۔،۔پاکستان جرمن پریس کلب اور یادِ رفتگان۔اے آر اشرف بیورو چیف جرمنی۔،۔

مو لائے کائنات حضرت علی علیہ السلام کا فرمان ہے کہ وہ لوگ بہت مقدر والے ہوتے ہیں جہنیں دو چیزیں میسر آتی ہیں۔ایک مخلص دوست اور دوسری ماں کی دعائیں اور ہمارے دیرینہ دوست اور۔پاکستان جرمن پریس کلب کے بانی اور پہلے صدر شیخ مظفر الحسن مرحوم بھی اس لحاظ سے انتہائی مقدر والے تھے کہ یہ دونوں چیزیں اُنکے حصہ میں آئیں یعنی مخلص دوست بھی ملے جو آج بھی اُنکی خدمات کا اعتراف کرتے ہیں جسکا ثبوت آجکی محفل کے اہتمام سے لگایا جا سکتا ہے اور ماں کی دعائیں تو ہر ایک کے نصیب میں ہوتی ہی ہیں۔وہ اپنی مرحومہ ماں سے بھی بے پناہ محبت کرتے تھے اور اسی محبت کے اعتراف میں اُنکے نام پر جرمنی سے۔ ماہنامہ نصرت۔کا آغاز کرکے اپنی صحافیانہ ذمہ داریاں ادا کرتے رہے۔ میری نظر میں وہ لوگ بھی بہت عظیم اور قابل تعریف ہوتے ہیں جو اپنے بچھڑ جانے والے ساتھیوں کی یادوں کو سینے سے لگائے رکھتے ہیں اور رفتگان کی یاد میں ایسی تقریبات کا اہتمام کرکے اُنہیں خراج تحسین پیش کرنے میں فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔۲۰۰۸ کو جرمنی میں مقیم پاکستانی صحافیوں نے محسوس کیا کہ جرمنی میں صحافیوں کا ایک ایسا پلیٹ فارم ہونا چاہیے جو نہ صرف صحافیوں کے بلکہ پاکستانی کمیونٹی کو اکٹھا کرنے اور اُن کے تمام مسائل کے حل کا باعث بنے۔۔پاکستان جرمن پریس کلب۔۔جس کی آج ہم دسویں سالگرہ منا رہے ہیں اسکے قیام میں کلیدی کردار شیخ مظفر الحسن مرحوم کا تھا جہنوں اپنی انتھک محنت سے تمام صحافیوں کو یک جا جمع کیا اور آج جو بیج اُنہوں نے بویا تھا وہ اب تناور درخت کی صورت میں سب کے سامنے ہے آج وہ اگرچہ ہم میں موجوو نہیں مگر جب تک اس ۔کلب ۔کا وجود ہے شیخ صاحب کا نام اس سے ہمیشہ جُڑا رہے گا۔میں اس موقع پر۔ اپنے پریس کلبَ کے موجودہ صدر جناب سلیم پرویز بٹ اور جملہ اراکین کو پاکستان جرمن پریس کلب کے قیام کی دسویں سالگرہ کے موقع پر کامیاب اور پُر وقار تقریب کا اہتمام کرنے پر مبارک باد پیش کرتا ہو ں جو انہوں نے شیخ صاحب کی وفات کے بعدبڑے اَحسن انداز سے اپنی ذمہ داریوں کو نبھایا اوروہ پریس کلب کے مقاصد اور جناب شیخ صاحب مرحوم کے ویژن کو عملی جامہ پہنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔مرحوم بہت ساری خوبیوں کے علاوہ مقناطیسی شخصیت کے حامل تھے اوروہ بے پناہ ادبی ذوق بھی رکھتے تھے اور ادبی پروگراموں کے انععقاد میں وہ ہمیشہ سید اقبال حیدر کے دست راست رہے اور بہترین ادبی محفلیں منعقد کرانے میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔میں ۱۹۷۰ سے اُنہیں جانتا ہوں ہم دونوں نے صحافتی میدان میں تقریباََ اکٹھے ہی قدم رکھا بنیادی طور پر وہ نظریاتی اور انقلابی ذہن رکھتے تھے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے زبردست جیالے بھی تھے اور اسی انقلابی ذہن نے انہیں جنرل ضیاالحق جیسے جابر حاکم کے خلاف سید عباس اطہر مرحوم کے ساتھ ملکر وائٹ پیپر چھاپنے پر مجبورکیا اوراسی جرم میں انہیں ملک سے فرار ہونا پڑا اور جرمنی میں سیاسی پناہ لینا پڑی۔