۔، ۔ تدارک کا راستہ ۔طارق حسین بٹ شانؔ (چیرمین) مجلسِ قلندرانِ اقبال۔،۔
tariq
ؐ۱۹۴۶ ؁ کے انتخابات میں قائدِ اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں مسلم لیگ پورے زوروں پر تھی اور پورے ہندوستان میں اس کے د وقومی نظریے نے اتعاش پیدا کر رکھا تھا ۔مہاتما گامدھی،سردارپٹیل ، پنڈت جواہر لال نہرو اور ابو الکلام آزاد ان کی نظریاتی قوت کے سامنے بے بس تھے۔ تقسیم کی ایک لکیر تھی جو ایک نئی قوم کو جنم دینے کیلئے ابھی تک پردہِ اخفا میں تھی۔وہ لکیر ہر صاحبِ ایمان کے دل میں تو موجود تھی لیکن ابھی زمین پر اسے کھینچا جانا باقی تھا۔۱۹۴۶ ؁ کے انتخابات در اصل اسی لکیر کو حقیقت بنانے کا عزم تھے ۔قائدِ اعظم نے اس مقصد کیلئے ہندوستان کے چپے چپے کا دورہ کیا تا کہ تاریخی جیت میں کوئی کسر باقی نہ رہ جائے ۔سندھ کی ایک نامی گرامی شخصیت جی ایم سیدجو انتہائی مضبوط اور با اثر تھی مسلم لیگی امیدوار کے مدِمقا بل تھی ۔قائدِ اعظم محمد علی جناح کی حواہش تھی کہ جی ایم سید کے مقابلے میں مسلم لیگی امیدوار کو فتح نصیب ہو لہذا وہ خود اس حلقے میں تشریف لے گے۔ اپنے مافی الضمیر کودو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ یہ نشست ہمیں بڑی عزیز ہے لیکن پھر بھی میں کبھی نہیں چاہوں گا کہ مخالف امیدوار کو دھاندلی یا غیر جمہوری ہتھکنڈوں سے شکست دی جائے بلکہ ہماری جیت واضح، شفاف اور بے داغ ہو نی چائیے ۔یہ تھی وہ قوم جس کی قیادت قائدِ اعظم نے اتحاد، ایمان اور تنظیم کے سنہری اصولوں پر قائم کی تھی اور جس کی زرخیز مٹی میں امانت و دیانت کے اجلے بیج بوئے تھے لیکن وقت کے بے رحم ہاتھوں نے اسی قوم کو کرپشن،بد دیانتی اور بے ایمانی کا پیکر بنا کر اسے اقوامِ عالم کے سامنے ننگا کھڑا کر دیا ہے ۔کیا کوئی اس بات پریقین کر سکتا ہے کہ اپنے وجود کے قیام و بقا کیلئے لاکھوں انسانوں کی قربانی دینے والی قوم محض ستر سالوں میں دنیا کی کرپٹ ترین قوم بن جانے کا اعزاز پائیگی؟اصل میں جس قوم سے ان کا نظریہ چھن جاتا ہے اور جو اپنے محور سے ہٹ جاتی ہے اس کے ساتھ ایسے ہی ہوا کرتا ہے۔وہ دعووں،بڑھکوں اور باتوں کی حد تک تو دنیا کی امامت کی امیدوار بنی پھرتی ہے لیکن اس کے اعمال اس قابل نہیں ہوتے کہ اس کیلئے میزان بھی کھڑی کی جائے ۔کردار کی قوت چھن جائے تو کوئی کلمہ،کوئی،تعویز،کوئی نعرہ اور کوئی منتر کارگر نہیں ہوتا کیونکہ الفاظ و اقوال اپنی معنویت کھو کر بے اثر ہو جاتے ہیں ۔یہ محض ایک میکانکی عمل ہوتا ہے جس میں نتائج پیدا کرنے کی قوت باقی نہیں رہتی۔ ادب میں اس کیفیت کو با نجھ پن سے تشبیہ دی جاتی ہے۔زبانیں ورد تو کرتی ہیں،الفاظ کا پر شکوہ استعمال بھی کرتی ہیں،بلند بانگ دعووں سے ایک ہالا بھی بنتی ہیں لیکن محض الفاذ کی ادائیگی کی مشق سے معاشرہ میں بدلاؤ اور تبدیلی کا رنگ نہیں ابھرا کرتا ۔ شاعرِ مشرق نے اس ساری صورتِ حال کوکئی عشرے قبل اپنے انداز میں بیان کیا ہے ۔ پڑھیے اوروجد میں آ جائے ۔،۔
