-،-پاکستان کوویلفیئراسٹیٹ بنانااشرافیہ کاایجنڈا نہیں۔ دانش ملک-،-

پاکستان اوورسیز کی ممتاز سماجی ،کاروباری شخصیت اور بینکار دانش ملک نے کہا ہے کہ جس طرح گھوڑاگھاس سے دوستی نہیں کرسکتا اس طرح سرمایہ دار مزدوروں ورکسانوں کے ہمدرد نہیں ہوسکتے۔عام آدمی کومسائل سے نجات کیلئے وسائل کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔شہریوں کواپنی زندگی کابوجھ اٹھانے کے قابل بنایاجائے۔پاکستان میں مائیکروفنانس کے فروغ سے کشکول ٹوٹ جائے گا۔ علامتی ترقی سراب اورعذاب ہے،اس سے عام آدمی کامعیارزندگی بلندنہیں ہوگا۔جہاں تعلیم اورصحت کاڈھانچہ تک نہ ہو،انسانوں کوپینے کاصاف پانی نہ ملے اورانصاف کامنتظرمدعی ایڑیاں رگڑ رگڑ کے مرجائے وہاں تقریباً ایک سوارب روپے سے ایک شاہراہ تعمیرکرنا محض ایک شعبدہ بازی ہے۔ وہ اپنے اعزازمیں ایک استقبالیہ سے خطاب کررہے تھے۔ دانش ملک نے مزید کہا کہ سرمایہ دارسیاستدانوں کاگروہ سرمایہ دارانہ نظام کا پاسبان اوراوراپنے طبقہ کا ترجمان ہے۔پاکستان کوویلفیئراسٹیٹ بنانااورطبقاتی تقسیم ختم کرنا حکمران اشرافیہ کاایجنڈا نہیں ہوسکتا۔انہوں نے کہا کہ آنیوالے خطرات کابروقت ادراک اوران کابھرپور سدباب کرنا ہی درحقیقت ویژن ہے مگر پاکستان کے سیاستدان ان صفات سے عاری ہیں ۔ بلاشبہ مستقبل میں پاکستان اوربھارت کے درمیان پانی پرجنگ ہوگی مگراس کے باوجود حکومت کی طرف سے قومی ضروریات کے مطابق نئے ڈیم بنانے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ اگردھرنے کے نتیجہ میں پارلیمانی پارٹیاں جھرلو پارلیمنٹ اورغلام جمہوریت کوبچانے کیلئے متحدہوسکتی ہیں تو کالاباغ ڈیم تعمیر جبکہ بھارت کی آبی جارحیت کامقابلہ کرنے کیلئے اتحادویکجہتی کامظاہرہ کیوں نہیں کیا جاسکتا ۔پارلیمنٹ کاوجود نہیں ریاست کی بقاء اور سا لمیت اہم ہے ، انتہاپسندبھارت کے ساتھ کشمیر،پانی اورورکنگ باؤنڈری پرفائرنگ سمیت دوسرے تنازعات پردوٹوک اندازمیں بات کی جائے ۔امریکہ ،اسرائیل اوربھارت کے درمیان اتحاداسلام دشمنی کاشاخسانہ ہے ، پاکستان کوامریکہ پرانحصارختم کرناہوگا۔