۔،۔معراج مصطفی ﷺ۔ڈاکٹر ساجد خاکوانی۔،۔
قرآن مجید نے فرمایا کہ فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا(۹۴:۵) اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا(۹۴:۶) ترجمہ:’’پس حقیقت یہ ہے کہ تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے بے شک تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے۔عام الحزن وہ سال تھاجو پہاڑ جیسا صبر رکھنے والی ہستی پر بھی غم واندوہ بن کر ٹوٹا۔عزیزترین چچا حضرت ابوطالب اور عزیزازجاں شریکہ حیات ام المومنین حضرت خدیجہؓ دادمفارقت دے گئے اور زمانے کی تپتی دھوپ میں تن تنہاچھوڑ کر عازم سفرآخرت ہوئے۔اس سب پر مستزادیہ کہ طائف والے ان حدوں سے بھی آگے بڑھ گئے جن تک مکہ والے شاید ابھی رکے ہوئے تھے۔دل داغ داغ لیے جب آپﷺ واپس مکہ لوٹ رہے تھے تواس کیفیت کااندازہ کوئی کیسے کر سکتاہے کہ ایک ایک کرکے سب دنیاوی سہارے ساتھ چھوڑ چکے تھے ،ہم نشینوں میں اکثریت غلاموں،لونڈیوں،غریبوں اور مفلوک الحال لوگوں کی تھی اوران میں سے بھی ایک قابل قدر تعدا دحالات سے تنگ آکردیارحبشہ کوسدھارگئی تھی۔گویا امید کی ساری کرنیں دم توڑ چکی تھیں،ٹھنڈی ہواکے جھوکوں کی امید بظاہر نظر نہ آتی تھی اور بادسموم نے چہروں کو مرجھاسادیاتھا۔حالات یہاں تک پہنچے تھے کہ آخری نبیﷺجیسی ہستی کو اپنے ہی شہر مکہ میں داخلہ لینے کے لیے کسی کی پناہ لینا پڑی تھی۔ان حالات میں ایک رات جبریل ؑ آپ ﷺکے گھرمیں داخل ہوئے توحضورﷺکو محواسراحت پایا،ہاتھ میں بادشاہ کائنات کاشاہی فرمان ہونے کے باوجودآواز دے کر اٹھانے کی ہمت نہ ہوئی،قدم مبارک کے تلووں پر جبریلؑ نے اپنے ہونٹوں سے بوسہ دیا،جبریل ؑ کے ہونٹوں کی حدت سے بیدارہوئے تو جبریل نے عرض کی اے اﷲکے محبوب،باہر سواری تیارہے اور اﷲتعالی مشتاق دیدارہے،تشریف لے چلئے۔پس منظر کے حالات کاجائزہ لینے سے صاف محسوس ہوتاہے کہ جتنے تنگ و ترش حالات تھے انہیں کی مناسبت سے تسلی و تشفی اور دلاسے کابھی اہتمام کیاگیا۔آپﷺ کی نظر جہاں جاتی اس ’’براق‘‘نامی سواری کے پاؤں وہاں پہنچ جاتے تھے۔بیت المقدس میں کل انبیاء علیھم السلام کی جماعت کرائی اور ’’امام الانبیاء‘‘ کالقب مبارک پایا۔آسمان کی طرف محوسفر ہوئے پہلے سے آخری آسمان تک انبیاء علیھم السلام سے ملاقاتیں ہوتی رہیں۔اﷲتعالی کے اتنے قریب ہوئے کہ جبریل علیہ السلام بھی پیچھے رہ گئے۔جنت اور دوزخ کی سیر کرائی گئی،آخرت کے مناظر کا بنظرخود مشاہدہ کیااورواپس تشریف لائے توبسترابھی گرم تھااوردروازے کی کنڈی متحرک تھی۔محسن انسانیت ﷺنے معراج پائی اورانسانیت کوبھی معراج آشنا کردیا۔آپﷺ نے نظم معیشت کو اس کی معراج تک پہنچادیا،حکم دیاکہ مزدورکواس کی مزدوری پسینہ خشک ہونے سے پہلے اداکردو۔اس کاایک تو مطلب وہی ہے جو سمجھ آگیاکہ مزدورکاکام ختم ہونے پر ہی اس کے ساتھ طے شدہ معاوضہ اداکردیناچاہیے ۔اس حدیث مبارکہ کاایک اور پوشیدہ مطلب یہ بھی ہے کہ مزدورپرلازم ہے کہ وہ کام کرتے ہوئے پسینہ ضرورنکالے ،یعنی اپنے کام کا حق اداکرے اورکوئی کسر باقی نہ چھوڑے۔