۔،۔شیطان ‘ ماہ رمضان اور حکمران ۔عمران چنگیزی ۔،۔

ماہ صوم صلوٰۃ یعنی رمضا ن المبارک اللہ کی رحمتوں اور نعمتوں کے حصول کا وہ مبارک مہینہ ہے جس میں شیطان یعنی ابلیس مقید و محبوس کردیا جاتا ہے تاکہ خلق خدا شیطان کی شر انگیزی سے محفوظ ہوکر ماہ صیام کی عبادتوں میں مشغول ہو کر اللہ کی رحمت و مغفرت کی حقدار ٹہرے اور سحر و افطار میں اپنے معبود کی تمام نعمتوں سے استفادہ کرے مگر قرائن یہ بتارہے ہیں کہ جس تیز رفتاری سے دنیا بھرمیں انسانی آبادی میں اضافہ ہورہا ہے اسی تیز رفتاری سے شیطان بھی انڈے اور بچے دے رہاہے اور پاکستان کا شمار آبادی میں تیزرفتار ترین اضافے والے ممالک میں ہوتا ہے اسلئے یہاں ابلیس کے خاندان میں اضافے کے رفتار بھی انتہائی تیز ہے اور خاندان شیطانیہ سے تعلق رکھنے والے اقتدار واختیار کے ایوانوں میں ہی نہیں بلکہ تحفظ ‘ انصاف ‘ خدمات کے اداروں اور صنعت ‘ تجارت و کاروبار کے شعبوں میں بھی نقب لگاکر اندر داخل ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے ماہ صوم صلوٰۃ یعنی رمضان المبارک مسلمانوں کیلئے اللہ کی رحمتیں ‘ برکتیں اور نعمتیں ہی نہیں بلکہ مہنگائی ‘گرانی ‘ ذخیرہ اندوزی ‘ تول میں کمی جیسی شیطانی سوغات بھی لاتا ہے اور اس بار بھی روایت کے مطابق ابھی رمضان کی آمد میں کچھ روز باقی ہیں مگر اس کے باوجود اشیائے خوردونوش و اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ناقابل برداشت اضافہ ہوچکا ہے ۔
سبزی ‘ گوشت‘ پھل ‘ آٹا ‘ دال ‘ چاول ‘ گھی ‘ چینی سمیت تمام اشیاء کی قیمتیں آسمان وکو چھوتے ہوئے عوام کی قوت خرید سے باہر ہوچکی ہیں اور عوام یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ اس رمضان میں شاید انہیں سحری کیلئے پھینی اور افطار کیلئے کھجور بھی نصیب نہ ہوسکے اور سحر و افطار دونوں ہی انہیں نمک و پانی کیساتھ کرنا پڑیں حالانکہ بیرون ملک قومی سرمائے کی منتقلی ‘ آمدن سے زائد اثاثے بنانے اور اداروں و قوم سے جھوٹ بولنے کی ماہر قرار دی جانے والی قیادت کی سیاسی جماعت کی حکومت نے اپنی آئینی مدت کے آخری لمحات میں اعدادوشمار کے گورکھ دھندے میں لپٹے غیر آئینی بجٹ میں لگائے دکھائی نہ دینے والے ٹیکسوں کے ذریعے عوام پر ستم کے پہاڑ توڑنے کے بعد سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور آئندہ انتخابات میں عوامی حمایت و ہمدردی کے حصول کیلئے رمضان پیکیج کے نام پر یوٹیلٹی اسٹورز کیلئے ایک ارب73کروڑ کی سبسڈی کی منظوری دیکر عوام کو یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ نہ تو کوئی ہم سے زیادہ ملک و قوم سے مخلص ہے ‘ نہ عوام کا ہمدر د ہے اور نہ ہی کوئی عوام کے بارے میں ہم سے زیادہ بہتر سوچ یا کرسکتا ہے مگر اس کے باوجود بھی14مئی سے رمضان پیکیج کا اطلاق ہونے کے باوجود یوٹیلٹی اسٹورز پر سبسڈائز اشیاء کی عدم دستیابی عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کررہی ہے کہ رمضان پیکج کے نام پر ایک ارب 73کروڑ کی سبسڈی کیا واقعی عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی مخلصانہ حکومتی کوشش ہے یا پھر عوام کو لوٹنے اور قومی خزانے پر ہاتھ صاف کرنے کی ایک اور روایتی سازش ہے اور اگر عوام کی سوچ باطل ہے تو پھر حکمرانوں کو یہ دیکھنا چاہئے کہ ایک ہزار سے زائد اشیاء پر ایک ارب73کروڑ کی سبسڈی کے باوجود کے رمضان پیکج کے باجود وہ کونسی قوت ‘ ادارے‘ افرادیا شخصیات ہیں جوفرزندان ابلیس کا کردار ادا کرتے ہوئے سبسڈائزاشیاء کی یوٹیلٹی اسٹورز پر ترسیل اور عوام کی فراہمی کی راہ میں رکاوٹ بن کر حکومت کیلئے مشکلات اور حکمران جماعت کیلئے بدنامی کا باعث بن رہی ہیں اور ایک ارب 73کروڑ کے رمضان پیکج پر ہاتھ صاف کرکے اپنے جد امجد حضرت شیطان کی قید کی مدت میں اس کے کار خیر کی ذمہ داریاں نبھارہے ہیں !