-،-پی ایس پی کے قیام سے ڈر کی سیاست کاڈراپ سین ہوگیا ۔الطاف شاہد-،-
حالیہ دنوں وابستہ ہونیوالے ارکان قومی وصوبائی اسمبلی ہمارے سرکاتاج ہیں

پاک سرزمین پارٹی برطانیہ ویورپ کے صدر چودھری محمدالطاف شاہد نے کہا ہے کہ پی ایس پی کے قیام سے ڈر کی سیاست کاڈراپ سین ہوگیا ۔سیّدمصطفی کمال کی قیادت پراعتماد کرتے ہوئے پی ایس پی میں آنیوالے ہرگز مایوس نہیں ہوں گے۔پی ایس پی روشن سیاسی مستقبل کی ضامن ہے،وہ ارکان قومی وصوبائی اسمبلی جوحالیہ دنوں میں پی ایس پی سے وابستہ ہوئے وہ ہمارے سرکاتاج ہیں ۔ پی ایس پی کی قیادت نے سیاست کونیااسلوب دیا۔ہماری جماعت کے بانی ومرکزی چیئرمین مصطفی کمال ،مرکزی صدر انیس احمدقائم خانی اورمرکزی سیکرٹری جنرل رضاہارون نے ماضی میں پاکستان کے اندررائج منافقانہ اورجارحانہ سیاست کودفن کرنے کابیڑہ اٹھایا ہے ۔سیاست میں ہرکسی کو اختلاف رائے اور جائزتنقید کاحق حاصل ہے مگرسیاستدانوں سمیت معاشرے کے سبھی طبقات کو تنقید اورتضحیک میں فرق ملحوظ خاطررکھناہوگا۔حکمران اوران کے حامی ریاستی اداروں کے بارے میں محتاط گفتگوکریں۔ میدان سیاست میں کھڑے ہوکربغاوت کاعلم بلندکرنیوالے اس طرح احتساب پراثرانداز نہیں ہوسکتے۔وہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کررہے تھے ۔ چودھری محمدالطاف شاہدنے مزید کہا کہ کسی کوسیاست کی آڑ میں قومی اداروں کے میڈیا ٹرائل کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔آئین کااحترام اورریاستی اداروں کاتقدس ہرشہری پرفرض ہے ۔انہوں نے کہا کہ عام لوگ عدلیہ بحالی کی تحریک کاہراول دستہ تھے ،اگرضرورت پڑی تو عوام عدلیہ کی آزادی اوراس کے فیصلو ں کاپہرہ دیں گے ۔انصاف کسی مصلحت کونہیں مانتا،آزادعدلیہ نے انصاف پرجومبنی کیا اسے ہرصورت تسلیم کیاجائے۔انہوں نے کہا کہ عدالت کے کسی فیصلے کومتنازعہ بنانے کی منظم کوشش مناسب نہیں ۔ حکمرانوں کے لہجے میں ترشی اورتلخی سے تصادم اورجمہوریت کامینار منہدم ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ خدانخواستہ ریاستی اداروں کے ساتھ تصادم کی صورت میں صرف حکمران جماعت کانقصان ہوگا، پاکستانیوں کی صحت پرکوئی اثر نہیں پڑے گا۔پاکستان کے عوام اپنے ریاستی اداروں کی پشت پرکھڑے ہیں۔ ہمارے ریاستی ادارے ایک زندہ حقیقت ہیں اورحقیقت تبدیل نہیں ہوتی ۔ انہوں نے کہا کہ حکمران یادرکھیں ان کے جذباتی فیصلے حکومت اورعوام کے درمیان مزید فاصلے پیدا کردیں گے۔حکمران صبروتحمل ،بردباری اوربرداشت کادامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں ۔انہوں نے کہا کہ عدالت سے نااہلی کے بعد ووٹ اورووٹر کی اہمیت کے گیت گا نے والے انتخابات کاانتظارکریں۔انقلاب کاجعلی نعرہ کسی بدعنوان کواحتساب سے نہیں بچاسکتا۔انہوں نے کہا کہ اگر حکمران مقبول ہیں توانہوں نے ریاست کیخلاف طبل جنگ کیوں بجادیاہے۔حکمران جماعت کافردواحد کیلئے عوام کو اداروں سے تصادم پراکسانابرداشت اورمعاف نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ آزاد عدلیہ سے نااہلی کے بعدجی ٹی روڈریلی کاکوئی جوازنہیں تھا۔ریاستی اداروں پرحملے ریاست پرشب خون مارنے کے مترادف ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کااستحکام افراد نہیں اداروں کی مضبوطی سے وابستہ ہے۔