جناب سلیم پرویز بٹ نے پاکستان جرمن پریس کلب کے دیگر اراکین کی مشاورت سے جب شیخ صاحب کی ان خدمات کے اعتراف میں صحافیوں اورر فقا کو انکی کارکردگی پر شیلڈیں اوراسناد تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا تو سب اراکین نے اس اقدام کو سراہا اوراس سلسلے میں روسلز ہائم میں جناب علی بھائی کے ہوٹل میں ایک شاندار اور پُروقار تقریب کا اہتمام کیا اس موقع پر قونصل جنرل اف پاکستان جناب ندیم احمد نے پریس کلب کومُثبت کردار ادا کرنے پر مبارک دی انہوں نے کہا دیار غیر میں مقیم تارکین وطن کے ساتھ رابطوں اوراُنکے مسائل کے حل کے لئے۔پریس کلب۔ایک موثر اور قابل تحسین ذریعہ بن چکا ہے اوریہ جرمن لوگوں سے رابطوں میں بھی ایک اہم کردارادا کر سکتا ہے اُنہوں نے مرحوم کے صاحبزادے بلال الحسن کو مخاطب کرکے کہا آپ لوگ انتہائی مقدر والے ہیں کہ آج جبکہ آپ کے والد ہم سے بچھڑ چکے ہیں مگر لوگ اُنہیں محبت اور عقیدت سے یاد کر رہے ہیں۔استقریب کی نظامت کے فرائض پریس کلب کے سیکرٹری جنرل سید رضوان شاہ نے ادا کئے تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام سے ہوا سید محسن رضا نے انتہائی خوش اِلحانی سے تلاوت کلام پاک کرکے سامعین کے ایمان کوسکون بخشا ۔شیخ صاحب کے دیرینہ ساتھی اور پریس کلب کے نائب صدر سید اقبال حیدر بیماری کی وجہ سے تقریب میں شرکت نہ کر سکے اُنہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ آج شیخ صاحب مرحوم مجھے شدت سے یاد آ رہے ہیں مگر خوشی اس بات کی ہے کہ جوپودا اُنہوں نے لگایا تھا وہ اب تناور درخت بن چکا ہے۔کالم میں اتنی گنجائش نہیں کے سب اظہار خیال کرنے والوں کی مکمل گفتگو تحریر کر سکوں میرے سمیت جن احباب نے اظہار خیال کیا اُن میں شان پاکستان کے چیف ایڈیٹر اور شیخ صاحب کے دیرینہ دوست جناب نذر حسین،پی پی پی جرمنی کے سابق صدر سید سجاد حسین نقوی،کارسروہے سے جناب محمدرفیق اور جناب نظام دین چشتی شامل ہیں ۔جن خوش نصیبوں کو قونصل جنرل پاکستان جناب ندیم احمدنے شیلڈیں اور تعریفی اسناد تقسیم کی اُن میں پاکستان ایسوسی ایشن کے صدر سید وجیع الحسن جعفری۔جناب محمدرفیق۔جناب ظہور احمد۔جناب اظہرکیانی ۔مخترمہ رابعہ جنجوعہ۔جناب نذر حسین۔سید محسن رضا۔سیدرضوان رضا۔سید شجاعت زیدی۔سید اقبال حیدر۔جناب سلیم پرویز بٹ اور میرے علاوہ شیخ صاحب کے بیٹے کو اُسکے باپ کی خدمات کے اعتراف میں شیلڈ اور تعریفی سند پیش کی گئی اخر میں سید وجیع الحسن نے شیخ صاحب کی مغفرت کیلئے دعا کروائی۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے