دستک

atta_ur_rehman_ashraf
اے ار اشرف
خلائی مخلوق

 

 

پنجابی کی کہاوت ہے ۔۔ڈگی کھوتے توں تے غُصہ کمہار تے۔۔یعنی گدھے سے گرنے کا غُصہ بیچارے کمہار پر ۔۔دانش مندی تویہ تھی کہ اگر میاں نواز شریف تصور کرتے تھے کہ اُنکے خلاف کسی سازش کے تحت سکینڈل منظر عام ہوا ہے تو اُنہیں اداروں پر غُصہ نکالنے کی بجائے پاناما پیپرز کے خلاف کاروائی کرنی چاہیے تھی تاکہ کسی ابہام کی گنجائش نہ رہتی اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جاتا۔عدالتیں تو ہمیشہ حقائق کے مطابق فیصلے کرتی ہیں اور عدالت عُظمہ نے اُنہیں ثبوت فراہم کرنے کا پورا پورا موقع دیا مگروہ ثبوت پیش کرنے میں وہ بُری طرح ناکام رہے مگر میاں صاحب پاناما پیپرز پر برسنے کی بجائے کبھی فاضل جج صاحبان اور کبھی افواج پاکستان کے خلاف زہر اُگل رہے ہیں ابھی حالیہ اُنکے بیان نے تو پاکستانی قوم کو بہت مایوس کیا ہے کہ ایک پاکستان کا ایسا سابق وزیراعظم جو تین بار وزارت عُظمہ کے منصب پر فائز رہ چکا ہو وہ آچانک بھارتی وزیراعظم کی سی زبان بولنا شروع کر دے توقوم تو سمجھے گی کہ۔۔ دال میں ضرور کچھ کالا ہے۔۔ یہ حققت ہے کہ اقتدار کا نشہ سب نشوں سے بھاری ہوتا ہے تاریخ میں ایسے حکمرانوں کی سیاہ کاریوں کاتذکرہ ملتا ہے جہنوں نے اقتدار کی خاطراپنے بھائیوں کو قتل اور باپ کوقید میں ڈال دیا تھا پھر یہ بھی سچ ہے کہ انسان اپنی عادتوں کا غلام ہوتا ہے شاید اسی لئے پنجابی کے صوفی شاعر وارث شاہ نے کہا تھا۔۔وارث شاہ نہ عادتاں جاندیاں نے۔۔ہمارے سابق وزیراعظم جناب نواز شریف مسلسل تیس سال سیاہ و سفید کے مالک رہے ہیں اور اقتدار کے مزے لوٹتے رہے ہیں کس کی مجال تھی کہ حکم شاہی سے سرتابی کی جُرات کرے پھر اُن کے ارد گرد درباریوں اور خوش آمدیوں کی ایک فوج ظفرموج ہروقت موجود رہتی تھی جو سب اچھا کے نعرے لگا کر اُنکے ہر جائز و ناجائز فیصلے کی تائید کر دیتی تھی بلکہ ایک موقع پر تو ان خوش آمدیوں نے اُنہیں۔۔امیرالمومنین۔۔بننے کا اعلان کرنے کا مشورہ دیا تھا مگر بد قسمتی سے وہ اقتدار کے چھن جانے کی بنا پر اپنی دیرینہ خواہش کو پورا نہ کر سکے اوراُنکا خواب بس خواب ہی رہ گیا۔میں دو ماہ کی علالت یعنی ہارٹ سرجری کے بعد آج جب کالم لکھنے بیٹھا توموضوع کے انتحاب میں مشکل کا سامنا تھا مگر جیسے ہی ٹی وی پر سابق وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کی تقریر سنی توموضوع کا مسلۂ آسانی سے حل ہو گیا اُنہیں عدالت عظمہ نے تا حیات نا اہل قرار دیا ہے مگراُنہوں نے عدالت عُظمہ کے اس فیصلے کو تسلیم نہ کرتے ہوئے فوراََ ہی ۔۔مجھے کیوں نکالا۔۔تحریک کا آغاز کردیا اورہر جگہ عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش میں مصروف ہو گئے کہ اُنہیں شاید انتقاماََ وزارت عُظمہ سے فارغ کرنے کیلئے نااہل قرار دیا گیا ہے جبکہ وہ دودھ پیتے بچے تھے اور اسقدر معصوم ہیں کہ اُن پر لگائے گئے تمام الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے جناب میاں صاحب نے عوام کے سامنے ایک نیا۔۔مسلۂ فیثا غورث۔۔رکھ دیا ہے کہ اُنکا مقابلہ اب زرداری یا عمران خان سے نہیں رہا بلکہ ایک۔۔خلائی مخلوق۔۔سے ہے بچپن میں ہم سُنا کرتے تھے کہ۔۔جنوں اور بھوتوں کا وجود ہے جو ہم انسانوں کو تو نظر نہیں آتے مگر ہمارے میاں صاحب نے وزارت عُظمہ کے منصب سے نکالے جانے کے بعد۔مجھے کیوں نکالا۔کااسقدر ورد کیا کہ اب اُنہیں۔۔گیان۔۔ہونے لگا ہے اور وہ اس باطنی قوت سے۔۔خلائی مخلوق۔۔کو دیکھ بھی سکتے ہیں اور اُنہیں شکست دینے کے بھی اہل ہو گئے ہیں۔پتہ نہیں یہ مسلسل۔۔مجھے کیوں نکالا۔۔کی تسبیح کا یا پھر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے دوستی کا اثرہے کہ اب اُنہیوں نے ایسے بیانات بھی دینے شروع کردیئے ہیں جو بھارتی وزیراعظم کے موقف کی تائید کرتے ہیں اور ایسے بیان ملک و قوم کے وقار کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں پاکستان کے سیاسی اورعوامی حلقوں نے میاں نواز شریف کے حالیہ بیان کی شدید مذمت کی ہے۔ جرمنی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق صدر سیدسجاد حسین نقوی نے کہا ہے کہ میاں نواز شریف کابیان پاکستان کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے ان کے خلاف ارٹیکل چھ کے تحت کاروائی کیجائے انہوں نے کہا ووٹ کو عزت کا تقاضا کرنے والے پہلے پاکستان کی عزت کرنا سیکھیں اور اقتدار کی خاطر ملک سے غداری اوراداروں کو نقصان پہنچانیکا عدلیہ نوٹس لے۔ یہ عدالت عُظمہ کے اُن کے خلاف فیصلے کا اثر ہے یا پھر میاں نواز شریف نے اس فیصلے کے بعد اتنی ریاضت کر لی ہے اور اُنہیں اب باطنی قوت بھی حاصل ہو گئی ہے اور وہ عوام کی نظروں سے اوجل خلائی مخلوق کو بھی آسانی سے دیکھ سکتے ہیں اور اُنہیں شکست بھی دے سکتے ہیں

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے