۔،۔ سپریم کورٹ کابڑا فیصلہ ۔نا اہلی سے تا حیات نا اہلی۔ ( پہلو ۔ صابر مغل ) ۔،۔
sab
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ارکان پارلیمان کی نا اہلی مدت کے تعین سے متعلق 13متفرق درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 62کی شق(ون۔ایف)کے تحت نا اہلی تا حیات ہو گی اورایسا شخص عمر بھر انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتا یوں میاں نواز شریف اور جہانگیر ترین پارلیمانی سیاست سے آؤٹ،تا حیات نا اہلی کا فیصلہ جسٹس عمر عطا بندیال نے تحریر کیا اور انہوں نے عدالت کے کمرہ نمبر 1میں انہوں نے ہی فیصلے کے آپریشنل حصے کو پڑھ کر سنایا فیصلہ50صفحات پر مشتمل تھا جس میں قرآنی آیات اٹھارویں ترمیم اور ارکان پارلیمنٹ کے کوڈ آف کنڈکٹ کا حوالہ دیا گیا فیصلہ کے مطابق آئین کا آرٹیکل 62ون ایف امیدوار کی اہلیت جانچنے کے لئے ہے اس میں نا اہلی کی معیاد کا ذکر نہیں ،عوام کو صادق اور امین قیادت ملنی چاہئے اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو یہ بات پارلیمان کے لئے قابلیت نہیں ہے اور ایسے شخص کی نا اہلی تا حیات ہو گی جبکہ یہ عدالتی ڈیکلریشن موجود ہے جس بنیاد پر تا حیات نا اہلی کا فیصلہ کیا گیا اگر اس فیصلے کے خلاف کوئی اور فیصلہ آ جاتا ہے تو یہ نا اہلی غیر مؤثر ہوجائے گی فیصلے کے مطابق اخلاقی جرائم،دھوکا دہی ،اعتماد توڑنا،بے ایمانی بھی آئین کے آرٹیکل 62ون ایف کے زمرے میں آتی ہے یہ آرٹیکل اسلامی اقدار کے مطابق ہے اور اس کی یہی ممکنہ تشریح بنتی ہے کیونکہ اس آرٹیکل کی اپنی حیثیت ہے جس کا مقصد پارلیمان میں دیانتدار ،راست گو اور شفاف اراکین منتخب ہوں اس کا اطلاق غیر مسلم اراکین پر بھی ہو گا،،فیصلہ میں جسٹس عظمت سعید شیخ نے اضافی نوٹ میں کہا اس آرٹیکل کی اقدار ہماری اسلامی اقدار ہیں اور ایسی شقوں کی تشریح انتہائی محتاط انداز میں کرنی چاہئیں انہوں نے اٹارنی جنرل کے اس مؤقف کو درست قرار دیتے ہوئے لکھا کہ یہ معامل پارلیمان کو طے کرنے سے متعلق ہے جبکہ بعض وکلاء کے مطابق تا حیات نا اہلی ایک سخت فیصلہ ہو گا ،(14فروری کو اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہا تھا آئین میں نا اہلی کی مدت کا تعین نہیں کیا گیا اور عدالت کو پارلیمان کو یہ کرنے دے دوسری صورت میں عدالت کو ہر کیس میں نا اہلی کی مدت کا علیحدہ علیحدہ تعین کرنا ہو گا،اس کیس کے فیصلے میں نا اہلی کے معاملے پر چار مقدمات میں سپریم کورٹ کے فیصلوں سے رہنمائی لی گئی جن میں امتیاز احمد لالی بنام غلام محمد لالی فیصلہ،عبدالغفور لہڑی بنام ریٹرننگ آفیسرفیصلہ،محمد خان جونیجو بنام وفاق کیس فیصلہ اور اللہ دینو خان بنام الیکشن کمیشن فیصلہ شامل ہیں، اس کیس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد 14فروری کو فیصلہ محفوظ کیا گیا تھاآرٹیکل 62کے تحت نا اہلی کے تشریح کی تشریح کی ضروت اس وقت پیش آئی تھی جب سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین کی نا اہلی کی مدت پر ایک بحث شدت اختیار کر گئی،رواں سال سمیع بلوچ نے با بر اعوان ایڈووکیٹ کے ذریعے اسی آرٹیکل کی تشریح کے لئے درخواست دائر کی تو چیف جسٹس ثاقب نثار نے 26جنوری کو اپنی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ جس میں جسٹس شیخ عظمت سعید،جسٹس عمر عطا بندیال،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سجاد علی شاہ شامل تھے تشکیل دیتے ہوئے اس معاملے کی تشریح کے لئے30جنوری سے سماعت کا اعلان کر دیا اس سے قبل جعلی ڈگری کیس میں نا اہل ہونے والوں نے درخواستیں دائر کر رکھی تھیں، تین جنوری کو سماعت کے دوران عوامی نوٹس جاری کیا گیا جس کے مطابق کوئی بھی متاثرہ شخص اس ضمن میں سپریم کورٹ سے رجوع کر سکتا ہے،اس وقت چیف جسٹس نے ریمارکس کے دوران کہا کہ پارلیمان میں نااہل ہونے والوں کی دو اقسام ہیں ایک وہ جو کسی قانون کے تحت نا اہل ہوئے دوسرے وہ جو آئین کے تحت نا اہل ہوئے اور اگر کہیں سقم موجود ہے تو اس کو دور کرنا بھی عدالت کا کام ہے،عدالت اعظمیٰ نے ایڈووکیٹ منیر اے ملک اور علی ظفر کو عدالتی معاون مقرر کیا ،مخدوم علی نے عدالتی معاون بننے سے انکار کیا جبکہ عاصمہ جہانگیر (محرومہ)رائے حسن نواز کی جانب سے اس کیس میں وکیل تھیں، آئین کے آرٹیکل 62ون ایف کے مطابق کوئی بھی شخص ممبر پارلیمان منتخب ہونے یا چنے جانے کا اہل نہیں ہو گا جب تک کہ ذی فہم،راست باز،نیک چلن،صادق و امین ،اس کے خلاف اس ضمن میں کوئی عدالتی فیصلہ نہ ہو،(صادق اور امین ہونے کی شرط سابق آرمی چیف و صدر مملکت جنرل محمد ضیاء الحق کے دور حکومت میں متعارف کرائی گئی تھی)،پانامہ کیس میں نواز شریف کو نا اہل کرنے والے بینچ میں شامل شیخ عظمت سعید نے فیصلے میں لکھا تھا کہ شق62کی بنیاد پر کسی کو پرکھنے سے پہلے اس ضمن میں کوئی کسوٹی ہونا ضروری ہے،اسی بینچ میں شامل ایک رکن اعجاز افضل خان نے لکھا تھا کہ اس شق کی موجودہ صورت میں ہر شخص کو اس وقت تک ذی فہم ،پارسا، نیک،صادق اور امین سمجھا جائے گا جب تک اس ضمن میں اس کے خلاف کوئی عدالت فیصلہ نہیں دے دیتی،جسٹس گلزار احمد نے کہا تھا کسی ایسے فرد کی صداقت کا فیصلہ کرتے ہوئے کسی عدالت کی طرف سے اس ضمن میں فیصلہ موجود ہونا چاہئے،جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا تھا عدالت کے پاس نا اہلی کے معاملے میں حقائق کی جانچ پڑتال کا مکمل اختیار ہے جسٹس کھوسہ نے اپنے فیصلے میں موجودہ فیصلے کی طرح قرآن و سنت کے حوالے بھی دئے تھے،آئین کے آرٹیکل62 مجلس شوریٰ(پارلیمنٹ)اراکین سے متعلق ہے جس کی مختلف شقوں میں کہا گیا ہے (A)کوئی ایسا شخص پارلیمنٹ کا رکن بننے