۔،۔ ایک پاکستانی کی لاش کو جلنے سے بچا لیا گیا۔جاوید بھٹی سٹٹگارٹ۔،۔

شان پاکستان جرمنی سٹٹگارٹ۔ شیخ منیر احمد صدر۔ پاکستان ویلفیئر سوسائٹی سٹٹگارٹ نے شان پاکستان کے نمائندہ خصوصی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ حال ہی میں ایک 24سالہ پاکستانی نوجوان نے نا معلوم وجوعات کی بنا پر سٹٹگارٹ کے علاقہ میں خود کشی کر لی تھی ،جس کو تو نہ کوئی جانتا تھا نہ کسی سے اس کی جان پہچان تھی سرکاری اہلکاروں نے اس کی لاش کو جلانے کا فیصلہ کر لیا تھا اس کی شناخت ملنے پر قونصلیٹ جنرل آف پاکستان فرینکفرٹ کو مطلع کر دیا گیا ،قونصلر اشہر شہزاد نے ۔پاکستان ویلفیئر سوسائٹی سٹٹگارٹ۔ Pakistan Welfare Society Stuttgart کے صدر جناب شیخ منیراحمد صاحب سے رابطہ کیا کہ وہ وقت نکال کر 24 سالہ سلیم نامی لڑکے کا پتہ کریں ، شیخ منیر جو عرصہ دراز سے سٹٹگارٹ میں مقیم ہیں اور کسی تعارف کے محتاج نہیں* شیخ منیر سیاسی، سماجی اور مذہبی شخصیت ہیں* وہ اپنا کاروبار چھوڑ کر فوراََ سلیم کی تلاش میں نکل پڑے ، سرکاری اہلکاروں نے ان کو بتایا کہ 11:00 Uhrبجے لاش کو جلا دیا جائے گا گاڑی لاش کو لے کر جا چکی ہے انہوں نے سرکاری اہلکاروں کو اپنا فیصلہ سنا دیا کہ کسی قیمت پر ایک مسلمان کی لاش جلانے کی اجازت نہیں آپ فوراََ ڈرائیور سے رابطہ کریں اور مجھے بتائیں کہ کہاں پہنچنا ہے جس پر اہلکاروں نے کہا کہ ہمارا تقریباََ 1800Euroیورو کا خرچہ ہوا ہے جس پر انہوں نے صرف ایک بات کی لاش جلائی نہیں جائے گی اور میں پہنچ رہا ہوں ،موقعہ پر پہنچنے کے بعد انہوں نے لڑکے کے بیگ میں سے پاکستان کا ایڈریس نکال کر پاکستان رابطہ کیا قونصلیٹ سے دوبارہ رابطہ کیا ، قونصلیٹ جنرل آف پاکستان فرینکفرٹ نے لاش کو سرکاری خرچہ پرپاکستان بجھوانے کا عندیہ دیا اور شیخ منیر نے اس طرح ایک مسلمان کی لاش کو جلنے اور لاش کی بے حرمتی ہونے سے بچا لیا، انہوں نے خود سے ہمیں نہیں بتایا جب شان پاکستان کے مہتمم کو علم ہوا تو ہمارے پوچھنے پر انہوں نے تمام کہانی سنائی۔

zu