-،-عدلیہ پرمنظم تنقیدقومی ضمیر کی تضحیک ہے۔محمدناصراقبال خان-،-
ہیومن رائٹس موومنٹ انٹرنیشنل کے مرکزی صدرمحمدناصراقبال خان،چیف آرگنائزر میاں محمدسعید کھوکھر ،مرکزی آرگنائزرنازبٹ ، سیکرٹری جنرل محمدرضاایڈووکیٹ ،سینئر نائب صدورتنویرخان، محمداشرف عاصمی ایڈووکیٹ، ندیم اشرف ،سلمان پرویز،روحی کھوکھر ،مرکزی نائب صدور ناصرچوہان ایڈووکیٹ ، ممتازاعوان ،محمدشاہدمحمود ،صدر پنجاب محمدیونس ملک،صدربرطانیہ رانابشارت علی خاں ،صدرنیویارک محمد جمیل گوندل، صدر مدینہ منورہ سرفرازخان نیازی،صدرکراچی یونس میمن ،صدر چنیوٹ راناشہزادٹیپو ،صدرفیصل آبادندیم مصطفی اور صدر قصور میاں اویس علی نے کہا ہے کہ عدلیہ پرمنظم تنقیدقومی ضمیر کی تضحیک ہے۔ حکمران اشرافیہ کے متنازعہ جملے عدلیہ اورعدل وانصاف پرحملے کے مترادف ہیں۔ آزاد عدلیہ کاقانون کی حکمرانی اور انصاف کی فراوانی کیلئے فعال آئینی کردارقابل قدر ہے،ظاہر ہے پیشہ ور چوراورقاتل منصف اور محتسب سے خوش نہیں ہوسکتے۔نیب حکام کوبھی کام سے روکاجارہا ہے،پنجاب کے صوبائی اداروں کانیب سے عدم تعاون تصادم کااعلان ہے ۔ عدلیہ کے تاریخی فیصلے آنے سے عدل وانصاف پرعام آدمی کااعتماد بحال ہوا۔پاکستانیوں کوآزاد عدلیہ سے بہت امیدیں وابستہ ہیں،عدلیہ کی عملداری کیلئے اس آئینی ادارے کی خودمختاری ناگزیر ہے۔وہ ایک اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔محمدناصراقبال خان، میاں محمدسعید کھوکھر اور نازبٹ نے مزید کہا کہ اگرآزادعدلیہ اورانصاف پسندججوں کیخلاف مہم جوئی کی گئی توانجام پرویزمشرف سے مختلف نہیں ہوگا۔ آصف زرداری کے دورصدارت میں عدلیہ کی آزادی کیلئے عوام نے کلیدی کرداراداکیاتھا،آج اس کی حفاظت کیلئے بھی عام آدمی سردھڑکی بازی لگادے گا۔انہوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ سے نااہل ہونیوالے فرداوران کے حامی معذرت خواہانہ رویہ اختیارکرنے کی بجائے الٹاعدلیہ کیخلاف اشتعال انگیزی پراترآئے ہیں۔بدعنوان عناصر کابے نقاب ہونے پربدزبان ہوجانافطری ہے ۔انہوں نے کہا کہ توہین عدالت کاارتکاب کرنیوالے عناصر سخت سزا کے مستحق ہیں۔جس طرح امتحانات میں نقل کرنے پرگرفتار امیدوار آئندہ تین ا متحان میں نہیں بیٹھ سکتا اس طرح جو عوامی نمائندہ صادق اورامین کے معیارپرپورانہیں اترتااسے تاحیات یاپھر تین انتخابات یعنی پندرہ برس کیلئے نااہل قراردیاجائے۔انہوں نے کہا کہ توہین عدالت یابدعنوانی پرپانچ برس کی نااہلی کافی نہیں۔دھوکے سے ممبر اسمبلی منتخب ہونے،قومی وسائل میں نقب لگانے اوراپنے اختیارات سے تجاوزکرنیوالے تاحیات نااہلی کے مستحق ہیں۔