۔،۔مقامِ مرشد۔تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی۔،۔

prof.Abdullah
برصغیرپاک وہند کا مشہور شہر ’’ دہلی ‘‘ کر ہ ارض پر موجود شاید ہی کسی شہر نے عرو ج و زوال کے اتنے رنگ تغیرات نہیں دیکھے جتنے دہلی شہر نے دیکھے ‘دہلی کو سونے کی چڑیا سمجھ کر دور دراز کے با دشاہ فوجوں کے لشکر لے کر اِس شہر پر چڑھ دوڑے‘ اِس شہر کو جہاں رنگ رنگ کے با دشاہوں طا لع آزماؤں سے واسطہ پڑا وہیں پر اِس شہر کی یہ خاصیت رہی ہے کہ یہاں پر روحانیت تصوف کے اتنے چاند روشن ہو ئے کہ ایک دوسرے کے سامنے روشنی مانند پڑتی گئی تصوف کے چراغ سے چراغ اِس شان سے جلے کہ صدیوں سے جہالت میں ڈوبے اہل دہلی کے زنگ آلو دہ دل و دماغ نو ر میں ڈھلتے چلے گئے اِیسا ہی ایک چراغ با دشاہ التمش کے دور میں خواجہ قطب الدین بختیار کا کی ؒ اِس شان سے جلا کہ روحانیت کے منکرین حسد کی آگ میں جھلسنے لگے آفتاب روحانیت کو داغدار کرنے کے لیے آپ پر زنا کا الزام لگا دیا اِس داغ کو دھونے کے لیے خوا جہ خو اجگان سلطان الہند خوا جہ معین الدین چشتی اجمیری ؒ کو خو د چل کر اپنے لا ڈلے مرید قطب الدین کے لیے دہلی آنا پڑا اور پھر مقررہ دن اِس مقدمے کے حل کے لیے سلطان کے دربار میں حا ضر ہونا پڑا‘ مقدمے کے دن سارا شہر دربار کی طر ف اُمڈ پڑا پتھر کے پجا ری تو خوش تھے ہی کہ مسلمانوں کی آنکھ کا تارا جس نے ہزاروں بت پرستوں کو نور ایما نی سے رنگا آج اُس کی عظمت کا مینار زمین بو س ہو نے لگا تھا ہندوؤں کے ساتھ ساتھ بد عقیدہ مسلمان اور منکرین تصوف بھی خو ش تھے کہ آج روحانیت کا یہ سورج ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غروب ہو جا ئے گا سارا شہر با دشاہ کے دربار کے با ہر جمع ہو چکا تھاکہ خوا جہ معین الدین اجمیری ؒ قطب الدین ؒ کے ہمرا ہ دربار پہنچے دہلی شہر کی نبض تھم چکی تھی کا روبار زندگی معطل ہو چکا تھا آج سب کو اِس عجیب و غریب مقدمے کے فیصلے کا انتظار تھا اور پھر حقیقی سلطان الہند جب التمش کے دربار میں حاضر ہو ئے تو بادشاہ آپ کے رعب اورجلال کی تاب نہ لا تے ہو ئے کھڑا ہو گیا سارے دربا ری بھی شاہ اجمیر کے احترام میں کھڑے تھے دربار شا ہی کے درو بام پر سنا ٹے کی چادر تن چکی تھی دربار ی پتھر کے بتوں میں تبدیل ہو چکے تھے شاہ اجمیر ؒ کے سامنے با دشاہ وقت فقیروں کی طرح کھڑا تھا شاہ اجمیر کی قلب و گداز میں ڈوبی گدگداتی سرسراتی آواز نے سماعتوں سے ہمکنار ہو نا شروع کیا آج احترام کا وقت نہیں ہے پھر آپ ؒ قاضی سے مخا طب ہو ئے جس نے میرے قطب پر الزام لگا یا وہ کدھر ہے تو قاضی بو لا جنا ب عورت شیر خوا ر بچے کے ساتھ دربار میں مو جود ہے پھر قاضی نے اشارہ کیا تو چادر میں لپٹی عورت گو د میں دو ماہ کا شیر خوار بچہ اٹھا ئے چلتی ہوئی قاضی کے سامنے آکر کھڑی ہو گئی شاہ اجمیر ؒ آگے بڑھے اور عورت سے مخا طب ہوئے کہ یہ کتنی کٹھن گھڑی ہے کے تمہیں انصاف کے لیے سب کے سامنے اِس طرح آنا پڑا تو عورت ڈھٹا ئی اور بے باکی سے بو لی اِس کے لیے مجھے انہوں نے مجبو ر کیا قطب الدین ؒ کی طرف اشارہ کر رہی تھی شاہ اجمیر ؒ کا چہرہ سرخ ہو گیا لیکن پھر بھی نرم لہجے میں بو لے کیاتم واقعی قطب کو جانتی ہو تو عورت بولی میرے سے زیا دہ انہیں اور کون جا ن سکتا ہے یہ تو میرے غیر شرعی خا وند ہیں مجھ سے شادی کا وعدہ کیا لیکن بعد میں مُکر گئے اب میں در در کی ٹھو کریں کھا تی پھر رہی ہو ں بد نا می کی چادر پہنے انصاف مانگنے یہاں آگئی ہوں ۔ عورت کی بے با کی دیکھ کر حضرت خوا جہ معین الدین چشتی ؒ کا چہرہ جلال کی آنچ سے سرخ ہو گیا لیکن غصہ کو دبا تے ہوئے بو لے تم جانتی ہو تم کس پر اتنا بڑا الزام لگا رہی ہو قطب ؒ پیدائشی ولی ہے بچپن سے میرے سایہ شفقت میں ہے میری نگرانی میں معرفت کا سفر طے کیا نو ر حق پانے کے بعد لاکھوں جہالت اوربت پرستی میں غر ق انسانوں کو نو ر ایما نی میں رنگا قطب ؒ کے کردار سے پو را ہندو ستان واقف ہے تم غلطی کر رہی ہو ابھی بھی تو بہ کر لو لیکن عورت پر شاہ اجمیر کے درس کا بالکل بھی اثر نہیں ہوا وہ اور بھی بے با کی سے اپنی با ت پر قائم اور انصاف کے لیے چیخنے چلا نے لگی بے باک عورت شہنشاہِ ہند کے سامنے الزام لگا رہی تھی جس مر د کامل کے ابرو ئے چشم سے بڑے سے بڑا انسان بھی ڈھیر ہو جا تا تھا ۔ شاہ اجمیر ؒ عورت کو پورا پو را مو قع دے رہے تھے اُسے جہنم کا ایندھن بننے سے روک رہے تھے لیکن عورت اپنی ڈھٹا ئی پر قائم تھی شاہ اجمیر نے اُسے پوراسمجھانے کی کو شش کی کہ کسی نیک معصوم انسا ن پر بہتان لگا نا گنا ہ عظیم ہے لیکن عورت اپنا نامہ اعما ل سیا ہ کر نے پر بضد تھی یہاں پر قاضی نے اپنی خبا ثت دکھا ئی اندر کا بغض یہ کہہ کر نکا لا جناب گنا ہ تو کسی بھی انسان سے سر زد ہوسکتا ہے ملزم امام مسجد سے لے کر درویش بھی ہو سکتا ہے شاہ اجمیر ؒ قاضی کی بد نیتی بھا نپ گئے لیکن پھر دلنواز تبسم سے بو لے آپ ٹھیک فرما رہے ہیں تو کیا قطب الدین ؒ آپ کی نظر میں گنا ہ گار ہے ‘قاضی گھبرا گیا لیکن اب اُس نے نیا پینترا بدلا جناب میرے سمجھنے نہ سمجھنے سے فرق نہیں پڑتا لیکن میرے عہدے کا تقاضہ ہے کہ میں ہر ملزم سے اُس کی صفائی کا ثبوت طلب کر وں ۔ مجھے قطب الدین بھی اپنی بے گنا ہی کا ثبوت پیش کریں اور با عزت بر ی ہو کر اپنے آستا نے کی طرف لو ٹ جائیں قاضی کے لہجے میں تلخی اُ س کے دل کا حسدبیان کر رہی تھی ایک عورت نے عدالت میں آکر انصاف مانگا ہے اپنی حق تلفی کا دعوی دائر کیا ہے عدالت اُس کے دعوے کے لیے قطب الدین ؒ سے بے گنا ہی کا ثبوت مانگ رہی ہے شاہ اجمیر ؒ کی پر جلا ل آواز پھر گونجی جب قطب بار بار اپنی بے گنا ہی کا کہہ رہے ہیں کہ میں اِس عورت کو پہلی بار دیکھ رہا ہوں اِس کو جانتا تک نہیں تو اب کس طرح قطب الدین کی بے گنا ہی کا ثبو ت دیا جا ئے قاضی نے پھر اپنے حسد کا اظہا ر کیا جناب قانون کی نظر میں ملزم کی اپنی شہا دت وزن نہیں رکھتی ‘حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ کی پر جلال آواز پھر گو نجی مانا کہ آپ قطب الدین ؒ کے بے گنا ہ ما ضی کر دار کی بلندی کو نہیں مانتے لیکن پو را ہندو ستان جو قطب کی بے گنا ہی دے رہا ہے آپ اِس کو کیوں نہیں مانتے قاضی نے پھر اعتراض کیا کہ یہ سارے لو گ قطب الدین ؒ کے عقیدت مند ہیں مریدین ہیں عقیدت و احترام مرشد کا عشق مرید کو اندھا کر دیتا ہے یہ سارے اندھے بہرے یہ نا قطب الدین ؒ کے خلا ف با ت کریں گے اور نہ ہی سنیں گے عدالت میں غیر جانبدار لو گوں کی گوا ہیاں قبو ل کی جا تی ہیں شاہ اجمیر قاضی کی بد نیتی اورحسد بھا نپ چکے تھے کہ قاضی قطب الدین ؒ کو مجرم بنا نے پر تلا ہوا تھا قاضی نے خوا جہ معین الدین چشتی ؒ کے سامنے قانو نی نکا ت بتا نے شروع کر دیے ساتھ ہی فقہ کے پیچیدہ مسائل میں الجھا نے کی کو شش کی قاضی شہنشاہِ ہند الولی ؒ کی بات ماننے کو تیا ر نہیں تھا قاضی کی ہٹ دھرمی بھا نپ کر انسانوں کے عظیم مسیحا بو لے قاضی صاحب آپ میرے قطب کی کو ئی بھی گو اہی ماننے کو تیا ر نہیں ہیں لہذا اب آپ کی بات مانتے ہو ئے میں کہتا ہو ں کہ جس عورت نے قطب الدین ؒ پر الزام لگا یا ہے وہ اپنی حما یت میں چار گوا ہ پیش کر دے جو روحانیت کے آفتاب خوا جہ قطب الدین ؒ کو اِس عورت کا غیرشرعی خاوندثابت کر سکیں عورت کا الزام ثابت کر سکیں خواجہ خواجگان شاہ اجمیر ؒ کی دلیل سن کر قاضی کا رنگ اُڑ گیا لیکن فورا سنبھل گیا اور کہا عورت کے گواہ پیش کیے جا ئیں قاضی کی آواز سن کر دروازے کے پاس سے چار افرا د اٹھے اور آگے بڑھنے لگے عا م وضع قطع کے لوگ عورت کی گواہی کے لیے قاضی کے سامنے آکر کھڑے ہو گئے دلوں کے تاجدار شاہ اجمیر ؒ آگے بڑھے اور بو لے آپ چاروں کے پاس کیا ثبو ت ہے کہ مدعی عورت میرے قطب ؒ کی غیر شرعی بیوی ہے اور یہ بچہ قطب کی اولاد ہے گو ہواں نے صرف ایک بار ہندوستان کے حقیقی سلطان کی طرف دیکھا شاہ اجمیر ؒ کا جلا ل برداشت نہ کر سکے اور قوت گو یائی سے محروم ہو کر گو نگوں کی طرح قاضی کو دیکھنے لگے قاضی بار بار گوا ہوں کو بو لنے کا کہہ رہا تھا لیکن گوا ہ پتھر کے مجسموں کی طرح بے حس و حرکت کھڑے تھے قاضی کی آواز اُ ن کی سما عتوں تک نہیں پہنچ رہی تھی چاروں گوا ہ گو نگے بہرے مجسموں کا روپ دھا ر چکے تھے ۔