کا اہل نہیں جو پاکستان کا شہری نہ ہو گا،(B)رکن قومی اسمبلی کی عمر 25سال ہونا ضروری ہے اور بطور ووٹر اس کے نام کا اندراج کسی بھی انتخابی فہرست میں موجود ہو جو پاکستان کے کسی بھی حصے میں جنرل سیٹ یا غیر مسلم سیٹ کے لئے ہو،(C)رکن سینٹ کی صورت میں عمر 35 سال ہونا ضروری ہے اور ایسے شخص کا صوبے کے کسی بھی حصے میں اس کا نام بطور ووٹر درج ہو فاٹا کے ارکان بھی اسی میں آتے ہیں،(D)ایسا شخص اچھے کردار کا حامل ہو اور اسلامی احکامات سے انحراف کے لئے مشہور نہ ہو (E)ایسا شخص اسلامی تعلیمات کا خاطر خواہ علم رکھتا ہو اور اسلام کے فرائض کا پابند ہو نیز کبیرہ گناہ سے اجتناب کرتا ہو،(F)ایسا شخص رکن پارلیمنٹ بنے گا جو راستمند،سمجھدار،پارسا،ایماندار ہو اور کسی عدالت کا فیصلہ اس کے خلاف نہ ہو اور(G) ایسے شخص نے پاکستان بننے کے بعد ملک کی سا لمیت کے خلاف کام نہ کیا ہو اور نہ نظریہ پاکستان کی مخالفت کی ہو،حالیہ کچھ عرصے کے دوران پانامہ لیکس کے بعد سپریم کورٹ کی جانب سے میاں نواز شریف کے خلاف متعدد فیصلے سامنے آئے ہیں جن میں ان کی بطور رکن پارلیمنٹ نا اہلی، اس فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی اپیل کا مسترد ہونا،انہیں پارٹی سربراہی سے الگ کرنا،ان کی طرف سے سینٹ انتخابات میں امیدواروں کو جاری کئے گئے ٹکٹ منسوخ کر کے انہیں آزاد حیثیت میں حصہ لینے کی اجازت کے علاوہ ان کے خلاف دائر ہونے والے تینوں نیب ریفرنسز کو یکجا کرنے کی درخواستوں کامسترد ہونا،بیرون ملک جانے کی اجازت نہ ملنا شامل ہیں،تازہ ترین صورتحال کے مطابق اب نیب آفس لاہور نے بھی انہیں طلب کر لیا ہے،سپریم کورٹ سے نا اہلی،پھر مسلم لیگ کی صدارت سے ہٹانے اور نیب ریفرنسز کے بعد میاں نواز شریف کا بیانیہ ہی بدل گیا ہے اب وہ نظریاتی ہو گئے ہیں اور نظریہ بھی وہ جو محمود اچکزئی یا حاصل بزنجو کا ہے جو حقیقت میں مسلم لیگ سے لاکھوں میل دور ہے،ان کے ساتھیوں،نہال ہاشمی،دانیال عزیز،طلال چوہدری،مشاہد اللہ ،احسن اقبال،خواجہ آصف،مریم نواز،کیپٹن (ر)صفدر حتی کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی اپنی توپوں کا رخ اعلیٰ عدلیہ کی جانب کر رکھا ہے وہ انہیں عدلیہ نہیں بلکہ کسی عالمی سازش کا بر ملا حصہ قرار دیتے ہیں اور ایسا روزانہ کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے،عدلیہ کے خلاف ہاتھ کھڑے کرانا ان کے خلاف شیم شیم کے نعرے لگوانا اب مسلم لیگ (ن)کے جلسوں یا اجتماعات میں عام سی بات نظرآتی ہے،تا حیات نا اہلی فیصلہ آنے کے بعد بعض سیاستدان اور اینکرز ،مبصرین اور ماہرین کی یہ انوکھی منطق سامنے آئی کہ میاں نوازشریف تین مرتبہ وزیر اعظم رہے انہوں نے آئین کی شق62کو تبدیل نہ کیا اب خود ہی اس میں پھنس گئے ہیں ذرہ عوام اور پاکستان کے ان خیر خواہوں سے پوچھا جائے کہ اگر وہ شق بدل دینی چاہئے تھی جس کے مطابق کوئی بھی شخص اس وقت تک رکن پارلیمنٹ نہیں بن سکتا جب تک کہ وہ ایمان ادر،صادق و امین نہ ہو,ان میں شرم و حیا ہی شاید ناپید ہو چکا ہے کیا کسی ایماندار اور نیک کی جگہ لٹیرے،غنڈے،بدمعاش اور ملک دشمن کو لانے کی شق شامل کی جائے ؟ چیر مین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا،میرا ماننا ہے کہ سیاستدانوں کے مستقبل کے فیصلے پاکستان کے عوام کو کرنا چاہئیں بد قسمتی سے مسلم لیگ (ن)اور پی ٹی آئی نے خود ہی ہماری سیاست کو عدالتی کر دیا ہے اب انہیں نتائج بھگتنا ہوں گے،اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا نواز شریف نے آرٹیکل62کی حمایت کی اور یہ اسی میں پھنسے اگر پارلیمنٹ کو تسلیم کریں گے تو فیصلہ پارلیمنٹ اور عوام کریں گے 1973کے آئین کے تحت اداروں کو چلنے کی گائیڈ لائن دی گئی لیکن جمہوریت ،ملک ،عوام اور پارلیمنٹ دشمنوں نے آئین کو پامال کیا اور عوام کے حقوق چھین لئے،آج بھی سیاستدانوں سے کہتا ہوں کہ پارلیمنٹ کی بالادستی کو تسلیم کر و گے تو سیاست اور جمہوریت چلتی رہے گی ،وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا یہاں جو آدمی کام کرتا ہے اسے سیاست سے ہمیشہ کے لئے نکال دیا جاتا ہے جس ملک میں سیاسی استحکام نہیں ہو گا سیاستدانوں کی عزت نہیں ہو گی وہاں ترقی مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہے فیصلہ عوام کا ہوتا ہے اور جو فیصلہ عوام کریں گے وہی قبول ہو گا ،میاں شہباز شریف نے کہا عدالتی فیصلے کے باوجود میاں نواز شریف کی رہنمائی میں مسلم لیگ(ن) بڑی جماعت رہے گی ،نواز شریف ایک فرد کا نام نہیں بلکہ ایک نظرئیے ،فلسفے،عوامی خدمت ،قانون کی بالا دستی اور ووٹ کے احترام کا نام ہے،مریم نواز شریف نے کہا جب جب نواز شریف کو مائنس کیا جاتا ہے وہ مضبوط ہوتے ہیں یہ فیصلہ انتقامی کاروائی ہے یہ نا اہلی صرف منصفوں کے اترنے تک ہے،کارکن صبر سے کال کا انتظار کریں،محمود اچکزئی ،یہ کہاں کا انصاف ہے بادشاہت قبول نہیں،عمران خان نواز شریف نے اداروں کو تباہ کر دیا اس اعلیٰ فیصلے پر سپریم کورٹ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں،میاں نواز شریف نے کہا یہ سب انتقامی کاروائی ہے،چیف جسٹس ثاقب نْثار نے ایک کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہاجب جہاد پر چل پڑے تو کوئی قراردادراستے میں رکاوٹ نہیں بن سکتی جس نے جو کہنا ہے کہتا رہے ہم صھیح کام کرتے رہیں گے،ہرحال تین مرتبہ وزیر اعظم بننے والے میاں نواز شریف کی تین دہائیوں پر مشتمل سیاست کو عدلیہ نے صادق اور امین نہ ہونے پر سیاست سے آؤٹ کر دیا ہے،انتخابات سر پر ہیں مسلم لیگ (ن)لے ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے مزید دیکھو سیاست کیا رنگ دکھاتی ہے۔