۔،۔ حاصل بزنجو کی نئی منطق ۔پارلیمنٹ کا منہ کالا ؟ ( پہلو۔ صا بر مغل )۔،۔

محمد صادق سنجرانی 12مارچ کو پاکستانی تاریخ میں پہلے چیر مین سینٹ ہیں جن کا تعلق بلوچستان سے ہے،ان کا مقابلہ حکمران جماعت کے سینئر رہنماء اور سابق آرمی چیف و صدر مملکت جنرل ضیاء الحق کے اوپننگ بیٹسمین سے تھا،ان کے منتخب ہونے پر حکمران جماعت کو چیر مین و ڈپٹی چیر مین سینٹ کے انتخاب میں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا تو جہاں ایک جانب طوفان بد تمیزی برپا ہو گیا وہیں ایک روز قبل تک مسلم لیگ (ن) کی جانب سے چیر مین کے لئے متوقع امیدوار میر حاصل بزنجو کی تقریر نے ہر محب وطن شہری کو سوچنے پر مجبور کر دیا کہ یہ کیسے کیسے عجوبے ہم پر مسلط ہیں،چیر مین و ڈپٹی چیر مین کا انتخاب خفیہ بلیٹ پیپر کے ذریعے ہوتا ہے،صادق سنجرانی کے منتخب اور حلف اٹھانے کے بعد بلوچستان سے ہی تعلق رکھنے والے میر حاصل بزنجو نے سینٹ میں تقریر کرتے ہوئے کہا،آج پارلیمان کا منہ کالا ہوا ہے ایوان میں بیٹھنے سے شرم آتی ہے خدارا جمہوریت کو چلنے دیں چیر مین و ڈپٹی چیر مین کے چناؤ کے لئے ووٹنگ کے عمل سے ثابت ہوا کہ بالا دست طاقتیں پارلیمنٹ سے زیادہ طاقتور ہیں اور پارلیمنٹ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے اس جیت سے جمہویرت کی ہار ہوئی ہے نو منتخب چیر مین کوکس بات کی مبارک دوں ،کیا پارلیمنٹ کو مسمار کرنے کی مبارک دوں؟اس بلڈنگ کو گرانے کے بعد بلوچستان کا نام لیا جا رہا ہے صوبائی اسمبلیوں کو منڈی بنا دیا گیا ہے حقیقت یہ ہے کہ جب ہم نے لوگوں سے ووٹ مانگنے کی بات کی تو انہوں نے شورلڈرز کی طرف اشارہ کر تے ہوئے کہا کہ مجبوری ہے ووٹ نہیں دے سکتے آج تاریخ کا بد ترین دن ہے،اسی روز میڈیا سے بات کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے نظریاتی بھائی محمود اچکزئی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سینٹ انتخاب میں جمہوری و غیر جمہوری قوتوں کے مابین جنگ شروع ہو گئی جس میں آج جمہوری قوتوں کو شکست ہوئی آج زر اور زور کی بنیاد پر الیکشن کرائے گئے جس سے فیڈریشن کی بنیادیں ہل گئیں بد قسمتی سے 1997کے بعد آج تک کسی بھی اہل شخص کو آگے نہیں دیا گیا غیر جمہوری قوتیں سیاستدان تیار کرنے کی کوشش کرتی ہیں حالانکہ سیاستدان تیار نہیں پید ا ہوتے ہیں،سینیٹرمیر حاصل بزنجو نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر ہیں جن کا شمار بلوچستان کے سینئر سیاستدانوں میں ہوتا ہے جنہوں نے 60سال قبل ضلع خضدار کی تحصیل نال جو ضلعی مقام سے 48کلومیٹر دور ہے میں سابق گورنر بلوچستان میر غوث بخش بزنجو کے گھر آنکھ کھولی،ضلع خضدار کے اہم قبائل میں بزنجو،مینگل،ساسولی،محمد حسنی،جتک،مردونی ،خدرانی اور شاہرانی شامل ہیں،بعد میں وہ کوئٹہ آگئے ان کا خاندان سات پشتوں سے بلوچستان میں آباد ہے ان کے دادافقیر محمد بزنجو محراب خان کے زمانے میں مکران ڈویژن میں40سال تک خان آف قلات کے نائب رہے (اس زمانے میں خان کے نائب کی حیثیت گورنر کے مساوی ہوتی تھی)،سٹوڈنٹس پالیٹکس سے سیاست کا آغاز کیا 1988میں پاکستان نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کی ،1990میں ان کے بھائی بیزن بزنجو نے عام اتنخابات میں قومی اسمبلی کی دو نشستوں پر کامیابی حاصل کی بعد ازاں ان کی چھوڑی ہوئی نشست پر میر حاصل بزنجو ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے،1996میں وہ پارٹی کے صدر منتخب ہوئے 2002میں ان کی پارٹی اور بلوچ نیشنل موومنٹ کا الحاق ہوا اور یوں پارٹی کے نام سے پاکستان کا نام حذف کر دیا گیا جس کے چیف آرگنائزر ڈاکٹر عبدالحی بلوچ اور آرگنائزر حاصل بزنجو منتخب ہوئے ،بلوچ نیشنل موومنٹ فرنٹ کے نام سے بننے والی پارٹی جس کا بعد میں نام بلوچ نیشنل موومنٹ رکھا گیا کی شاخیں ایران،افغانستان اور متحدہ عرب امارات میں بھی ہیں اس پارٹی کے صدر غلام محمد بلوچ اور جنرل سیکرٹری لالہ منیر بلوچ تھے ان دونوں رہنماؤں کو اپریل2009میں تربت میں قتل کر دیا گیا تھا،میر حاصل بزنجو کا جس پارٹی سے الحاق ہوا ان کا مؤقف اور پروگرام آزاد بلوچستان کا قیام تھا جس میں ایران ،افغانستان اور پنجاب کو بعض بلوچ علاقے بھی شامل ہوں گے،یہ علیحدگی پسند لیڈر 2009میں پیلی مرتبہ سنیٹر منتخب ہوئے جبکہ 2015میں موجودہ حکمران جماعت کی جانب سے چیر مین سینٹ کے لئے امیدوار بھی تھے،نواز شریف نے انہیں پورٹ اینڈ شپنگ کی منسٹری کا قلمدان دیا شاہد خاقان عباسی کے دور میں پورٹ اینڈ شپنگ کے علاوہ انہیں میری ٹائم افیرز کا چارج بھی مل گیا،ایک علیحدگی پسند اورلسانیت کی سوچ سے لبریزشخصیت جو محمود اچکزئی کی طرح پاکستان کا نقشہ بدلنے کی ہی داعی ہو ،وہ مسلم لیگ کا چیر مین سینٹ کے لئے امیدوار ہو اسے قومی سوچ نہیں بلکہ مفاداتی سوچ اور نظریہ ہی کہا جا سکتا ہے،حیرت تو یہ بھی ہے کہ حاصل بزنجو اس بار بھی مسلم لیگ کے مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آ رہے تھے مگر ان کی راہ میں اختر مینگل آ گئے جس کے باعث مسلم لیگی قیادت کو فیصلہ بدلنا پڑا،بہت دکھ ہوا حاصل بزنجو کو،محمود اچکزئی کو ،میاں نواز شریف اینڈ کمپنی کو تو ہونا ہی تھا اگربلند و بانگ دعوؤں کے باوجود مسلم لیگ (ن)کا امیدوار راجہ ظفر الحق کامیاب نہیں ہوا تو اس سے ایوان کا منہ کالا ہو گیا؟یہ کس نے کیا؟ کس نے کرایا؟ حب الوطنی ہے تو ذرا ان کا نام کیوں نہیں لیتے تا کہ قوم کو علم ہو کہ ملک میں بہت بڑی سازش ہو رہی ہے،جمہوریت تباہ کی جا رہی ہے مگر کیسے ؟ویسے بھی یہاں وہ جمہوریت کا نظام رائج ہے وہ صرف اور صرف اشرافیہ کے لئے ہے ،عوام کو اس جمہوریت نے اب تک دیا کیا ہے؟میاں نواز شریف کہتے ہیں سب ایک ہی جگہ سجدہ ریز ہو گئے ،کیسے جی ؟پیٹ پھاڑنے،گلیوں،سڑکوں پر گھسیٹنے ،لٹی دولت واپس ،مسٹر ٹین پرسنٹ کی باتیں ماضی میں کون کرتا رہا؟اقتدار کو ڈوبنے کے ڈر سے مدد واسطے اسی آصف علی زرداری کے لئے ریڈ کارپٹ کس نے بچھایا؟کئی اقسام کے کھانے کس نے تیار کروائے؟اسے سیاست کہتے ہیں کوئی اور کرے تو اسے سازش کہتے ہیں،نظریہ تو یہاں تک آن پہنچا کہ سیاست میں سب جائز سمجھتے ہوئے مخالف جماعت کے رکن رضا ربانی کو مشترکہ امیدوار کی پیشکش کر دی،اب ڈھول کو پیٹتے جائیں اتنی ہی آواز تمہاری ہی ناکامی کی کانوں تک پہنچے گی،وہ کردار اپنی سوچ کے مطابق اور کسی کے کہنے پر نام لئے بغیر فوج کا نام لے رہے ہیں ،اگر حاصل بزنجو کا نام فائنل ہوتا یا جیت جاتے تو ایوان بالا کی یہ بلڈنگ رنگ و نور سے نہا جاتی ،جو خود کالے ہوں ،جن کے ذہن آلودہ ہوں،جن کی سوچ پر علیحدگی پسندی کا عنصر غالب ہو ،جو بلوچستان کو بھارتی ،اسرائیلی،امریکی سازش کے مطابق فری بلوچستان کے حامی ہوں وہ مقدس ایوان میں فرما رہے ہیں ،ایوان کا منہ کالا ہو چکا ہے ،مزید کہا گیا پارلیمان میں طاقت اور جمہوریت کا مقابلہ تھا ،ذرہ بتائیں ہمیں آپ سے بڑھ کر کون طاقتور ہے جس نے ہم جیسوں کا جینا دوبھر کر رکھا ہے ہمیں قرضوں سے لاد دیا گیا ہے،ہم سے صحت،تعلیم جیسی بنیادی سہولتیں بھی چھین لیں،خود ٹیکس دیتے نہیں ہم سے ہر چیز پر ٹیکس حتیٰ کہ پٹرول ڈیزل پر چالیس روپے سے زائد جگا ٹیکس ؟غضب خدا کا ہمیں کس قسم کے سیاست دان نصیب ہوئے ہیں ،خدا ہر اس لعنتی سیاستدان سے قوم کو بچائے جو لوٹ مار میں ملوث اور کرپٹ ترین ہے ،حکمران جماعت کی شکست کے اصل ذمہ دار ان تو آپس میں اختلافات اور جے یو آئی ارکان ہیں جبکہ نام شولڈرز والوں کا لیتے ہو ؟؟؟