-،-جمہوریت کی تعریف بدل کیوں نہیں دیتے-صادق رضامصباحی-،-

sad

(بالی وُوڈاداکارسلمان خا ن کو حال ہی میں جودھپورسیشن کورٹ سے دی گئی رہائی کے پس منظرمیں )

مصنفین،صحافی،اینکر،کالم نگاراوردانشورہمارے دماغو ں میں ہمیشہ سے یہ بات راسخ کرنےکی کوشش کرتے رہے ہیں کہ ہندوستان ایک بڑاہی عظیم جمہوری ملک ہے اوراس کی جمہوریت کاپوری دنیا میں ڈنکا بجتا ہے ، تاریخ میں اس کی مثالیں دی جاتی ہیں اورہندوستان کی جمہوریت کے ترانے گائے جاتے ہیں۔دانشوروں کی ان باتوں سے ہماری بھی کلاہ اونچی ہوجاتی ہے لیکن کیا واقعی ایساہی ہے ؟ ہمارا پیاراملک ہندوستان کیافی الواقع جمہوری اقدارکاحامل ہے؟یہ ایک ایساسوال ہے جو ہراس انسان کے دماغ میں کلبلاتارہتاہے جسے اللہ نے تھوڑی سی بھی سوچنے سمجھنے کی قوت سے نوازاہے ۔ہماری یہ سطور در اصل انہی لوگوں کے لیے ہیں جنہوں نے اپنے دماغ کی کھڑکیاں کھول رکھی ہیں ،ان کے لیے نہیں جواپنے دماغ کے سارے روزن بندکرکے اندھے ،بہرے ، گونگے اورلنگڑے لولے بن کراپنے کمرے میں بند ہوگئے ہیں۔ یہ بات اس لیے کہی جارہی ہے کہ حال ہی میں بالی ووڈ اداکارسلمان خان کو یکم اکتوبر۱۹۹۸کوراجستھان کے کنکانی گائوں میں کیے گئے ایک ہرن کے شکارکے جرم میں جودھپورکی ایک سیشن کورٹ نے پانچ سال کی سزاسنائی اورپھردوسرے ہی دن انہیں ضمانت پر محض اس لیے رہا کر دیا کہ بقول جج ہرن کے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تضادہے کیوں کہ ایک رپورٹ میں ہرن کے جسم پرگولی لگنے کا نشان بتایاگیاہے جب کہ دوسری رپورٹ میں گولی نہ لگنے کی تصدیق کی گئی ہے ۔ سیشن کورٹ نے توانہیں شبہہ کافائدہ دیتے ہوئے ضمانت پررہاکردیامگرہم جیسوں کے دماغوں میں سوالات کاایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔فر ض کیجیے کہ اگربالی ووڈاداکارسلمان خان کی جگہ فٹ پاتھ پرچلنے والا سلمان خان ہوتاتوکیااس کے ساتھ بھی ایساہی ہوتا؟بلاشبہہ کورٹ شواہدکی بنیادپرہی فیصلہ دیتاہے ، شبہے کی بنیادپرجج حضرات فیصلے میں تبدیلی کردیتے ہیں جوبلاشبہہ ہوناچاہیے اورسلمان خان اس کے حق دار بھی تھے ۔ججوں کی نیتوں پربھی کوئی شبہہ نہیں کیا جاسکتاکہ جیسے شواہدہوتے ہیں ویسے ہی فیصلے ، مگر جناب!یادرکھیے اصل کہانی کچھ اورہی ہوتی ہے اوروہ پردے کے پیچھے کی کہانی ہے ۔معاملہ سلمان خان کاہو یا دنیا کے کسی بڑے سے بڑے اورچھوٹے سے انسان کا، سبھوں کے عدالتی فیصلے بہت سارے مواقع پراسی پردے کے پیچھے کی کہانی سے معلق ہوتے ہیں ۔یہ پس پردہ کہانی نہ جانے کتنے بے قصوروں کودہائیوں تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہنے پرمجبورکردیتی ہے اوریہی پس پردہ کہانی بدترین مجرموں کوکھلے عام چھوڑدیتی ہے ۔جانتے ہوایساکیوں ہوتاہے؟یہ جمہوریت کاکرشمہ ہوتاہے ، یہ جمہوری تماشاہوتاہے ،یہ جمہوری کھیل ہوتاہےاور جمہوری دائوپیچ ۔ جمہوریت کے نام پردنیاکوبیوقوف بنانے والے لوگ جمہوریت کی دیوار کے پیچھے کھڑے ہوکر نہ جانے کتنوں کوموت کے گھاٹ اتاردیتے ہیں ،کتنے ظالموں کوکھلے عام ظلم وستم ڈھانے کے لیے کھلا چھوڑدیتے ہیں،بینکوں کی ہزارکروڑکی دولتیں ہڑپ کر جاتے ہیں اورملک کی ساری دولت سمیٹ کرسوئیس بینکوں میں رکھ آتے ہیں ۔واہ واہ !میرے ہندوستان کی جمہوریت ۔کیاکہنے ہیں تیرے۔
