۔،۔ زنجیریں ٹوٹ جاتی ہیں ۔طارق حسین بٹ شانؔ (چیرمین) مجلسِ قلندرانِ اقبال۔،۔

اپنی تخلیق سے اب تک پاکستان دو قسم کے قوانین کی آماجگاہ بنا ہوا ہے ۔آمروں کے لئے ایک قانون جبکہ سیاسی قائدین کیلئے دوسرا قانون ہوتا ہے۔ ہماری عدالتیں بھی آمروں کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہو تی ہیں جبکہ سیاسی قائدین کے خلاف فیصلے دینے میں بڑی مستعد اور انصاف پسند ہوتی ہیں۔سارے شب خونوں کو کس نے جائز قرار دیا تھا؟ کون تھا جس نے غیر آئینی اقدامات کو جائز اور آئینی بنا کر پیش کیا تھا ؟ کن کی پشت پناہی سے آمروں نے طویل حکمرانی کے ریکارڈ قائم کئے تھے؟ یہ تو ماضی کی باتیں ہیں لیکن اس وقت بھی ایک مفرور طالع آزما کو پاکستان بلانے میں کون پیش پیش تھا؟َ کون تھا جو انھیں گرفتار نہ کرنے کی یقین دہانی کروا رہا تھا؟ کون تھا جو انھیں انتخابات میں حصہ لینے کی ترغیب دے رہا تھا؟ وہ ساری سہولتیں جو کسی سیاست دان کا حق ہوتی ہیں انھیں ایک طالع آزما پر لٹانے میں کون بے تاب تھا؟وہ شخص جس پر غداری کا مقدمہ دائر ہے کون اس پر نہال ہونے کی کوشش کر رہا تھا؟ہمیں مکے دکھانے والا شخص اور ۱۲ مئی کو لاشوں کے ڈھیرلگانے والا شخص تو ہر قسم کی سہولت کا حقدار ٹھہرے لیکن وہ شخص جو تین دفعہ پاکستان کا وزیرِ اعظم منتخب ہوا س کے خلاف پورے پاکستان کی پولیس کو چوکس کیا جائے محض اس لئے کہ اسے ائیر پورٹ سے گرفتار کرنا ہے۔جو شخص خود گرفتاری کے لئے پاکستان تشریف لا رہا ہو اس کے خلاف اس طرح کا سلوک فہم و فراست سے بالا ترہے۔اگر ایک طالع آزما کو وطن واپسی پر عدمِ گرفتاری کی ضمانت ے دی جا سکتی ہے تو پھر تین دفعہ وزیرِ اعظم منتخب ہو نے والے شخص کے ساتھ امتیازی سلوک چہ معنی دارد؟طالع آزما کو پہلے ایک سابق سپہ سالار نے پاکستان سے محض اس وجہ سے فرار کروایا تا کہ اسے غداری کے سنگین مقدمہ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اس دیدہ دلیری کو کیا نام دیا جائے گا؟ کیا اسے قانون کی حکمرانی سے تعبیر کیا جائے گا؟ یا اسے عدلیہ کی جانبداری پر معمول کیا جائے گا؟طالع آزما جس کا زکر کیا جا رہا ہے وہ ہمارے بالکل پڑوس میں انتہائی عیش و عشرت کی زندگی گزار رہا ہے ۔اس کا رہن سہن اس کی آمدنی سے تال میل نہیں کھاتا لیکن اس پر تو آمدنی سے زائد اثاثے رکھنے کا مقدمہ دائر نہیں کیا گیا۔اسے پاکستان واپس لانا بڑا آسان ہے کیونکہ وہ ہمارے پڑوس میں رہتاہے اور روز ٹیلیویژن پر نمو دارہ و کر لمبے لمبے بھاشن دیتاہے۔اس کے خلاف نہ تو ڑیڈ وارنٹس ایشو ہو تے ہیں اور نہ ہی اس کے لئے انٹرپول سے رابطہ کیا جاتاہے۔اس طالع آزما کو کسی قسم کی پریشانی نہیں ہے کیونکہ طاقت کا حقیقی مرکز اس کی پشت پر کھڑا ہے اور جس کی پشت پر یہ مرکز کھڑا ہو جائے کوئی ا س کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ یہاں سیاست دانوں کی شرافت اور دیانت داری کی گواہی دینا مقصود نہیں ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ہر بار سیاست دان ہی تختۃ مشق کیوں بنتے ہیں؟ عوام بڑی محبت سے اپنے قائدین کو منتخب کرتے ہیں لیکن ایک مختصر عرصہ کے بعدا ن منتخب قائدین کو مستوجبِ سزا بنا دیا جاتا ہے۔وجہ یہ نہیں کہ سیاسی قائدین ویژن سے محروم ہو تے ہیں یا وہ صادق اور امین نہیں ہوتے بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ کچھ طالع آزما طاقت کو اپنی مٹھی میں بند رکھنا چاہتے ہیں ۔پا کستان کی ساری سیاسی تاریخ اسی چھینا جھپٹی کی داستا ن ہے ۔ جس نے اس غیر محسوس مرکز کے سامنے خود کو سر نگوں کر لیا وہ مقدر کا سکندر ٹھہرا لیکن جس نے اس مرکز سے بغاوت کی اس کا جینا دوبھرکر دیا گیا۔میاں محمد نواز شریف جب تک اس مرکز کے تابع فرمان تھے قسمت کی دیوی ان پر مہربان تھی لیکن جیسے ہی انھوں نے اس مرکز کو اپنی حدود میں رہنے کا حکم سنایا ساری بازی ہی پلٹ گئی۔کل کا وفادار باغی قرار پایا اور باغی کی سزا تو سبھی جانتے ہیں۔ ،۔دوستوتاریخ کسی جامد شہ کا نام نہیں ہوتی بلکہ یہ متحرک اور تغیر پذیر افعال کا اظہاریہ ہوتا ہے۔جمہوریت،برا بری ،حریت پسندی ،انسان دوستی اور عوامی امنگوں کا نعرہ بلند کرنے والے تاریخ کے سینہ کی دھڑکن بن کر زندہ رہتے ہیں جبکہ سازشی ،مکار اور کم ظرف انسان تاریخ کے کوڑے دان کا اثاثہ بنتے ہیں۔تاریخ ہر آن بدلتی قدروں کو سمیٹنے والوں کی مدح سرائی کرتی ہے۔یہ جی داروں اور بہادروں کو سلام پیش کرتی ہے۔یہ انسانی عظمت کے گیت گانے والوں کو اپنی پلکوں پر بٹھاتی ہے۔جمہوریت نے جس طرح اس کرہِ ارض پر اپنی افادیت کا لوہا منوایا ہے اس نے پوری انسانیت کو اپنا ہمنوا بنا لیا ہے ۔ہر قوم اور ہر ملک جمہوریت کو اپنے ملک کے لئے ترقی کی علامت تصور کرتا ہے اور اسے اپنے ہاں رائج کرنے کا قصد کرتا ہے۔کچھ طالع آزما اس فلسفے کو رائج نہیں ہونا دینا چاہتے کیونکہ اس سے ان کے ذاتی اورگرو ہی مفادات کو ٹھیس پہنچتی ہے ۔پاکستا ان معددوے چند ملکوں میں سے ایک ہے جب کی تخلیق جمہوری عمل کا عظیم نمونہ ہے۔اس کے عوام کو جمہہوری عمل سے جو محبت اور لگاؤ ہے وہ بیان سے باہر ہے۔طالع آزماؤں کے شب خونوں کے باوجود پاکستانی قوم کو جمہوریت کی راہ سے بھٹکایا نہیں جا سکتا ۔یہ قوم بے شمار حوا دث کے علی الرغم جمہو ریت سے جڑی ہوئی ہے اور اسی میں اپنی نجات اور فلاح دیکھتی ہے ۔اسے کئی مواقع پر جمہوریت سے متنفر کرنے کی کوشش کی گئی لیکن اس نے ہر بار جمہوریت کوہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا۔وقتی دباؤ اور طالع آزمائی کے تاریک لمحوں میں کچھ قائدین نے جمہوریت کے لئے جس طرح کی لازوال قربانیاں دین وہ تاریخِ انسانی کا روشن ترین باب ہیں ۔