-،-جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائش گاہ پر فائرنگ کا تشویشناک واقعہ-( پہلو ۔ صابر مغل ) -،-
sab
لاہور کے معروف روڈ فیروز پور سے ملحقہ ماڈل ٹاؤن کے ایچ بلاک کی کوٹھی نمبر 112میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے انتہائی فعال جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائش گاہ جواسی سڑک پر ہے جہاں وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی رہائش گاہ سے محض چند قدم کے فاصلہ پر ہے یہ وہ علاقہ ہے جو ریڈ زون سے کم نہیں 24گھنٹے ایلیٹ فورس کی گاڑیاں بمعہ ٹیم پٹرولنگ اور سیکیورٹی ڈویژن کے جوان شفٹوں میں 8۔8گھنٹ ڈیوٹی کرتے ہیں،ایک ایریا میں قایم چیک پوسٹ سے گذرنے والا ہر شخص شناختی کارڈ چیک کر ا کر ہی آگے بڑھ سکتا ہے،اس سڑک پر داخلے کے لئے سوسائٹی کا لگایا ہوا بیرئیر روزانہ رات9.30پر بند کر دیا جاتا ہے اس بیرئیر پر بھی سیکیورٹی اہلکار شفٹوں میں کام کرتے ہیں،تمام آنے جانے والے راستوں پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں اس کے باوجود جسٹس اعجاز الاحسن رات10.35منٹ پر اپنی مصروفیات ختم کر کے گھر پہنچتے ہیں تو تقریباً6منٹ بعد ہی ان کی رہائش گاہ پر فائرنگ کا واقعہ پیش آ جاتا ہے یہ گولی مین گیٹ سے ٹکراتی ہے ڈیوٹی پر موجود رینجر اہلکار محمد سمیع جو گیٹ پر ڈیوٹی سرانجام نے اس واقعہ کی اطلاع گارڈ روم میں ملازمین ،گلی کے باہر سیکیورٹی ڈویژن کے ASIاورمعزز جسٹس کو بھی اس سنگین صورتحال سے آگاہ کیا،اس واقعہ کے بعدDIGحید اشرف ،CCPOکیپٹن(ر)امین وینس اور SSPآپریشن لاہور منتظر مہدی کے علاوہ فرانزک لیب ٹیم بھی موقع پر پہنچ گئی،اسی وجہ سے الرٹ جاری کیا گیا مگر صبع پونے دس بجے کے قریب فائرنگ کا ایک اور واقعہ پیش آیا اس واقعہ میں گولی سیدھی کچن کی کھڑکی کو جا لگی،دونوں گولیاں نائن ایم ایم کی ہیں جن کے سکے فائر آرمڈ اینڈ ٹول مارکس بھجوا دئے گئے ہیں،یہ وہ VIPPایریا ہے جہاں چڑیا پر نہیں مار سکتی مگر کوئی آئے پہلے رات اور پھر دیدہ دلیری کہ وہ دن دیہاڑے آن پہنچے ایسا واقعہ ایک دفعہ تو ہو سکتا ہے دو دفعہ نہیں شاید پیغام یہ تھا کہ ہمیں کوئی پکڑ نہیں سکتا، ان دو واقعات نے کئی طرح کے سوالات کھڑے کر دئیے ہیں،اس کے محرکات کیا ہیں ہر ایک کی سمجھ سے بالاتر ہیں،سب سے بڑا سوال ٹائمنگ کا اٹھایا جا رہا ہے کیونکہ یہ ایک فرد نہیں بلکہ پورے ادارے پر حملہ ہے،جسٹس اعجاز الاحسن ایک دبنگ جج ہیں پانامہ کیس بینچ میں شامل ہونے کے ساتھ ساتھ زیر سماعت نیب ریفرنسز میں نگران جج بھی ہیں اس کے علاوہ چیف جسٹس کے از خود نوٹس کے بیشتر کیسز میں بھی وہ شامل ہیں،جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائش گاہ پر فائرنگ کے ان واقعات کی اطلاع ملتے ہی چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار تمام اہم مصروفیات ترک کر کے ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئے انہوں نے آئی جی پنجاب عارف نواز کو بھی وہیں بلا لیا اور تمام معاملات کی خود نگرانی کی،اس دوران وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سٹاف آفیسر بھی وہاں پہنچے مگر سپریم کورٹ انتظامیہ نے انہیں جسٹس اعجاز الاحسن سے ملنے نہیں دیا،پولیس نے تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے سی سی ٹی فوٹیج حاصل کر لی ہے جبکہ جیو فینسنگ کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے جن سے ملزمان کی تلاش میں مدد لی جا سکے ،اس دوران رینجرز حکام،سپیشل برانچ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی تحقیقات کے لئے پہنچ گئے،وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے رپورٹ طلب کر لی ہے،اس واقعہ کا مقدمہ تھانہ ماڈل ٹاؤن میں کانسٹیبل آصف کی مدعیت میں نا معلوم ملزمان کے خلاف درج کر لیا گیا ہے درج مقدمہ میں دہشت گردی ،املاک کو نقصان پہنچانا اور اقدام قتل کی دفعات324 ۔427اور7اے ٹی اے شامل ہیں،واقعہ کی تحقیقات کے لئے ایڈیشنل آئی جی ویلفیر رائے طاہر کی سربراہی میں JITتشکیل دے دی گئی جس میں DIG انویسٹی گیشن چوہدری سلطان ،ایس ایس پیک انویسٹی گیشن غلام شبیر میکن،ایس پی انویستی گیشن ماڈل ٹاؤن شاکر احمد،ایس پی ماڈل ٹاؤن ندیم عباس کے علاوہ آئی ایس آئی ،ایم آئی اور آئی بی کا ایک ایک نمائندہ بھی شامل ہے،جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائش گاہ پر رینجرز کے نائیک کمانڈر تین اہلکار اور پنجاب کانسٹیبلری کے پانچ اہلکار تعینات ہیں،اس وقاعہ کے بعد تمام جج صاحبان اور جوڈیشل کالونی کی سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے،اس انتہائی عجیب و سنگین واقعہ پر پاک فوج کے محکمہ تعلقات عامہ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے ریاستی اداروں کے کام کرنے کے لئے ساز گار ماحول یقینی بنانے کے لئے تمام اسٹیک ہولڈرز کی ذمہ داری ہے جسٹس اعجا ز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کا واقعہ قابل مذمت ہے امن و استحکام کے لئے تمام کوششیں جاری رکھی جائیں گی ریاستی اداروں کے مؤثر کردار کے لئے تمام فریقین محفوظ فضا یقینی بنائیں،وکلاء تنظیموں نے جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر حملہ پر ملک بھر میں احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کیا جسے انہوں نے چیف جسٹس کی درخواست پر واپس لے لیا چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وکلاء کی ہڑتال پر عوام کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے،سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر پیر کلیم خورشید،سیکرٹری سپریم کورٹ بار صفدر تارڑ،صدر سندھ ہائی کورٹ بار محمد اسلم منگریو،وائس چیر مین پاکستان بار کونسل کامران مرتضیٰ،لاہور ہائی کورٹ کے صدر انوار الحق پنوں۔۔نے یہ اعلان کیا تھا احتاجی اعلان واپس لینے پر چیف جسٹس نے تمام بار کونسلز کا شکریہ ادا کیا،تاہم وکلاء نے ہڑتال تو نہ کی البتہ ملک بھر میں یوم سیاہ مناتے ہوئے سیاہ پٹیاں باندھ کر عدالتوں میں پیش ہوئے،وزیر اعظم شاہد کاقان عباسی نے جسٹس کے گھر پر گفائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہاذمہ داران کو جلد از جلد کٹہرے میں لایا جائے ،پی ٹی آئی سربراہ عمران خان نے کہا یہ واقعہ بہت شرمناک اور قابل مذمت ہے ججوں کو ڈارانے اور دھمکانے کے لئے سیلسن مافیا جیسے حربوں کی گنجائش نہیں ہے ہم پوری قوت سے عدلیہ اور قانون کی حکمرانی کے لئے ان کے ساتھ کھڑے ہیںPTIنے وزیر اعلیٰ پنجاب کے استعفے کا بھی مطالبہ کر تے ہوئے کہا ان کے پاس رانا ثنا ء اللہ اور خواجہ سعد رفیق اس قسم کی وارداتوں کا تجربہ اور مہارت رکھتے ہیں ،سابق صدر آصف زرداری نے کہا واقعہ کی عدالتی تحقیقات کی جائیں اور ملزمان کو گرفتار کر کے بے نقاب کیا جائے،سینئر قانون دان حامد خان نے کہا اس واقعہ کی جتنی بھی مْذمت کی جائے کم ہے حیران کن بات تو یہ ہے کہ یہ واقعہ وی وی آئی پی علاقہ میں اور وہ بھی دو بار رونماء ہوا،چیر مین سینٹ صادق سنجرانی نے مزمت کرتے ہوئے کہااس گھناؤنے فعل کی جلد انکوائری کر کے ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے،بلاول بھٹو زرداری نے کہا یہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی مگر ہماری جماعت کی جانب سے ایک پتھر بھی نہیں اچھالا گیا ،PPPنے اپنے اعلامئے میں کہا عدالتوں پر حملے مسلم لیگ(ن) کا وطیرہ رہا ہے اور یہ الیکشن کو ڈی ریل کرنے اور خود کو کرپشن مقدمات سے بچانے کی کوشش ہو سکتی ہے،چوہدری شجاعت علی اور چوہدری پرویز الہیٰ نے کہا کہ گھناؤنی واردات کے اصل ملزمان تک پہنچنے کے لئے جوڈیشل انکوائری کی جائے پوری قوم آئین اور قانون کی بالا دستی کے عدلیہ کے ساتھ کھڑی ہے اوچھی حرکتوں کے ذمہ داران کو کوئی فائدہ نہیں ہو گاآئین اور قانون کے بزدل دشمن یاد رکھیں ان کو ہتھکنڈہ کامیاب نہیں ہو گا،عوامی تحریک کے سربراہ علامہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ججز کو آئین ذمہ داریوں سے روکنے کی حرکت منظم گینگ کی سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں،جسٹس اعجازالاحسن 5اگست1960کو مری میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم لاہور میں حاصل کرنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے LLBکی ڈگری گولڈ میڈل کے ساتھ حاصل کی ان کے نمبر پاکستان بھر کی تمام یونیورسٹیوں میں تمام طلبا وطالبات سے یزیادہ تھے،انہوں نے1987میں کارنل یونیورسٹی نیو یارک سے LLMکی ماسٹر ڈگری حاصل کی ، 15ستمبر2009میں وہ لاہور ہائی کورٹ میں بطور ایڈیشنل جج مقرر ہوئے ،مستقل ہونے کے بعد وہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مقرر ہوئے پھر26جون2016 میں وہ سپریم کورٹ کا جج بن گئے ،انہوں نے اپنے شاندار کیرئیر کے دوران کئی ایوارڈز حاصل کئے جبکہ لاء کی مزید تعلیم کے لئے امریکہ ،جاپان اور چائنا کے دورے بھی کئے متعدد کانفرنسوں میں شرکت کی،ماضی میں وہ لاہور قصور اور گوجرانوالا اضلاع کے انسکپشن جج بھی رہے،فائرنگ کے روز مریم نواز نے ٹویٹ کیا کہ سچائی اپنا راہ خود راہ بناتی ہے کیونکہ ایک خدا بھی ہے،سراج الحق،سپیکر ایاز صادق،مریم اورنگ زیب سمیت متعدد سیاسی رہنماؤں نے اس واقعہ کی مذمت کی،سعد رفیق نے بھی مذمت کی مگر ان کے خطاب میں عدلیہ پر چڑھائی بھی شامل تھی،ایسا ہونا ہی تھا جب سابق وزیر اعظم کا بیانیہ ہی عدلیہ کے100فیصد مخالف تھاوہ انہیں جج نہیں بلکہ بغض سے بھرے لوگ کہتے تھے،نہال ہاشمی نے کہا تھا کہ ہم آپ اور آپ کے بچوں پر زمین تنگ کر دیں گے ،ماہرین کے مطابق اس طرح کے ہتھکنڈوں اور حملوں سے یہ نہ صرف سپریم کورٹ بلکہ دیگر اداروں با الخصوص نیب NABکے لئے بھی ہے ،لاہور میں ماڈل ٹاؤن میں اور وہ بھی وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ سے چند قدم پر ایسا ہونا ہر ذی شعور کی سمجھ سے بالاتر ہے،مگر یہ بات اب اٹل ہے کہ کرپشن،غلاظت اور ،بے ایمان لیڈروں اور لٹیروں کے لئے کوئی راہ فرار ممکن نہیں تعلق چاہے ان کا کسی بھی سیاسی جماعت یا بیوروکریسی سے ہو،لگتا ہے اب چیف جسٹس کو آئین کے آرٹیکل 190کے تحت عسکری اداروں کو اپنی سیکیورٹی کے لئے بلانا پڑے گا،منظور وٹو کی یہ بات انتہائی تشویشان تھی کہ میرا حکمران پارٹی کے ساتھ بہت وقت گذرا ہے میں ان کی سوچ کو سمجھتا ہوں ان کے نزدیک کسی کو معافی نہیں یہ انتقام پر یقین رکھتے ہیں1997میں سپریم کورٹ پر حملہ اس کی واضح مثال ہے۔