جمہوریت کی بڑی معروف تعریف کی جاتی ہے : Government of the people by the people to the peopleیعنی عوام کے ذریعے منتخب کی گئی عوام کے لیے عوام کی حکومت۔مگرذرااپنے دل پرہاتھ رکھ کر بتا دیجیے کہ حکومت توعوام نے ہی منتخب کی ہوتی ہے مگر کیاہماری حکومت بھی عوام کی ہے اورعوام کے لیے ہے۔؟ غالب کی زبان میں دل کوبہلانے کوغالب یہ خیال اچھا ہے ۔دراصل جسے جمہوریت کہاجاتاہے یہ جمہوریت نہیں ہوتی،جمہوری آمریت ہوتی ہے ۔اسے آپ کارپوریٹ سیکٹر کے سسٹم سے بھی جوڑسکتے ہیں ۔یہ کارپوریٹ سسٹم اسے انگلی پکڑکرجہاں جہاں لے جاتا ہے ،بے چاری یہ نام نہادجمہوریت وہاں وہاں چپ سادھے چلتی جاتی ہے اور اس سے ایک اِنچ اِدھراُدھرکھسکنے کی جراءت بھی نہیں کرسکتی۔کارپوریٹ سسٹم میں دولت سمٹ کر چند ہاتھوں میں آجاتی ہے ، مالدا ر،مالدارترین ہوجاتاہے اور غریب ،غریب ترین ۔ اس کے گھماپھراکریہ بھی بول سکتے ہیں جسے ہم جمہوری حکومت کہتےہیں یہ دراصل مالداروں کے ذریعے منتخب کی گئی مالداروں کے لیے مالداروں کی حکومتہوتی ہے ۔ یقین نہ آئے تو ذرا آنکھیں کھول کر ہندوستان سمیت پوری دنیاکاجائزہ لے لیجیے ،آپ کوجگہ جگہ اسی جمہوریت کے نشان ملیں گے ۔کسی بھی چیزکی تعریف یاDefinitionاب بس کتابوں کی زینت بن کررہ گئی ہے ،اس کااستعمال بطورحوالہ ہوتاہے یاکمزوروں اوربیوقوفوں کواستعمال کرنے کے لیے ، حقیقی عملی دنیاسے اس کے تعلق کا فیصد یاتوہوتاہی نہیں یااگرہوتاہے توبہت کم ۔ایسی جمہوریت میں سب کچھ خریداجانا ممکن ہوجاتاہے ،ضمیربھی ،نظریہ بھی ،قلم بھی ،ذہن بھی حتی کہ انسان بھی ۔ہمارے پیارے سے وطن ہندوستان میں حکومت چاہے کانگریس کی ہو یابی جے پی کی ،سب کی پالیسیا ں اورسب کی جہوریتاسی کارپوریٹ سیکٹرسے غذاحاصل کرتی ہے اوراسی کی وضع کی ہوئی پالیسیوں سے اپنی راہ بناتی ہےکیوں کہ اس کے بغیراسی جمہوریت کے نام پرانہیں جڑسےاکھاڑکرپھینکابھی جاسکتاہے ۔اس تناظرمیں یہ حقیقت دماغوں میں بٹھالیجیےکہ ہندوستان میں مسلمانوں کوقتل کیاجائے اورظالموں کو چھوڑ دیا جائے یاسلمان خان کورہاکیاجائےاوراسارام باپو کوجیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیاجائے ،اسی جمہوری تماشے کاحصہ بن جاتاہےاورسب کی کہانیاں پردے کے پیچھے بُنی جاتی ہیں۔کبھی شواہدنہ ہونے پر رہا کیا جاتاہے اور کبھی زبردستی شواہدوضع کرکےسزاسنائی جاتی ہے۔ کبھی کسی کو اس لیے رہائی عطاکی جاتی ہے کہ وہ حکومت کی جمہوریت کاحلیف ہے اورکبھی کسی کو اس لیے سزادی جاتی ہے کہ وہ حکومت کی جمہوریت  کارقیب ہے۔میں یہ کہنے پرمجبورہوں کہ جمہوریت کادم بھرنے والے صحافیوں ، مصنفوں، کالم نگاروں ،اینکروں اوردانشوروں کو جمہوریت کی نئی تعریف متعین کرنے کااعلان کردیناچاہیے اور کہنا چاہیے کہ موجودہ زمانے کی جمہوریت اصل میں  مالداروں کے ذریعے منتخب کی گئی مالداروں کے لیے مالداروں کی حکومتہے۔کیامیں غلط کہہ رہاہوں؟