معروف ادیب،دانشور حیدر طباطبائی کی یاد میں بین الاقوامی سیمنار اور مشاعرہ

گوئٹے کی سرزمین جرمنی سے اردوادب کاتذکرہ ہو تو معروف شاعر،ادیب،صحافی سیّد اقبال حیدر کا نامِ نامی سننے میں آتا ہے،کیفی ؔ اعظمی،جونؔ ایلیا،علامہ اقبالؔ ،فیض احمد فیضؔ کی یاد میں شامیں ،ہیومن ویلفیر ایسوسی ایشن جرمنی اور حلق�ۂ ادب جرمنی نے نہایت پُروقار انداز میں منائیں،اسی سلسلے کی ایک کڑی فرینکفرٹ میں معروف ادیب دانشور جناب حیدر طباطبائی مرحوم کی یاد میں بین الاقوامی سیمنار اور محفل مشاعرہ کا انعقاد ہے جس میں جرمنی ہی نہیں دنیا بھر سے ادیب ،شعرا اور قلمکار وں نے شرکت کی اور مرحوم کو خراج عقیدت پیش کیا ،تقریب کے میزبان ہیومن ویلفیر ایسوسی ایشن جرمنی کے چیرمین اور حلق�ۂ ادب جرمنی کے سیکرٹری معروف شاعر ،ادیب،صحافی سیّد اقبال حیدر تھے ۔
تقریب میں جرمنی کے مختلف شہروں اور دور دراز علاقوں سے کثیر تعداد میں اردو کے شائقین شریک ہوئے ان کے علاوہ برلن سے عارف نقوی،آخن سے پروفیسر شاہد عالم،بون سے بشریٰ ملک، لندن سے اکمل سید ، زوجہ حیدر طباطبائی سدھا شرما کے ہمراہ فارسی کی معروف اُستاد پروفیسر انور رضوی صاحبہ ، ہندستان کی مشہور یونیورسٹی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی ، نئی دہلی ، سے پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین اور پروفیسر رضوان الرحمان نے بھی شرکت فرمائی ۔
تقریب کا آغاز تلاوت کلامِ پاک اور نعت رسول مقبول سے ہوا۔ اسکے بعد جناب سید اقبال حیدر نے استقبالیہ کلمات پیش کیے ۔ انھوں نے استقبالیہ خطبے میں کہا کہ گہوار�ۂ ادب لکھنؤ سے ایک ادبی ستارہ بلند ہوا اوراپنی ادبی جگمگاہت دکھا کر لندن کی خاک اوڑھ کر سو گیا، جناب حیدر طباطبائی کا انتقال علمی دنیا کے لئے ایک سانحہ ہے انھوں نے عمر بھر ادب کی خدمت جس جاں فشانی سے کی اس کی مثالیں کم ہی ملتی ہیں۔ اردو ادب کے جن ادیبوں اور دانشوروں سے اردو کی آبرو برقرار ہے وہ رفتہ رفتہ اٹھتے جا رہے ہیں مرحوم حیدر طباطبائی کی قد آور شخصیت اردو ادب میں بے مثال تھی ان کے اٹھ جانے سے اردو ادب کا جتنا زبردست نقصان ہوا ہے اس کی تلافی کے امکانات مستقبل قریب میں نظر نہیں آتے۔ معروف ادیب عارف نقوی برلن سے ایک طولانی سفر کر کے اس محفل میں شریک ہوئے جو حیدر طباطبائی کے ہم عمر ساتھیوں میں سے تھے اور لکھنو میں ایک دوسرے کے طفلی دور سے ہی واقف تھے اُنہوں نے اُن کے قلمی کارناموں پر روشنی ڈالی ۔ محترم شاہد عالم جرمنی کے شہر آخن سے معروف خوش نویس جدید آرٹ کے پروفیسر جو جرمنی کی مختلف یونیورسٹیز میں ملازمت کے فرائض انجا م دے چکے ہیں اس تعزیتی تقریب میں آخن سے شرکت کے لئے تشریف لائے ۔اُنہوں نے اپنی تقریر کے دوران الفاظ اور لیکروں کا ایسا نقشہ بنایا کہ سامعین عش عش کر اُٹھے اور حیدر طبا طبائی کو انواکھے انداز سے خراج عقیدت پیش کیا ۔اس کے سدھا شرما نے عبدالحئی راغب دہلوی کی تعزیتی نظم اپنی جادو بھری آواز میں پیش کی ۔ معروف فارسی کی اُستاد محترمہ انور رضوی صاحبہ نے ایک طولانی اور پر مغز مقالہ پیش کیا جو حیدر طباطبائی کی زندگی کے ہر گوشہ پر مبنی تھا پروفیسر صاحبہ اپنی زندگی کے معروف واقعات بھی اور تجربات بھی پیش کئے ۔پروفیسر رضوان الرحمان نے تعزیتی کلمات کے ساتھ ساتھ مہجری ادیبوں کی کاوشوں کوسراہا۔ اس کے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے معروف اردو اُستاد پروفیسر ڈاکٹر خواجہ اکرام الدین نے صدارتی خطبہ میں تقریب کے میزبان جناب سیّد اقبال حیدر صاحب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے تمام اردو والوں کی جانب سے فرض کفایہ ادا کیا ہے اس کے لیے اردو دنیا آ پ کی ممنون ہے۔فرینکفرٹ اور یوروپ میں اردو کی شمع روشن کرنے والوں کو انھوں نے خراج تحسین بھی کیا اور کہا کہ یہ زبان ہی نہیں بلکہ بر صغیر کی تہذب و ثقافت کا فروغ ہے ۔حیدر طباطبائی مشرق ومغرب کی تنقید میں ایک بڑ انام ہے ۔ان کی اردو خدمات کو اردو دنیا فراموش نہیں کرسکتی۔اس سیشن کے اختتام کے فوراً بعد مشاعرہ کا آغا ہوا۔
مشاعرے کی صدارت بین الاقوامی شہرت یافتہ خطاط اور مصور پروفیسر شاہد عالم نے کی ۔اس مشاعرے میں فرینکفرٹ ، برلن کے علاوہ دیگر مضافاتی شہروں سے شاعروں نے شرکت کی جن میں برلن کے معروف شاعر و ادیب جناب عارف نقوی ،سید اکمل ترمذی ( لندن) راشد ملک ، فوزیہ مغل، شاکر علی امجد ، اقبال حیدر،طاہر عدیم ، شفیق مراد، افضل قمر، عشرت مٹو نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا ۔ معززین شہر میں عبد المالک ، مقصود حیدر شاہ ، پرویز زیدی ، مظفر زیدی ، حماد رضوی، مسز جیوا، عطیہ حیدر، بیگم خان اور نظر حسین کے علاوہ کثیر تعداد میں محبان اردو نے شرکت کی۔
تقریب کے آخر میں چئیر مین ہیومن ویلفیر ایسوسی ایشن جرمنی اور سیکریٹری حلق�ۂ ادب جرمنی سید اقبال حیدر نے’’ حیدر طباطبائی ’’ کے نام سے ایوراڈ کی ابتدا کی اور اس سیمنار میں جرمنی اور دیگر ممالک کے ادبا و شعرا کو ا س ایوارڈ سے نواز ا اور تمام مہمانان اور سامعین کا شکریہ ادا کیا۔

رپورٹ: اکمل سیّد (جرمنی)

DSC_0834DSC_0841DSC_0847DSC_0852DSC_0855DSC_0863