلمان نہیں بنایا جا سکتا لیکن اگر کوئی مسلمان ہے اور وہ بد بخت اسلام سے پھر کر مرتد ہو جائے تو وہ اللہ تعالیٰ اور حضرت محمدﷺ کا باغی ہے،جب دنیا میں باغی شریعت محمدی یا کسی بھی مذہب و قوم کی عدالت میں کسی رعایت کا مستحق نہیں بلکہ لٹکانے کے قابل تو اللہ پاک کے لئے وہ کیوں کسی رعائت کا مستحق ہو گاحضرت مکرمہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا جس نے اپنا دین اسلام پر بدل دیا تو اس کو قتل کر دو،حضرت امام مالک ؒ فرماتے ہیں جو شخص دین اسلام سے پھر کر کفر کی طرف چلا جائے تو وہ بلا تفریق واجب القتل ہے نہ تو اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کی توبہ کا کوئی اعتبار ہے ۔قرآن مجید میں ہے ،بے شک وہ لوگ اپنی پشتوں پر لوٹ گئے(محمد۲۰)،ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ یا محمد رسول اللہ ﷺ کی تکذیب و توہین کا موجب بنے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے ،دنیا کے کسی بھی ملک کا رہائشی اپنے ملک اپنے دین (خواہ اس کا دین کچھ بھی ہو)سے بغاوت کرے تو کیا اسے وہ ملک برداشت کر لے گا؟ ہر گز نہیں،کسی صورت نہیں،مسلمان سے قادیانی ہو کر یورپ جانے والے قطعیات اسلام سے انکار کر دیتے ہیں اور بے حائی سے شرعیہ کو ٹھکرانے کو کوئی بڑی بات نہیں سمجھتے،حضور پاک ﷺ کے وصال کے بعد عرب میں نبوت کے متعدد دعویدار آئے ان میں سب سے زیادہ طاقتور مسیلمہ کذاب تھا جو ایک بہت بڑی جنگ جس میں دشمن کی قوت بہت بڑی تھی جن کے مقابلے میں صرف تیرہ ہزار تھی اسے حضرت حمزہؓ کے قاتل وحشی (جو مسلمان ہو چکا تھا)نے ایسا تیر مارا کہ کذاب جہنم واصل ہوا،حضرت خالد بن ولیدؓ نے بھی نبوت کا دعویٰ کرنے والے کئی کذابوں کو کیفر کردار تک پہنچایا، امام بخاری کے مطابق حضرت علی کرم اللہ وجہہؓ نے بھی بہت سے مرتدین کو قتل کیا،بے دین اور دنیاوی اسائشوں کے لئے دین اسلام کو خیر باد کہنے والوں پھر منافقوں کی طرح اسلام اسلام کی گردان کرتے ہو لعنت ہے تجھ پر ،اس رسول عربی ﷺ کی حرمت و عظمت لازوال اور اتنی بلند ہے کہ اس تک انسانی سوچ بھی نہیں پہنچ سکتی،اس رحمت ا للعالمین سے بڑھ کر دنیا میں اور کچھ نہیں جتنا مرضی کھا لو جتنی مرضی پر آسائش زندگی گذار لو کھائے گی تمہیں مٹی ہی ،منافقوآخرت میں کیا ہو گا ،ایم بار حضرت جبرائیل ؑ تشریف لائے تو گھبرائے گھبرائے سے تھے وجہ تخلیق کائنات ﷺ نے پوچھا جبرائیل کیا بات ہے اتنے پریشان کیوں ہو ؟تب حضرت جبرائیل ؑ نے کہا یارسول اللہ ﷺ آج میں جہنم دیکھ کر آیا ہوں جس کے سات حصے ہیں ،مزید بتایا کہ جہنم کے سب سے برے اور نچلے حصے میں منافقین ہوں گے،غزوہ بد میں مسلمانوں اور کفار کے درمیان جنگ ہوئی تو اس وقت حضرت ابوبکر صدیقؓ کے بیٹے عبدالرحمان مسلمان نہیں ہوئے تھے دوران جنگ دو بار حضرت ابوبکر صدیق بیٹے کی زد میں آئے مگر بیٹے نے وار نہ کیا اس بات کا عظیم باپ کو نہیں پتا تھا کئی دن بعد گھر میں باپ بیٹے کے دوران بات ہوئی تو عبدالرحمان نے کہا جنگ میں آپؓ کئی بار میری تلوار کی زد میں آئے مگر میں نے باپ سمجھ کر وار نہ کیا،یہ سن کر حضرت ابوبکر صدیق بولے مجھے قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میری جان ہے اگر تم میری تلوار کی زد میں آتے تو عشق مصطفےٰ ؑ میں دنیا کی کوئی رشتہ ،کوئی طاقت تمہیں میرے ہاتھوں جہنم واصل ہونے سے نہیں روک سکتی تھی،سبحان اللہ اسے کہتے ہیں مسلمانی اور ختم نبوت پر یقین،غریب گھرانے کے فرد مگر عاشق رسول ﷺ غازی علم دین شہید نے سولی پر جھولنا کیوں قبول کیا؟یہ کوئی کہانہ نہیں بلکہ یہ سب پاکستان بھر میں ہو رہا ،حکومت کے ساتھ مقامی علمائے دین،حقیقی مسلمان چاہے ان کا ان سے جتنا بھی قریبی رشتہ کیوں نہیں،سول سوسائٹی ان سے نہ صرف مکمل بائیکاٹ کرے بلکہ دین اسلام کی اساس کے عین مطابق انہیں مرتد کہ کر ان کے خلاف صف آراء ہوں ،بندہ دوست ہو مرتد کا اور دعویٰ کرے مسلمانی کا ؟ایسے مسلمان ان سے بھی زیادہ گنہہ گار ہیں،ختم نبوتﷺ پر بہت نعرے بازی ہو رہی ہے ،غلامی رسول ﷺ میں موت بھی قبول ہے ،بہت جلسے ہوں رہے ہیں ،بہت احتجاج ہو رہے ہیں مگر وہ سب نظر نہیں آتا جو آپ کے آس پاس توہین رسالت ؐکا عمل جاری ہے،بلاشبہ کذابوں،نے پیروکاروں اور جھوٹوں پر خدا نے تو قرآن مجید میں بھی لعنت بھیجی ہے۔