-،-بلاول بھٹو زرداری-اے آر اشرف-،-

بلاول بھٹو زرداری کے تعارف کیلئے صرف اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اُس عظیم،بہادر اورمحب وطن شخصیت اور عالمی سیاسی راہنما شہید ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے ہیں جس نے بھارتی حکمرانوں کو للکار کر کہا تھا کہ ہمیں پاکستان کی بقا کیلئے ہزار سال تک بھی جنگ لڑنی پڑی تو ہم لڑینگئے اور اگر پاکستانی قوم کو گھاس کھا کر بھی گذارہ کرنا پڑا تو گذارہ کر لینگے مگر وطن عزیز کو ناقابل تسخیربناننے کیلئے اسے ایٹمی قوت ضرور بنائینگے پھر جیسے ہی اُنہوں نے ایٹمی پروگرام کے آغاز کا اعلان کیا توپاکستان کے ازلی دشمن بھارت سمیت امریکہ اور دوسری تمام سامراجی اور طاغوتی قوتیں اُنکی جانی دشمن بن گئیں بلکہ امریکی وزیر خارجہ جناب ہنری کسنجر نے تو اُنہیں عبرت کا نشان بناننے کی دھمکی بھی دے دی تھی مگر اُس شیر دل،محب وطن سپوت نے تمام تر دھمکیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ایٹمی پروگرام کو جاری رکھا اوراس جرم کی پاداش میں وہُ تختہ دار پر بھی چڑھ گئے ۔ مگر پاکستان کو ناقابل تسخیر بنا گئے اب خدا کے فضل و کرم سے پاکستان بھی ایک ایٹمی قوت ہے۔اسی طرح ۔بلاول بھٹو۔ شہید بی بی مخترمہ بینیظیر بھٹو کے لخت جگر ہیں اور اُس بہادر باپ جناب آصف زرداری کے فرزند ہیں جس نے شہید بی بی کا شوہر ہونے کے جُرم میں گیارہ سال جیل کاٹی مگر آمروں کے آگے سر نہیں جھکایا اور مرحوم مجید نظامی جیسے مایہ ناز صحافی نے اُنہیں ۔مرد حُر۔ کا خطاب دیاتھا پھر مخترمہ کی شہادت کے موقع پرجناب آصف علی زرداری نے ایک سچے محب وطن کا کردار ادا کرتے ہوئے پاکستان کھپے۔ کا نعرہ ایسے وقت لگایاجب سندھ میں پاکستان مخالف عناصرکو حالات خراب کرنیکے واسطے ایسے موقع کی تلاش تھی مگر جناب آصف علی زرداری نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگا کر غدارن وطن کی سازشوں کو ہمیشہ کیلئے دفنا دیا۔مخترمہ بی بی شہید نے مصائب و الم اور آمر کی تلواروں کے سایہ میں جُرات وبہادری اور صبر و تحمل سے اپنی تحریک کو جاری رکھا اورآخر کار شہید جمہوریت بنکر اس دنیا فانی سے رخصت ہو گئیں مگر مرتے مرتے ملک و قوم کو مزائیل ٹکنالوجی کا تحفہ بھی دے گئیں اگرحقائق کا دیانتداری اور غیرجانبداری سے تجزیہ کیا جائے تو پاکستان پیپلز پارٹی ایک ایسی مظلوم و بیکس سیاسی جما عت ہے جسے حُب الوطنی اور عوام سے دوستی ا ور اُنکے بنیادی حقوق کی جنگ لڑنے اوراُنکا شعور بیدار کرنے کی بھاری قیمت چکانا پڑی وہ کونسا حربہ تھا جو جنرل ضیاالحق نے پی پی پی کو ختم کرنے کیلئے استعمال نہ کیاہو یہاں تک کے بی بی شہید کا خاوند ہونے کی بنا پر جناب آصف علی زررداری کوناکردہ گناہوں کی سزا میں گیارہ سال جیل کاٹنا پڑی۔جب نومبر ۱۹۶۷ میں شہید ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا اور اپنے منشور کا اعلان کیا کہ۔۔اسلام ہمارا دین۔ سوشلزم ہماری معشت اور طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں تو اقتدار کے نشے میں سرشار قوتوں اور سٹیٹس کو ،کے متوالوں نے ہر جانب سے اُن پر یلغار کر دی اور کشور خداداد پاکستان کی سیاست دو حصوں یعنی دائیں اور بائیں بازومیں بٹ گئی پاکستان پیپلز پارٹی کو عوامی شعو ر بیدار کرنے کی سزا دی گئی اس کہاوت کو تو شاید زنک لگ چکا ہے کہ۔۔نیا نو دن اور پرانا سو دن۔۔پاکستان کے سیاستدانوں میں جناب بلاول بھٹو زرداری سب سے کم عمر نوجوان سیاستدان ہیں فارسی کی ایک کہاوت ہے جس کا ترجماں ہے عقل کا تعلق طویل عمر سے نہیں ہوتا بلکہ یہ اللہ کا خدا داد عطیہ ہوتا ہے شاید اسی لئے جب حضرت آدم علیہ السلام پر پہلی وحی نازل ہوئی حضرت جبرائیل نے کہا۔مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہیں تین چیزوں میں سے ایک کے لینے اور دو کو چھوڑنے کا اختیار دوںآدمؑ نے پوچھا وہ تین کیا ہیں۔جبرائیل نے کہا۔عقل۔حیا ا ور دین تو آدمؑ نے کہا میں نے عقل کو لے لیاجبرائیلؑ نے ۔حیا اور دین سے کہا کہ تم واپس جاؤ انہوں نے کہا ہمیں عقل کے ساتھ رہنے کا حکم ہے۔جناب بلاول بھٹو کی اب تک کی تقریروں اور بیانات کا اگر جائزہ لیا جائے تو ہمیں کہیں بھی کوئی ایسی بات نظر نہیں آتی جو اخلاقی لحاظ سے بعض دوسرے بڑے بز رگ سیاست دانوں کی طرح اخلاق سے گری ہوئی ہو جبکہ ہمارے ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کی قیادتوں کے بیانیوں ہی کا تجزیہ کیا جائے تو ایک تو گلی گلی یہ دہائی دیتا پھر رہا ہے اور عوام سے پوچھ رہا ہے کہ۔مجھے کیوں نکالا۔یعنی امیرالمومنین کا خواب دیکھنے والے کوابھی تک یہ بھی نہیں پتہ چل سکاکہ اُسے کیوں نکالا گیا اور ۳۵ برس تک حکومت کرنے والی جماعت کا یہ بیانیہ بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ۔ووٹ کو عزت دو۔یعنی اُنکی دلچسپی اب بھی ووٹ تک محدود ہے۔۔ووٹر جائے جہنم میں۔۔دوسری ایک جماعت کا کام ہی مخالفین کو گالیاں دینا ہے عوام بیچاری کے مسائل کی بات شاید ان دونوں کے منشور میں شامل نہیں پھر کپتان نے تو نوجوان قیادت کو آگے لانے کا دعویٰ کیا تھامگر جب ٹکٹوں کی تقسیم کا مرحلہ آیا تو انہوں نے سب چلے ہوئے کارتوسوں ہی کواہمیت دی میری نظر میں جناب بلاول بھٹو ہی واحد سیاستدان ہیں جو عوامی مسائل کی بات بھی کرتے ہیں اور نوجوانوں کی نمائندگی کے بھی حقیقی حقدار ہیں ۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے