-،-نفس مفتوح-طاہرہ رباب الیاس-،-

نصیب ہو وہ ترتیب زندگی جو ہمیں پہنچا دئے حیات ابدی کے مقام حقیقی اور اسکے شعور مستند تک اور ہمیں سکون و طمانیت قلبی سے آراستہ و پیراستہ کر دئے جس سے ہم سمجھ لیں کہ خوش نصیبی کسے کہتے ہیں اور وہ ہمارا محض چلن زندگی نہیں بلکہ چلن حیات بن جائے۔ زندگی کو ایک طے شدہ وقت معین تک رواں رہنا ہے مگر حیات ہمیشہ باقی رہنے والی ہے جسے اپنے مرکز میں واپس پلٹ کر ایک ہو جانا ہے۔ جیسا خود خالق نے فرما دیا کہ یاد رکھنا تم مجھ سے آئے اور مجھ ہی میں واپس پلٹنا ہے۔
اسی زندگی میں نفس کو فاتح نہیں مفتوح بنانا ہے ۔ ہر حال کو اپنے رب کی عطا جاننا اور اس کو قبول کر کے اگے بڑ ھنے سے راہ اسان اور سفر پر لطف بن جاتا ہے ۔ راضی بہ رضا-محض ایک جملہ نہیں بلکہ ساری زندگی کی خوشی سکون و راحت طمانیت قلب اور نشہء حیات ابدی کے حصول کا کامل لائحہ عمل ہے۔ اسکی انتہا کو پا کر اس پر عمل پیرا ہو کر زندگی پھولوں کی سیج اور حسین تجربہ حیات جاوداں بنا لینے کی توفیق نصیب ہو جائے۔ یہ اس زندگی کے ہر سکھ اور سکون کا راز ہے۔ خدا آپکو یہ وجدان عطا کرئے اور آپ زندگی کے ہر لمحہ کو بنا کسی شکوہ و شکایت، بنا کسی غم وافسوس کے درد سے مجروح ہونے کے قبول کر سکیں اور زندگی نشہء کمال خلقت کی آگاہی سے گزاریں۔ (ابھی جاری ہے)