زبان سے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل ۔،۔ دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں
یہ ذکرِ نیم شبی، یہ مراقبے یہ سرور ۔،۔ تیری خودی کے نگہباں نہیں تو کچھ بھی نہیں
پی پی پی کو آج بھی پاکستان کی سب سے ترقی پسند جماعت سمجھاجاتا ہے ۔اس کا نظریہ اور اس کی جمہوری سوچ آج بھی عوام میں انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے ۔ ذولفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی جمہوری جدو جہد پوری دنیا کیلئے عزم و ہمت کا استعارہ ہے لیکن اس جماعت کی قیادت کو نجانے کس کی کی نظر لگ گئی کہ یہ اصولوں کی بجائے پیسے کی سیاست کے پیچھے چل پڑی ہے ۔ اس کی قیادت نے شائد یہ سوچ رکھا ہے کہ دولت کی منڈیوں میں خریدو فروخت سے پارٹی کی مقبولیت میں اضافہ کیا جا سکتا ہے حالانکہ انسان خریدو فروخت سے نہیں بلکہ اصولوں سے اپنی فتح کو ممکن بناتا ہے۔یہ پیسہ سیاست تو میاں محمد نواز شریف کی پہچان تھی لیکن انھیں بھی وقت کے بے رحم مشاہدات نے باور کروادیا ہے کہ ابدی جیت پیسے کی قوت سے نہیں بلکہ اصولوں کا علم تھامنے سے ممکن ہو تی ہے لہذا انھوں نے ووٹ کی حرمت اور تقدس کا نعرہ بلند کر دیا ہے ۔وہ کام جو پی پی پی کو کرنا تھا اس کا علم اب مسلم لیگ (ن) نے تھام لیا ہے ۔سینیٹ الیکشن ایک ایسا دوراہا ہے جس نے ہر اس جماعت کو جس نے خریدو فروخت کے کارِِ خیر میں دولت کی قوت،اس کی فراوانی اور اس کی چمک کا مظاہرہ کیا تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انسان اپنی غلطی کو تسلیم کرلے تو اس میں سدھار کی امید کی جا سکتی ہے لیکن جو اپنی غلطی کو تسلیم کرنے سے انکار کر دے قیامت تک اس میں سدھار نہیں آ سکتا۔پار لیمنٹ کی بالا دستی کیلئے سب سے زیادہ ذمہ داری پی پی پی کے کندھوں پر ہے کیونکہ جمہوریت کی خاطر اس کے قائدین نے قربانیاں دی ہیں لہذا اسے آگے بڑھ کر پارلیمنٹ کی مضبوطی اور اس کی عظمت کی خاطرخم ٹھونک کر سامنے آنا چائیے یہ سوچے بغیر کہ اس سے کس کو ریلیف ملے گا۔جب تک ہم ذاتی نفع اور نقصان کے دائرے سے باہر نہیں نکلیں گے کچھ بھی صیح نہیں ہو سکتا۔سچ کو کسی کی ذات کی منعفت اور نقصان کے ساتھ نتھی نہیں کیا جا نا چائیے بلکہ سچ کو اس کی اپنی روح کے تناظر میں دیکھنا چائیے۔۵۸ ٹو بی کے خاتمے کیلئے محترمہ بے نظیر بھٹو نے میاں محمد نواز شریف سے اس وقت تعاون کیا جب میاں محمد نواز شریف وزیرِ اعظم تھے لہذا اس آئینی ترمیم کا وقتی فائدہ انہی کو ملنا تھا لیکن بی بی شہید کی نظر میں ذاتی منعفت کی بجائے پارلیمنٹ کی بالادستی ،ا تقدس اور احترام کا ویژن تھا لہذا آئینی ترمیم منظور کی گئی ۔