۔،۔قلم کاروان ،اسلام آبادمجلس مشاورت ڈاکٹرساجدخاکوانی ۔،۔
منگل مورخہ 10اپریل 2018 بعد نماز مغرب قلم کاروان کی ادبی نشست مکان نمبر1اسٹریٹ 38،G6/2اسلام آبادمیں منعقد ہوئی۔ ایجنڈے کے مطابق آج کی ادبی نشست میں’’فتنہ قادیانت‘‘پر میرافسرامان اور شاکرعلی کے مضامین پیش ہونا طے تھے۔معروف کالم نگار،نظریہ پاکستان ٹرسٹ اور پاکستان اکانومی واچ کے صدر اور ماہرقرآن جناب ڈاکٹرمرتضی مغل نے صدارت کی۔جناب ساجد عباس عباسی نے تلاوت ،جناب شاکرعلی نے مطالعہ حدیث اورمیرافسرامان نے گزشتہ نشست کی کاروائی پیش کی۔صدر مجلس کی اجازت سے پہلے جناب میرافسرامان نے اپنا مضمون پیش کیا،مضمون میں پاکستان بننے سے قبل تا تادم تحریرقادیانیوں کی اسلام دشمن اور پاکستان دشمن سازشوں کاکثرت سے ذکر کیاگیاتھا۔مضمون میں بین الاقوامی سطح پر بھی اسلام دشمن قوتوں کی قادیانت نوازی کو واقعات اور حقائق کی روشنی میں تفصیل سے بیان کی گیاتھا۔بعد میں جناب شاکرعلی نے اپنا طویل مضمون پیش کیا،اس مضمون میں صاحب تحریرنے قادیانوں کے چوتھے خلیفہ خلیفہ مرزاطاہر کے ساتھ کراچی میں اپنے ایک مقالمے کاذکر کیاتھا،مکالمے میں صاحب مضمون نے متعدد علمی نوعیت کے سوالات اٹھائے تھے لیکن صاحب مضمون کے مطابق وعدے کے باوجود آج تک جواب نہیں مل سکے ۔صدرمجلس کی اجازت سے مضامین پر گفتگوکرتے ہوئے عبدالرازق عاقل نے کہاکہ جناب شاکرعلی نے اپنے مضمون میں قادیانیوں کے لیے بہت زیادہ عزت و احترام کے جوالقابات استعمال کیے ہیں تو یہ طبقہ اس عزت افزائی کامستحق نہیں ہے۔حبیب الرحمن چترالی نے کہاکہ انہیں شاکرعلی کے اس موقف سے اتفاق نہیں کہ آج تک قادیانیوں کے خلاف علمی کام نہیں ہوا،انہوں نے مشہور محدث مولانا انورشاہ کشمیری کی تین ضخیم جلدوں کاذکرکرتے ہوئے کہاکہ مرزائیوں کے خلاف اس کے علاوہ بھی بہت سے علمی محاسبے ہوئے۔مرزاضیاء الاسلام نے اپنے ایک سفرکاذکرکیاجس میں وہ ربوہ گئے اور قادیانیوں نے انہیں شکارکرنا چاہا مگربفضلہ تعالی وہ ایمان پر قائم رہے۔ساجدحسین ملک نے کہاکہ قدرت کاقانون ہے کہ جب خلا پیداہوتاہے تو دوسری طرف کی ہوائیں اسے پر کرتی ہیں،پس جو خلا اہل ایمان اور امت مسلمہ کی طرف سے چھوڑ دیاجاتاہے اسے کفروشرک کی طاقتیں پر کردیتی ہیں۔ڈاکٹرعطااﷲخان نے کہاکہ قادیانیوں کو بہت بڑاہوابنادیاگیاہے حالانکہ ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے،انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں ہونے والی ساری کاروائی کوانہوں نے اپنے ہاتھوں سے تحریری شکل دی تھی جس میں فریقین کے سارے دلائل جو پیش کئے گئے تھے انہیں سپردقرطاس کیا۔ڈاکٹرعطااﷲخان نے زوردے کر کہااگراس معاملے کو دبادیاجائے تو یہ یقینی طورپر نابودہو جائے گا۔مضامین پرگفتگومکمل ہوئی توعبدالرازق عاقل نے ایک مزاحیہ نظم پیش کی جس کے باعث شریک محفل افرادکے چہروں پر سنجیدگی کی جگہ مسکراہٹوں نے لے لی۔آخرمیں صدرمجلس جناب ڈاکٹرمرتضی مغل نے قرآن مجید کی متعدد آیات پیش کیں جن سے ختم نبوت کاعقیدہ کھل کر سامنے آتاہے،ایک ایک آیت کی تفسیرمیں انہوں نے جھوٹے نبیوں کاابطال پیش کیا۔صدرمجلس نے کہاکہ قادیانیوں کے اقتباسات پیش کرنے کی بجائے نئی نسل کو ختم نبوت کاعقیدہ راسخ کرنے والی تعلیمات ازبر کرائی جائیں۔صدارتی خطبے کے بعد معروف صحافی شمس حیدرکی ناگہانی موت پر افسوس کااظہاکیاگیااوران کے لیے فاتحہ بھی پڑھاگیا۔اس کے ساتھ ہی نشست اختتام پزیرہوگئی۔