-،-عورت حقیقت میں اطاعت ‘ خدمت اور وفا کا پیکر ہے‘ جی کیو ایم-،-
اللہ نے ماں کے قدموں تلے جنت رکھ کرعورت کے احترام کو انسان پر فرض کیا ہے‘ عرفان سولنگی
شوہر کی خدمت ‘ بچوں کی تربیت ‘خاندان کی کفالت کیساتھ خواتین قومی معاملات پر بھی توجہ دیں !

کراچی ( اسٹاف رپورٹر )خواتین کے عالمی دن پر گجراتی قومی موومنٹ شعبہ خواتین کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار بعنوان ’’ پاکستانی خواتین کے مسائل اور ان کا حل ‘‘سے خطاب کرتے ہوئے گجراتی قومی موومنٹ کے سربراہ گجراتی سرکار عرفان سولنگی عرف پٹی والا ‘ روشن پاکستان پارٹی کی سربراہ الماس سولنگی ‘ پاکستان راجونی اتحاد کے رہنما امیر علی خواجہ ‘پاکستان سولنگی اتحاد کے رہنمانعمت اللہ سولنگی ‘ جونا گڑھ اسٹیٹ مسلم فیڈریشن کے رہنما محمد اقبال ساندھ ‘ دی آل میمن جنرل جماعت کے رہنما محمد یونس سایانی ‘ فرزند جونا گڑھ اقبال چاند ‘ سایانی ویلفیئر کی روح رواں فاطمہ میمن‘ماہر قانون ایڈوکیٹ الطاف میمن ‘ ایڈوکیٹ صدیق بلوچ ‘ گجراتی فورم کے رہنما ملک اسلم ‘ محب قومی فورم کے رہنما محمد اسلم خان فاروقی و دیگر نے کہا ہے کہ عورت اطاعت ‘ خدمت اور وفا کا پیکر ہے اسی لئے ماں ‘ بہن ‘ بیوی و بیٹی ہر روپ میں مرد کیلئے ایک نعمت ہے اور اللہ نے ماں کے قدموں تلے جنت رکھ کرعورت کے تقدس کو انسان پر فرض کیا ہے جبکہ تاریخ بتاتی ہے کہ عورت نے ہر دور میں مردوں کے شانہ بشانہ میدان جنگ سمیت ہر شعبہ میں اپنا کردار ادا کرکے نہ صرف اپنی سرزمین و قوم کی حفاظت کی ہے بلکہ اس کی تعمیرو ترقی میں اہم کردار ادا کرنے کیساتھ اپنے گھر کو سنوارنے اور فیملی کو سنبھالنے کا فریضہ بھی ادا کرتی رہی ہے ۔ اس موقع پر گجراتی سرکا ر عرفان سولنگی نے کہا کہ عورت کا مقام سمجھنے ‘ اسے عزت و مرتبہ دینے اور اس کی تعظیم و تکریم کرتے ہوئے خواتین کے کردار و شمولیت سے قومی ترقی کی رفتار تیز کرنے کی بجائے جاہلانہ مزاج ‘ فرسودہ رسومات ‘باطل عقائد اور جاگیردارانہ نظام کی وجہ سے خواتین کو ان کے جائز حقوق سے محروم کیا اور ہر سطح پر ان کا استحصال کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں نہ تو عورت کی عزت محفوظ ہے ‘ نہ ہی اس کی جان اور نہ ہی اسے معاشی و معاشرتی تحفظ حاصل ہے کیونکہ ایوانوں میں خواتین کی نمائندگی نہ ہونے کے برابرہے اور جو نمائندگی حاصل ہے اس پر بھی استحصالی طبقات کی ان خواتین کا قبضہ ہے جوخواتین کے حقیقی مسائل سے سرے سے واقف ہی نہیں ہیں اسلئے ضروری ہے کہ غریب اور متوسط طبقے کی خواتین خود کومحنت مزدوری کرکے خاندان کی کفالت کے فریضہ تک محدود رکھنے کی بجائے تعلیمی ‘ کاروباری ‘ اقتصادی ‘صنعتی ‘ ثقافتی شعبوں کے ساتھ سیاست میں بھی آگے آئیں کیونکہ جب تک متوسط و غریب طبقہ کی حقیقی نمائندہ خواتین سیاسی ایوانوں میں پہنچ کر ان کے حقوق و تحفظ کیلئے اپنا کردار ادا نہیں کریں گی اس وقت تک عام خواتین کی حالت وحالات میں کوئی بہتری نہیں آئے گی جبکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کی آبادی میں خواتین کا تناسب نصف سے زیادہ ہے اسلئے انہیں تمام شعبوں میں کم ازکم نصف نمائندگی بھی ملنی چاہئے اسلئے گجراتی قومی موومنٹ اس بات کا اعلان کرتی ہے کہ عام انتخابات میں گجراتی قومی موومنٹ جتنی بھی نشستوں پر حصہ لے گی ان میں سے نصف پر متوسط و غریب طبقہ کی تعلیم یافتہ ‘ باشعوراور عزم و حوصلہ رکھنے والی ‘ مخلص و سماجی فطرت رکھنے والی خواتین کو ٹکٹ دیکر انتخاب لڑائے گی جبکہ ہم ہر ماں ‘ بہن اور بیٹی سے اس بات کی اپیل بھی کرتے ہیں کہ وہ انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اپنا ووٹ ڈالنے کیساتھ اپنے اہلخانہ کے ہر فرد کو اپنے ووٹ کے یقینی استعمال پر قائل کریں اور استحصالی طبقات کے نمائندوں کی بجائے ان لوگوں کو ووٹ دیں جوہم میں سے ہیں ہم جیسے غریب ہیں اور ان تمام دکھوں ‘ تکالیف ‘ پریشانیوں و مسائل سے گزرتے ہیں جن سے ہم گزررہے ہیں تو یقیناًیہ منتخب ہوکر اپنے اردگرد کے مسائل کے حل کیلئے اپنا کردار اداکرینگے جس کا فائدہ بہتر طوراکثریت وعوام کو پہنچے گا جبکہ خواتین اپنے مسائل کے حل کیلئے ووٹ ڈالنے کیلئے گھروں سے نکلیں اور کوشش کریں کہ ہمارے ووٹ سے غریب و متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے زیادہ سے خواتین و مرد نمائندگان منتخب ہوکر اسمبلیوں میں پہنچیں کیونکہ اسمبلیوں میں استحصالیوں کی نمائندگی کی وجہ سے ملک میں ہر کام استحصالیوں کے مفادات کیلئے ہورہا ہے اسلئے جب اسمبلیوں میں غریبوں کے غریب نمائندے ہوں گے تو پھر ملک میں ہر کام غریبوں کی سہولت اور عوامی و قومی مفاد میں ہوگا !