اس ترمیم کی منظوری سے اتنا تو ضرور ہوا کہ بے شمار سازشوں کے باوجود پارلیمنٹ کو تحلیل نہیں کیا جا سکا لہذا اسٹیبلشمنٹ کو عبوری حکومت کو انتظار ہے تا کہ وہ کھل کھلا کر اپنا کھیل کھیل سکے جو پارلیمنٹ کی موجودگی میں ممکن نہیں ہے ۔آج پارلیمنٹ جس طرح بے توقیر ہو رہی ہے بیان سے باہر ہے ۔کیا یہ بات کسی کے حیطہِ ادراک میں آ سکتی تھی کہ منتخب وزیرِ اعظم خاقان عباسی چیف جسٹس ثا قب نثار سے ملاقات کریں گے تو چیف جسٹس انھیں فریادی کہہ کر وزیرِ اعظم کے منصب کی توہین کریں گے؟اب تونو بت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ہر ادارہ منتخب ممبرانِ پارلیمنٹ کو جس طرح گھسیٹ رہا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے اور اس کی ذمہ دار پی پی پی کی قیادت پر عائد ہوتی ہے کیونکہ وہ اقتدار کی خاطر ان ہاتھوں میں کھیل رہی ہے جو جمہوریت پر شب خون میں شہرت رکھتے ہیں ۔ان چہروں کو سبھی پہچانتے ہیں لیکن کوئی اظہار کر نہیں سکتا کیونکہ اس کے بعد چراغِ زندگی گل کر دیا جاتا ہے ۔جمہوریت پر شب خون کی تازہ ترین سازش کی ابتدا اس دن ہوئی جب بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ختم کر کے آزاد ارکان پر مشتمل نئی صوبائی حکومت تشکیل دے کر اسے زمامِ اختیار سو نپی گئی ۔پی پی پی نے اس میں جو کردار ادا کیا قابلِ تحسین نہیں اور پھر سینیٹ چیرمین صادق سنجرانی کے انتخاب میں جو گل کھلائے گئے اور قومی وقار کو جس طرح خاک میں ملایا گیا انتہائی شرمناک ہے ۔صادق سنجرانی چیرمین تو منتخب ہو گئے لیکن اس سے جس نئے جمہوری کلچر کا آغاز ہوا ہے اس پر بندھ کون باندھے گا؟کیاقوم کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ ذاتی جیت کی خاطر جائز و ناجائز سب جاءئز ہے؟ ووٹ خریدنا جرم ہے اور وہ جرم پاکستان کی اعلی قیادتیں کررہی ہیں لیکن شومئیِ قسمت دیکھئے کہ ایسا گھناؤنا کھیل کھیلنے والوں کی عظمت کے گیت گائے جا رہے ہیں ۔عوام کھلی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔وہ رنگ کے اندر اور رنگ کے باہر بیٹھے ہوئے سارے کرداروں کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ان کی متفقہ رائے ہے کہ قانون و انصاف کا سارا ڈرامہ محض ایک جماعت کو کھڈے لائن لگانے کیلئے رچایا جا رہا ہے۔ایک زمانہ تھا کہ پی پی پی اس نشانہ پر ہوا کرتی تھی کیونکہ اس کی لیڈر شپ بہادر، مقبول تھی اور عوامی جذبات کی پاسدار تھی لیکن محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد اب مسلم لیگ (ن) نشانہ پر ہے کیونکہ وہ بھی اسٹیبلشمنٹ کے مدِ مقابل کھڑی ہے ۔درد بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔جیسے جیسے سختیاں اور سازشیں بڑھ رہی ہیں میاں محمد نواز شریف کے موقف میں بھی سختی آتی جا رہی ہے جس سے خلفشار اور ہیجان میں بے انتہا اضافہ ہوتاجا رہا ہے اور قومی یکجہتی کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ رہا ہے لہذا س کے تدارک کاراستہ تلاش کرنا انتہائی ضرور ی ہے ۔،۔