اس ضمن میں سب سے توانا آواز ذولفقار علی بھٹو کی تھی جھنوں نے ضیاا لحق کے مارشل لاء کو آٗینی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ۔انھیں جس طرح آزمائشوں سے گزارا گیا انھیں پڑھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ایک نابغہ روزگار کو طالع آزکی مخا لفت کی پاداش میں جس طرح سرِ دار کھینچا گیا وہ کسی سے مخفی نہیں ہے۔ انھیں جس طرح قیدِ تنہائی میں رکھ کر اذیتیں دی گئیں وہ ان کی جمہورت سے عظیم وابستگی کا ثبوت تھا ۔انھوں نے عوامی حاکمیت کی خاطر سر تو کٹا دیا لیکن سر جھکانے سے انکار کر دیا۔ان کی اسی ادا نے انھیں تاریخ میں ہمیشہ کے لئے امر بنا دیا۔ایک دوسری آواز محترمہ بے نظیر بھٹو کی تھی جھنوں نے اپنے عظیم باپ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے آمریت کو للکارا اور ایک ھقیقی جمہوری نظام کی خاطر جدو جہد کی۔ان کا انجام بھی اپنے باپ سے مختلف نہیں تھا ۔ان کی آواز کو ۲۷ دسمبر ۲۰۰۷ ؁ کو خاموش کر دیا گیا لیکن آفاقی نظریا ت کی حامل آواززیں کب خاموش ہوتی ہیں۔یہ ہمہ وقت فضا میں موجود رہتی ہیں اور لمحہِ مخصوص میں ہماری راہنمائی کا فریضہ سر انجام دیتی ہیں ۔انسان کی اپنی حیات میں یہ آوازیں بڑی متنازعہ ہوتی ہیں لیکن کسی بڑے مقصد کی خاطر ان کی قربانی ان کی متنازعہ حیثیت کو ختم کرکے انھیں سب کا منظورِ نظر بنا دیتی ہے ۔ جمہوریت کا وہ سفرجو قائدِ اعظم محمد علی جناح کے ہاتھوں شروع ہوا تھا اور جسے قائدِ عوام زاولفقار علی بھٹو اور دخترِ مشرق محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنے لہو سے سینچا تھا ایک دفعہ پھر حو ادث کی زد میں ہے۔کچھ غیر جمہوری طاقتیں اپنے من پسند مہروں کی مدد سے اس نظام کو تل پٹ کرنا چاہتی ہیں۔وہ ایسے افراد کو کامیابی سے ہمکنار کروانا چاہتی ہیں جو ان کی کٹھ پتلیاں بن کر ان کے اشاروں پر ناچیں اور یوں جمہوریت ایک دفعہ پھر طالع آزماؤ ں کے ہاتھوں میں یرغمال ہو جائے۔اس غیر جمہوری سوچ کے خلاف اسٹیبلشمنٹ کے پروردہ سیاست دان میاں محمد نواز شریفخم ٹھونک کر میدان میں نکل پڑے ہیں۔انھیں اس طرزِ عمل پر عدالت نے دس سال کی سزا بھی سنا دی ہے لیکن وہ جمہوری مشن سے پیچھے ہٹنے کی بجائے اسٹیبلشمنٹ کے مضبو ط گڑھ میں اپناجھنڈا گاڑھنے کے لئے برنطانیہ سے پاکستان تشریف لا رہے ہیں۔سزا کے بعد لوگ دیارِ غیر میں سیاسی پناہ کی درخواست کرتے ہیں جبکہ میاں محمد نواز شریف سزا کے بعد پاکستان پہنچ چکے ہیں۔ ان کے اندر اتنی بڑی تبدیلی ان کے جمہوریت پر بے پناہ اعتماد کی مظہر ہے۔ انھٰں یاد رکھنا چائیے کہ جس راہ کا انھوں نے انتخاب کیا ہے یہ کانٹوں بھری راہ ہے جو عظیم قربانیوں کا تقاضہ کرتی ہے۔کیا وہ ایسی قربانی دے سکیں گے؟انھیں سیانوں کا یہ قوم سدا یاد رکھنا چائیے کہ اگرانسان کا عشق سچا ہو توساری زنجیریں خود بخود ٹو ٹ جا یا کرتی ہیں اور کانٹے پھولوں کا روپ دھارلیا کرتے ہیں۔