اس حکم کے پوراکرنے کاباعث انسانی معاشی نظام اپنی معراج کو چھوسکتاہے۔اگرصرف اسی اصول کوہی انفرادی اوراجتماعی طورپر انسانی معاشروں میں نافذ کردیاجائے اور آجرواجیردونوں مل کراس اصول کو عملاََتسلیم کرلیں تو قبیلہ بنی نوع انسان میں معاشی مسائل کاانبوہ کثیر جنم ہی نہ لینے پائے اور انسانی نظم اقتصادیات اپنی معراج تک پہنچ جائے۔کم و بیش ڈیڑھ ہزارسال بیت گئے ،انسانیت کے ہاں بڑے بڑے دانشور ،ماہرین معاشیات اور مبلغین اخلاق نے جنم لیالیکن اس معیارمعراج معیشیت سے بڑھ کر کسی کے ہاں کوئی تصور جنم نہ لے سکا۔محسن انسانیت ﷺنے معاشرت کومساوات کادرس معراج دیااور محمودوایازکو ایک ہی صف میں کھڑاکردیا۔آپ ﷺنے جس معاشرت کاتصوردیااس میں معیارشرف وفضیلت تقوی کو قراردیا،اس معاشرے میں بڑے بڑے سرداران قوم نیچے بیٹھتے ہیں اور بلال حبشی خانہ کعبہ جیسی عمارت کی چھت پر چڑھ جاتے ہیں۔آج تک کتنے ہی معاشرے بنے اور اجڑ گئے ،لیکن کسی نے رنگ اور نسل کو معیار برتری دیاتوکسی نے دولت کے پجاریوں کوممبرعزت عطاکردیاتو کہیں طاقت نے انسانوں سے اپنی برتری کالوہامنوایااورکہیں تو تاریخ نے انسانوں کے ساتھ عجیب و غریب مذاق کیے اور پرلے درجے کے فاسق و فاجر لوگوں کوعزت وشرف کے بڑے بڑے مقامات دے ڈالے۔محسن انسانیتﷺنے عزت و شرف کاوہ مقام متعارف کرایاجومعاشرے کے تمام طبقات کے تمام افرادکے لیے قابل حصول ہے ،اور یہی انسانی معاشرے کی معراج معاشرت ہے۔محسن انسانیت ﷺ نے مذہب کو برداشت کی معراج عطا کی۔ماضی بعید سے آج دن تک مذہب کے نام پر جس عدم برداشت کاکھیل کھیلاگیاوہ کل انسانیت کے لیے باعث ننگ و عار ہے۔مذاہب کے نام پر جنگوں کاکشت و خون اور انسانوں کی نسلوں کو میدانوں میں جھونک دینااوراسے اپنے خداؤں کی آشیربادکا سبب سمجھناکب سے اب تک چلتارہا۔یہاں تک کہ ایک ہی مذہب کے پیروکاروں نے معمولی اختلاف بھی برداشت نہ کیااور دشمنی میں اتناآگے نکل گئے کہ مخالفین کی جان ،مال،عزت ،آبرواور اہل خانہ بھی ان کے شر سے محفوظ نہ رہے۔ایسے میں رحمۃ اللعالمین نے مذہب کو برداشت کادرس معراج عطا کیااور تاریخ انسانی میں سب سے پہلے ایسامعاشرہ تاسیس کیاجس میں متعدد مذاہب کے لوگ باہم شیروشکرہوکررہتے تھے اور ان سب مذاہب کے پیروکاروں نے مشترکہ دفاع کے معاہدے تک پر دستخط کیے ۔اس سے قبل کہیں تاریخ میں ایسی مثال نہیں ملتی اور اس کے بعد بھی ایک ہزارسالہ مسلمانوں کے دوراقتدارمیں غیرمسلموں نے ہرطرح کا مذہبی و معاشرتی تحفظ پایا۔آپ ﷺکے بعد ڈیڑھ ہزاربرس گزرگئے ،انسانوں نے کتنے ہی تجربے کئے لیکن سب میں منہ کی ہی کھائی اور محسن انسانیتﷺکے دیے ہوئے درس برداشت کی معراج میں سرموبھی اضافہ نہ کرسکے۔محسن انسانیت ﷺنے سیاست کو معیارقیادت ومشاورت کا درس معراج دیااور آخری خطبے میں برملا اظہارفرمایا کہ ایک نکٹاحبشی غلام بھی تمہارے اوپرحکمران بنادیاجائے اور وہ قرآن و سنت کے مطابق تمہیں لے کر چلے توتم پر اس کی اطاعت لازم ہے۔یہ محض قول ہی نہیں تھا،صرف تاریخ اسلام میں ہی ہندوستان میں خاندان غلاماں اور مصر میں مملوک خاندان نے حکومت کی ہے ۔یعنی خاتم النبیین ﷺکی تعلیمات کے مطابق اہلیت کی بنیادپراقتدارکی باگ دوڑ سونپی گئی اگر چہ وہ اہلیت کاحامل شخص کسی غلام خاندان سے ہی تعلق رکھتاہو۔اورتاریخ نے یہ ثابت کیاکہ ان غلاموں نے بھی تخت شاہی پر بیٹھ کرتاریخ کارخ موڑاجن غلاموں کو دوسری قومیں جانوروں سے بدترطریقوں سے ہانکتی تھی۔آج پندرہ صدیاں گزرنے کوہیں کسی دوسری قوم یانظام یاکسی ازم نے اس طرح کاتصورتک پیش نہیں کیااور اقتدارکے ایوانوں تک وہ لوگ بھی پہنچے جنہیں انسان کہتے ہوئے بھی مورخین کو شرم آئی۔لیکن وہ حکمران اپنے خاندان،طاقت،دولت یاکسی اور ذریعے سے پہنچے تھے اورلیاقت قابلیت و مشاورت ان کے پاس سے بھی نہیں گزرے تھے۔تب ان حکمرانوں نے انسانوں کے ساتھ جو سلوک کیاوہ نوشتہ دیوار ہے۔محسن انسانیت ﷺنے عدالتوں کو عدل و انصاف کا درس معراج دیااور عملاََاس پر عمل بھی کرکے دکھایا۔آپ ﷺسے قبل قانون صرف غریبوں کے لیے تھااور دولت مندوں کے لیے،حکمرانوں کے لیے اورطاقت ور طبقوں کے لیے کوئی قانون نہیں تھابس ان کی مرضی اوران کاقول ہی قانون کادرجہ رکھتاتھا۔اس کے علاوہ مردوں کو اپنی عورتوں پر مکمل دسترس حاصل تھی اورقانون ان مردوں کاساتھی تھاجبکہ غلاموں کے لیے قانون توکیا بنیادی انسانی اخلاق بھی عنقا تھے۔ان حالات میں معاشرے کے تمام طبقات کے لیے حتی کہ خود کے لیے بھی ایک ہی قانون کا نفاذکرنا واقعی ایک قانونی معراج ہی تھی۔پھرآپﷺنے اﷲتعالی کی آخری عدالت کاجو تصورپیش کیااس کے سامنے انسانی عدالتوں کے تمام تر تصورات ہیچ ہیں۔انسانوں کی کتنی بڑی سے بڑی عدالت بن جائے اور سخت سے سخت قانون بھی نافذ ہوجائے تب بھی مجرم کابچ نکلناممکن ہے جب کہ اﷲتعالی کی آخری عدالت میں سے کسی کا بچ جانا ممکن ہی نہیں اور یہی انسانیت کی سب سے بڑی معراج ہے کہ اسے احساس جوابدہی دامن گیررہے۔محسن انسانیت ﷺکایہ درس معراج ہے کہ آپﷺنے کل انسانی اخلاقیات و معاملات کوان کی معراج تک پہنچایا۔صدیاں گزرجانے کے بعد بھی اوربے شمارتجربے کرچکنے کے بعد بھی انسانوں نے اس معراج مصطفی میں کوئی اضافہ نہیں کیا۔علوم معارف نے کتنی ترقی کرلی،سائنس اور ٹکنالوجی کے میدان انسان خوابوں سے بھی آگے نکل گیا،رابطوں کی ترقی نے کرۃ ارض سمیٹ دیالیکن اس سب کے باوجود جس جس معراج کا تعین رحمۃ اللعالمین نے کیااس میں کسی طرح کااضافہ ممکن نہیں ہوسکااورنہ قیامت تک ہو سکے گاکیونکہ آپﷺ معراج کی جن بلندیوں تک پہنچ گئے اس سے آگے کوئی مقام ہی نہیں ہے۔اب کل انسانیت اجتماعی طورپر اورانفرادی طورپر بھی اگر اپنی فلاح و کامرانی چاہتی ہے تواسے معراج مصطفی سے سبق حاصل کرتے ہوئے اطاعت وفرمانبرداری رسولﷺکرنی ہوگی ۔انسان چاہے یانہ چاہے اسی راستے میں ہی اس کے لیے نجات کاسبب رکھ دیاگیاہے پس خوش قسمت اورکامیاب و کامران ہیں وہ لوگ جو نبیﷺکی پیروی اختیارکرتے ہیں۔