-،-اختیار واقتدار کے تحفظ کیلئے سب جائز ہے -عمران چنگیزی -،-؟
امریکہ ‘ اسرائیل اور بھارت پر مشتمل ابلیسی ‘ طاغوتی اور استعماری اتحاد ثلاثہ سامان حرب وجنگ کی فروخت میں اضافے اور سرمایہ دارانہ نظام کے مفاد و استحکام کیلئے دنیا میں تیسری جنگ عظیم کی بنیاد رکھ رہا ہے مگر اس بار یہ جنگ عالمی قوتوں کے مابین نہیں بلکہ مسلم ریاستوں کے درمیان ہوگی کیونکہ اتحاد ثلاثہ کی سازشوں و منصوبوں سے مسلم دنیا میں مسلکی منافرت ‘ لسانی تعصب ‘ باہمی رسہ کشی ‘ اندورنی خانہ جنگی اور بغاوت و انتشار کیساتھ اقتدارواختیار سے محبت اور اس اختیار واقتدار کے چھن جانے کا خوف اس قدر بڑھ چکا ہے کہ مسلم قیادتیں صوم و صلوٰۃ اور صدقہ و خیرات کی پابندی کے باوجود ایمان کی حرارت و گرمی سے محروم ہوچکی ہیں اور خدا سے زیادہ عالمی قوتوں پر اعتماد و اعتبار کرنے اور ایمان رکھنے لگی ہیں جس کی وجہ سے مسلم قیادتوں نے صیہونی‘ صلیبی اور کفر کی قوتوں کیخلاف جہاد کرنے کی بجائے ان سے دوستیاں بڑھالیں ‘ رشتے بنالئے اور امریکہ کی خوشنودی و اسرائیل کی حمایت کی پالیسی اپنالی ہے جس کے بعد امریکہ ‘ اسرائیل اور بھارت کے حوصلے اس قدر بلند ہوچکے ہیں کہ عراق کو تباہ وبرباد کرنے ‘ افغانستان کوبارود میں جھلسانے ‘ کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی کرنے اور فلسطین میں یزیدی مظالم کی داستانیں رقم کرنے والوں نے شام کو بھی اپنا تختہ مشق بنالیا ہے ایک جانب اسرائیل شام میں باغی کہلائے جانے والوں پر کیمیائی بم برساتا ہے تو امریکہ تحفظ و ردعمل کے نام پر شام میں بمباری کراتا ہے اور دونوں ہی صورتوں میں ہلاک و زخمی شامی مسلمان ہوتے ہیں دوسری جانب غزہ کی سرحد پر احتجاج کیلئے زخمی ہونے والوں پراسرائیل اپنی فوج سے وحشیانہ فائرنگ اور طیاروں سے بمباری کراتا ہے اور اسرائیلی وزیر دفاع ویگدر لیبرمان اس فائرنگ سے ہلاک ہونے والے32اور زخمی ہونے والے دو ہزار سے زائد فلسطینیوں کو حماس کا تنخواہ قرار دیکر اسرائیلی اقدام کو جائز ہی قرار نہیں دیتا بلکہ فائرنگ سے ہلاک ہونے والے فلسطینی صحافی یاسر مرتضیٰ سمیت اسرائیلی جنگی جرائم کا پردہ فاش کرنے والے ہر صحافی اورفلسطین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر آوا زاٹھانے والے انسانی حقوق کے ہر علمبردار کو حماس کے عسکری ونگ کا کارکن قرار دے دیتا ہے مگر نہ صرف اقوام متحدہ ‘ مہذب اقوام اور صحافتی و انسانی حقوق کی تنظیمیں خاموش رہتی ہیں بلکہ مسلم ریاستیں اور ان کی قیادتیں بھی خواب خرگوش کے مزے لیتی رہتی ہیں کیونکہ عالم اسلام کے تحفظ و ترجمانی کے ذمہ دار اپنے اقتدار کے تحفظ کیلئے سازشیوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں‘امریکہ و اسرائیل کی کاسہ لیسی کررہے ہیں اور ان کے سامنے سجدہ ریز رہتے ہوئے اسلامی شریعت کے بر خلاف اقدامات کرتے ہوئے سینما ہاؤسز کی اوپننگ کررہے ہیں جبکہ کچھ لوگ اپنے ہی ملک کے قومی اداروں پر الزامات و بہتان لگاکرعوام کو سڑکوں پر لانے اور فوج و عوام تصادم کے ذریعے ریاست کو کمزور بنانے کی سازش کررہے ہیں مگر مفادات کے اسیر‘ ان حکمرانوں اور قیادتوں کو اپنی قوم ‘ عوام اور مسلم اُمہ یا ان کے مسائل و مصائب سے کوئی غرض نہیں اور یہ دنیا بھر میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم اور فلسطینیوں ‘ شامیوں ‘ افغانیوں اور کشمیریوں کی نسل کشی پر مسلسل خاموش تماشائی ہیں یا پھر زبانی کلامی بیانات کے ذریعے عوام کو بے وقوف بنانے اور اپنی سیاست بچانے کی کوشش کررہے ہیں جو دنیا بھر کے تمام مسلمانوں کیلئے اس بات کا درس ہے کہ اب مسلمانوں کو طاغوتی ‘ استعماری اور سامراجی غلامی سے خود کو‘ اپنی نسلوں کو اور ان کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے تبدیلی و انقلاب کا راستہ اپنانا ہوگا اور فرعون‘ یزید و ہٹلر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے’’ اپنے اور اختیار واقتدار کے تحفظ ہے کیلئے سب جائز ہے‘‘کا فارمولہ اپناتے ہوئے ایمان ‘ اسلام اور عوام کو قربان کرنے والوں سے نجات حاصل کرنی ہوگی بصورت دیگر کسی کا یہ مقولہ سچ ثابت ہوجائے گا کہ ’’ہماری داستاں بھی نہ ہوگی داستانوں میں ‘‘۔یا پھر غلامی کی زنجیریں کاٹتے کاٹتے ہماری نسلیں بھی بوڑھی ہوجائیں گی اور کمریں بھی کوزہ ہوجائیں گی