-،-ڈیفنس میں مندر کی تعمیر سے مذہبی فساد کا خطرہ ہے ‘ جی کیو ایم-،-
پارک کیلئے مختص پلاٹ پر مندر کی تعمیر کو بنیاد پرست حلقے مذہبی ایشو بناکر امن برباد کردینگے!
ڈیفنس میں مندر کی تعمیر ہندوکمیونٹی کی جان و مال کو خطرے میں ڈال دے گی!‘ عرفان سولنگی

کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) گجراتی قومی موومنٹ کے سربراہ گجراتی سرکار عرفان سولنگی عرف پٹی والا نے ڈیفنس میں پارک کیلئے مختص ایک ایکڑ کے پلاٹ پر مندر کی تعمیرکے منصوبے کی اطلاعات پر اظہار تشویش کرتے ہوئے اسے بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے نقصان دہ قرار دیا ہے اورکہا ہے کہ اسلام اور آئین پاکستان‘ دونوں ہی تمام مذاہب کے احترام اور اقلیتوں کیساتھ حسن سلوک کولازم قرار دیتے ہوئے اقلیتوں کو اپنی مذہبی رسومات و عبادات کی پوری اجازت دیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے تقریباً تمام ہی شہروں میں مساجد کے علاوہ مندر ‘ چرچ ‘ گردوارے ‘ کلیسائیں اور دیگر عبادتگاہیں موجود ہیں جن میں عبادت کیلئے ہر مذہب سے تعلق رکھنے والی اقلیت کو پوری آزادی حاصل ہے اور اقلیتوں کی بڑھتی آبادی کے پیش نظر ان کے اکثریتی علاقوں میں ان کی ضرورت کے مطابق عبادتگاہوں کی تعمیر بھی ضروری ہے کیونکہ ہندو کمیونٹی بھی محب وطن کمیونٹی ہے جس کی پاکستان کی تعمیر وترقی میں خدمات گرانقدر ہیں مگر ہندواکثریت سے محروم ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی میں پارک کیلئے مختص پلاٹ پر مندر کی تعمیر کو بنیاد وفرقہ پرست حلقے اپنے مفادات کی تکمیل کیلئے اشتعال انگیزی اور فساد کیلئے استعمال کرسکتے ہیں جس سے کراچی میں امن عامہ کا مسئلہ پیدا ہوسکتاہے جبکہ اگر کسی نے فساد بھڑکایا تو اس کا سب سے زیادہ نقصان ہندوؤں اور دیگر اقلیتوں کو ہی پہنچے گاکیونکہ بھارت میں بابری مسجد کی شہادت ‘ ذبیحہ پر پابندی ‘ مسلمانوں پر بلوائی حملے ‘ بھارتی انتہا پسند تنظیموں کے مسلم دشمن کردار ‘ کئی ریاستوں میں اذان پر پابندی ‘ پاکستان کیخلاف بھارتی سازشیں اور نریندر مودی کی مسلمان و اسلام دشمن ممالک سے قرابت داری کے باعث پاکستانی پہلے ہی خائف و مشتعل ہیں اسلئے مذکورہ منصوبہ مندر کی تعمیر ہندوکمیونٹی کے مفاد کا نہیں بلکہ پاکستان میں بسنے والے ہندوؤں کے جان و مال کیلئے خطرات اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو بدنام کرانے اور بین الاقوامی پابندیوں میں مزید اضافہ کرانے کاپیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے اسلئے مقتدر طبقہ اپنے سیاسی مفادات کی بجائے قومی مفاد اور بالخصوص ہندو کمیونٹی کی جان و مال کے تحفظ کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنی ترجیحات تبدیل کرے جبکہ قومی تحقیقاتی ادارے اس حوالے سے اپنے فرائض و کردار ادا کریں !