۔،۔لوح و قلم تیرے ہیں۔ ڈاکٹرساجدخاکوانی -،-
منگل مورخہ 3اپریل 2018 بعد نماز مغرب قلم کاروان کی ادبی نشست مکان نمبر1اسٹریٹ 38،G6/2اسلام آبادمیں منعقد ہوئی۔ ایجنڈے کے مطابق آج کی ادبی نشست میں کمانڈر(ر)محمود اقبال کامضمون’’عصری تقاضے اور نظریہ پاکستان کی حقانیت‘‘اوربزرگ شہریوں کے آئینی حقوق پر کوکب اقبال ایڈوکیٹ کی کارگزاری پیش ہوناطے تھا۔پروفیسر(ر)راجہ عبدالحفیظ ایڈوکیٹ نے صدارت کی۔بزرگ دانشور ڈاکٹرعطااﷲخان نے تلاوت اورترجمہ اورجناب حبیب الرحمن چترالی نے مطالعہ حدیث پیش کیااوراس کے بعدساجدعباس عباسی نے گزشتہ نشست کی کاروائی پڑھ کر سنائی۔صدر مجلس کی اجازت سے جناب کمانڈر(ر)محمود اقبال نے اپنی تحریر بعنوان’’عصری تقاضے اور نظریہ پاکستان کی حقانیت‘‘پیش کی،تحریرمیں مغل بادشاہوں کے ہاتھوں ہندوستان میں انگریزوں کو مداخلت کی اجازت سے دورغلامی،تحریک پاکستان اورقیام پاکستان کے حالات کا مختصرسانقشہ کھینچاگیاتھا،صاحب مضمون نے آخرمیں بڑی ہی گھمبیرآواز میں ان لوگوں کارونارویاجو آج بھی پاکستان میں رہتے ہوئے نظریہ پاکستان سے انکاری ہیں اور پاکستان کو اور قائداعظم ؒ کو سیکولرقراردینے کی مذموم کوششوں میں مصروف ہیں۔مضمون پرتبصرہ کرتے ہوئے حبیب الرحمن چترالی نے کہا کہ قائداعظم ؒ نے مسلمانوں سے باقائدہ خطاب کرتے ہوئے کہاتھاکہ پاکستان کاآئین قرآن مجیدہوگااوراس خدادادمملکت کا دستور ریاست مدینہ منورہ کی طرز پر ہو گا۔جناب شاکرعلی نے کہاکہ انگریزوں کو شہزادہ خرم شاہجہاں نے اجازت نہیں دی تھی بلکہ اس سے قبل شہنشاہ اکبراعظم انہیں ہندوستان میں درآنے کی اجازت دے چکاتھا۔میرافسرامان نے تحریرکے بارے میں پسندیدگی کااظہارکیااور کہاکہ دنیامیں میں دوہی ریاستیں اپنانظریاتی وجود رکھتی ہیں،ایک اسرائیل اور دوسری اسلامی جمہوریہ پاکستان،انہوں نے کہاکہ اسرائیل کے نظریے میں وہاں کاعلاقہ بھی شامل ہے جبکہ نظریہ پاکستان کاحوالہ اسلامی نظریہ حیات کے باعث پورے عالم پر محیط ہے۔ڈاکٹرعطااﷲخان نے کہا کہ مقاصد پاکستان کے حصول کے لیے مملکت میں عدل و انصاف کاہوناازحد ضروری ہے،انہوں نے کہا کہ برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم صرف عدلیہ کے شاندار کردارکی وجہ سے جیتی ہے۔جناب ساجد حسین ملک نے بھی ڈاکٹرعطااﷲخان کی حمایت کی اور کہاکہ جب تک عدل نہیں ہوگا اس وقت تک کوئی معاشرہ یاریاست اپناوجود برقرارنہیں رکھ سکتے۔جناب اکرم الوری نے کہاکہ کہ قوموں میں ہماری پہچان عقیدہ توحید ہے،جب تک ہمارے عقائد پختہ تر نہیں ہوں گے تب تک کوئی نظریہ بھی اپنا کرداراداکرنے سے قاصر رہے گا۔مضمون پر گفتگوکے مکمل ہونے کے بعد جناب کوکب اقبال ایڈوکیٹ نے بزرگ شہریوں کے آئینی حقوق پر اپنی عدالتی درخواست پرکاروائی کی کارگزاری سنائی اور اب تک کی ہونے والی پیش رفت سے حاضرین کو آگاہ کیا۔محفل کے خالص علمی ماحول میں جزوی مفرحات کے لیے جناب عبدالرازق عاقل نے اپنی تازہ غزل نذر سامعین کی جسے پسند کیاگیا۔آخرمیں صدرمجلس جناب پروفیسر(ر)راجہ عبدالحفیظ نے خطاب کیاانہوں نے مقالے کو بے حد پسند کیااور کہاکہ اگر نظریہ پاکستان کو استحکام نصیب رہتاتو وطن عزیز دولخت کبھی نہ ہوتا،انہوں نے سقوط ڈھاکہ سے قبل کے متعدد واقعات سنا کر بتایا کہ مشرقی پاکستان کے لوگ نظریہ پاکستان کے زبردست حامی تھے۔صدر مجلس نے کوکب اقبال ایڈوکیٹ کی مساعی کو بھی سراہا۔اس خطاب کے ساتھ ہی نشست اختتام پزیرہوگئی۔