۔،۔میر جعفروں اور میر صادقوں کا مُحاسبہ۔اے آراشرف بیورو چیف جرمنی۔،۔


پاکستان کیخلاف سازشوں کا سلسلہ تودنیا کے نقشے پر اس کے ظاہر ہوتے ہی شروع ہو گیا تھا بلکہ کچھ سیاستدان اور سیاسی جماعتیں تو پاکستان کے بننے کے ہی مخالف تھیں اور وہ کانگرس کے ہاتھوں کا کھلونا ا ور ہم پیالہ ، ہم نوالہ بنی ہوئی تھیںیہ تو قائداعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت اور دانشمندانہ سوچ اور عوامی جوش اور جذبہ کا کمال تھا کے ان کانگرسی ایجنٹوں کو عوام اوربابائے قوم نے یکسر مسترد کر دیا اور پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک حقیقت بن کراُبھرمگر جب پاکستان بن گیا تو یہی مخا لف قوتیں ۔پاکستان زندہ باد۔ کے نعرے لگانے لگیں مگر اُنکے دلوں میں منافقانہ روش ہمیشہ قائم رہی جس کا اظہار وہ اپنی تقریروں، تحریروں اور رویوں سے جناب محمود اچکزئی اور جناب منظور پشتین جیسے کردار اکثر ادا کرتے رہتے ہیں اصل میںیہ الفاظ اُنکے اپنے نہیں ہوتے بلکہ انکے غیرملکی آقا مُنہ میں ڈالڑوں کا چار ڈال کر پاکستان کیخلاف زہر اُگلوتے رہتے ہیں اور ایسے لوگ ہی دشمن کے ہاتھوں کا کھلونا بن کر کشور خداداد پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں حکومت اور پاک افواج کو ایسے میرجعفروں اور میر صادقوں کا سختی سے محاسبہ کرنا چاہیے اور ایسے دشمنان وطن کیخلاف مقدمات قائم کر کے قرار واقعی سزا دینی چاہیے اور انہیں عبرت کا نشان بنا دینا چاہیے تاکہ ایندہ کسی کو ایسے گھناونے کردار ادا کرنے کی جرات نہ ہو۔ جب سے سوشل میڈیا کی سونامی آئی ہے ایسے ایسے انکشافات ہو رہے ہیں اور ایسے ایسے رازوں سے پردے اُٹھ رہے ہیں جن کے بارے میں عام آدمی کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں ہوتی تھی آجکل سوشل میڈیا پر لبنان کی جہادی تنظیم حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ کے وہ خط موضوع بحث بنے ہوئے ہیں جس میں وہ گزشتہ کئی سالوں سے اپنے دوست راجہ ناصر عباس کو نصیحت کرتے آ رہے ہیں لیکن اس بار اُنہوں نے اپنے دوست کو وصیت کی ہے سید حسن نصراللہ اور راجہ صاحب ایک ہی مکتب کے طالب علم تھے جہاں دونوں میں مضبوط دوستی ہو گئی اپنے دوست کو تلقین کرتے ہوئے اُنہوں نے کہاکہ کبھی اپنی فوج کا ساتھ مت چھوڑنا کیونکہ دنیا بھر کی سامراجی قوتیں مسلم ممالک کی عسکری قوتوں کو ختم کر دینا چاہتی ہیں جیسا کہ لیبیا ۔عراق میں ہوا اورشام اور یمن میں ہو رہا ہے اُنہوں نے انکشاف کیا کہ اُن کے پاس بہت ساری اطلاعات ہیں کے امریکہ اور اسرائیل تمام مسلم ممالک کی افواج کو توڑ کر خطے کو از سرنو ترتیب دینا چاہتے ہیں اور اپنے اس مشن میں اُنہوں نے پاکستان کی افواج کے توڑ نے کے منصوبے کو شامل کر رکھا ہے کیونکہ پاکستان واحد اسلامی ایٹمی قوت ہونے کے ساتھ ساتھ جغرافیائی طور پر خطے کا اہم ترین ملک ہے اس کے علاوہ آبادی کے لحاظ سے بھی ایک مضبوط ریاست ہے۔انہوں خدشہ ظاہر کیا کہ خدانحواستہ دشمن اپنی سازش میں کامیاب ہو جاتا ہے تو ایران اور افغانستاں بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ اگر غیر جانبداری سے جائزہ لیا جائے تو اس حققت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان کیخلاف ہمارا ازلی دشمن بھارت اور عالمی سامراجی قوتوں کو پاک افواج ایک آنکھ نہیں بھاتیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جب تک افواج پاکستان مضبوط ہیں پاکستان کی سلامتی پر کوئی آنچ نہیں آ سکتی اس لئے دشمن ہماری افواج کو توڑنے کی سازشوں میں مصروف ہیں اور ان سازشوں میں امریکہ اور اسرائیل بھارت کی بھرپور آمداد کر رہے ہیں اور اس مقصد کے حصول کیلئے وہ اندرون ملک پاکستان میں مقیم میرجعفروں اور میر صادقوں کو ڈالڑوں کا چارہ ڈال کر استعمال کر رہے ہیں۔ جو رہتے توپاکستان میں ہیں اور کھاتے بھی پاکستان کا ہیں اور کام دشمنوں کے لئے کرتے ہیں۔حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ ایک ایسی نیک نام،باکردار اور ہردلعزیز شخصیت ہیں جو گزشتہ کئی دہائیوں سے امریکہ اور اسرائیل جیسی سامراجی اور طاغوتی قوتوں کیخلاف جہاد کر رہے ہیں اور دنیا بھر کے مسلمانوں میں بہت عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں ۔اُنکی پاکستان سے محبت اورفکر مندی کا اندازہ اُنکی اپنے دوست راجہ ناصر عباس کو کی گئی وصیت سے لگایا جا سکتا ہے پنجابی کی کہاوت ہے کہ۔نیاناں بات کرے اور سیاناں قیاس کرے ۔یعنی کسی بچے کی بات پربھی سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔گزشتہ دنوں جرمنی کے کاروباری شہر فرانکفرٹ میں دشمنان پاکستان بھارتی ایجنٹوں نے چند میرجعفروں اورمیر صادقوں کو ساتھ ملا کر پاکستان کونصلیٹ کے سامنے پاکستان کیخلاف زہر اُگلنے کی کوشش کی۔وہ جو کہتے ہیں کہ جہاں فرعون ہو وہاں اللہ تعالی موسیٰ کوبھیج دیتا ہے وہاں بھی کچھ ایسا ہی ہوا کہ صحافتی ذمداری کی ادائیگی کے لئے گئے جناب نذر حسین اور جناب شفیق کھوکھر نے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا کر اُن چند شرپسندوں کے مُنہ میں لگام ڈال دی۔لہذا حکومت پاکستان اور پاک افواج سید حسن نصراللہ کی اپنے دوست کو کی گئی وصیت پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے اور میر جعفروں اور میر صادقوں کا محاسبہ کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہماری پاک افواج دشمن کی سازشوں سے غافل نہیں اور عوام کو بھی اپنی افواج پر مکمل اعتماد اور فخر ہے۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے