-،-” پاکستان تحریک انصاف۔ایک تنقیدی جائزہ”منور علی شاہد-،-


یورپین یونین سمیت تمام بڑی طاقتوں نے 2018 انتخابات کے نتائج کو تسلیم کر لیا ہے ملکی سیاست میں دھاندلی اور بد انتظامی دونوں ہر انتخابات میں نظام کا حصہ رہے ہیں اور اس بار بھی ایسا ہوا ہے تاہم عقلمندوں کو جلد ہی سمجھ آگئی اور انہوں نے اسمبلیوں میں جانے کا دانشمندانہ فیصلہ کرلیا۔ ذیل کی سطور میں ان اسباب اور وجوہات کو سپرد قلم کرنا مقصود نہیں جن کاتزکرہ دیگر جماعتوں نے کیا ہے بلکہ پی ٹی آئی پر قلم اٹھانا ہے کہ وہ کیسے اٹھی اور کیسا کیسا سفر کیا۔پاکستان تحریک انصاف بہت سے پہلووں سے منفرد تاریخ اور واقعات اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے اور اس کی جدوجہدکا سفر کہیں بہت سست دکھائی دیتا ہے تو کہیں ایک دم عروج کی انتہا بلندیوں تک پہنچتا دکھائی دیا ہے پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد25اپریل1996کو رکھی گئی تھی اور2018کے عرصہ کے دوران چار انتخابات منعقد ہوئے۔سب سے پہلے تحریک انصاف نے2002کے انتخابات میں حصہ لیا تھا اور قومی اسمبلی میں صرف ایک نشست حاصل کی جو خود عمران خان کی تھی جو انہوں نے میانوالی سے جیتی تھی اور یہی پی ٹی آئی کی پہلی نشست بھی تھی اسی طرح اس وقت کے صوبہ سرحد میں بھی محض اس کو ایک ہی نشست مل سکی تھی اور اس کے حاصل کردہ ووٹوں کی تعداد محض0.8 تھی اس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اپنے قیام کے صرف چھ سال بعد اس کا سیاسی سرمایہ صرف دو نشستوں پر مشتمل تھا۔ 2008 کے انتخابات میں تحریک انصاف نے حصہ نہیں لیا تھا اور بائیکاٹ کیا تھا یوں اس کی طاقت کا اندازہ ریکارڈ نہ ہوسکا تھا لیکن عمران خان کی سیاسی جدوجہد اور عوامی رابطوں کی مہم جاری رہی اور عمران خان کی توجہ عام پاکستانیوں اور خصوصا متوسط طبقہ اور نوجوانوں پر مرکوز رہی اور یہی وہ ووٹرز تھے جن کو ماضی میں تین دہائیوں سے نظر انداز کیا جاتا رہا گویا یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ عمران خان کی طرف سیاسی طور پر جھکنے والے یہ طبقہ کبھی ن لیگ اور پی پی پی کے ساتھ رہا ہو گا 2013 کے انتخابات ہوئے اس میں تحریک انصاف نے بھرپور طریق سے شرکت کی بطور سیاسی جماعت تحریک انصاف کا یہ تیسرا انتخاب تھا اس انتخاب میں پہلی بار تحریک انصاف ایک بڑی سیاسی قوت کی شکل میں سیاسی افق پر نمودار ہوئی اور متعدد پہلووں سے اس نے عالمی اور ملکی سیاسی طاقتوں کی نظر میں اپنا مقام بنایا۔ مثال کے طور پر 2013 میں تحریک انصاف قومی اسمبلی میں معقول تعداد میں سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی جس سے اس کی سیاسی پوزیشن مزید بہتر ہوئی، ووٹوں کی حثیت میں ملکی سطح پر دوسری بڑی جماعت بنی، ایک صوبے میں اس کی اپنی حکومت بنی، عام ووٹروں کے لحاظ سے دوسری بڑی جماعت کا مقام حاصل کی پنجاب میں دوسری بڑی جماعت کے روپ میں سامنے آئی اور سندھ میں تیسری بڑی جماعت کے طور پر ابھری تھی،اس انتخاب میں پی ٹی آئی نے 7.5ملین ووٹ حاصل کئے تھے مسلم لیگ ن کا گزشتہ آخری دور عمران خان کے لئے ایک ایسی سیاسی لیبارٹری ثابت ہوا ہے جس میں تحریک انصاف نے کامیابی کے لئے یکے بعد دیگرے متعدد کامیاب تجربے کئے جس میں پاناما کا تجربہ جو سیاسی ایٹم بم کے دھماکے سے کم نہیں تھا، نے تحریک انصاف کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا۔تحریک انصاف اور خود عمران خان پر سیاسی طبقوں اور عالمی میڈیا کی طرف سے یہ الزامات بھی لگے کہ ان کو اسٹیبلیشمنٹ،عدلیہ اور دیگر اداروں کی پشت پناہی بھی حاصل رہی ہے اور عدلیہ کے متعدد فیصلوں نے ان شک و شبہات کو تقویت بھی بخشی ۔یہ بات بھی تجزیہ نگاروں اور سیاسی پنڈتوں نے واضع طور پر نوٹ کی کہ پی ٹی آئی کی کامیابی کی راہ ہموار کرنے کےلئے مذہب کو بھی استعمال کیا گیا اور متعدد نئی ممنوعہ جماعتوں کو انتخاب میں شرکت کی اجازت دی گئی اس طرح دیگر جماعتوں کے ووٹ بنک کو متاثر کیا گیا ہے اس قسم کی سب باتیں اپنی جگہ پر موجود ہیں لیکن کچھ معاملات میں عمران خان کی اپنی ذاتی اہلیت اور قابلیت اور ان کے سیاسی ایجنڈے نے ہی ٹی آئی کی بہت مدد کی ہے جس کی وجہ سے پی ٹی آئی محض دو انتخابات کے بعد ہی تیسرے انتخاب میں نہ صرف مرکز بلکہ سب سے بڑے صوبے پنجاب میں بھی حکومت بنا رہی ہے۔ تحریک انصاف کے سربراہ نے پولیٹیکل سائنس، اکنامکس اور فلسفہ میں ماسٹرز کی ڈگریاں لے رکھی ہیں اور ان کی زندگی کا بہترین اور بڑا حصہ ان ممالک میں گزرا ہے جہاں سیاسی بنیادوں پر شہریوں کے ساتھ امتیازی رویوں کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی اور وہاں کرپشن اور رشوت سمیت دیگر سماجی برائیاں ایک لعنت اور سنگین جرم تصور کی جاتی ہیں پاکستان کے اندرونی مسائل سے بخوبی جان چکے ہیں اور بیرون ممالک میں انسانی ترقی اور فلاح کے طریقوں سے بخوبی واقف ہیں پی ٹی آئی نے کے جلسوں میں عام آدمی اور متوسط طبقوں کے مسائل کے حل کو منشور کے طور پر استعمال کرکے نہ صرف نوجوان بلکہ خواتین کی توجہ حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے حقیقت میں ن لیگ اور پی پی پی کی حکومتوں نے اپنی ذمہ داریوں میں جو غفلت برتی،خاص طور پر لوڈشیڈنگ کے حوالے سے، اس کا تمام فائدہ تحریک انصاف کو پہنچا ۔ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کی سہولیات نے دور دراز کے ان شہریوں کو بھی شعور بخشا ہے جو سکولوں میں جانے سے محروم رکھے گئے تھے اس جدید ترین دور میں اب یہ ممکن نہیں رہا کہ کوئی بھی بات دیر تک لوگوں سے چھپی رہے لہذا سب کے کرتوت فورا ہی منظر عام پر آجاتے ہیں۔ پی ٹی آئی نے 22کی جدوجہد کے بعد اب جو حکومت حاصل کی ہے اس کا کڑا امتحان اگلے پانچ سال کے ہیں اور ان میں بھی پہلے سال کی کارکردگی اس کے مستقبل کا فیصلہ کردے گی۔ تحریک انصاف کو ایک سخت اپوزیشن کا سامنا ہوگا جو ہر قسم کا تجربہ رکھتے ہیں خاص طور پر پی پی پی کے لئے یہ ایک ازمائش ہوگی کہ وہ اب تحریک انصاف کو کیسا موقع دیتی ہے پانچ سال پورے کرنے کا، اس نے نواز شریف کا مکمل ساتھ دیا ماضی میں اور ہر بار نقصان ہی اٹھایا اب جب کہ تحریک انصاف کو عوام کی ایک بڑی تعداد نے ووٹ دیئے ہیں تو اس موقع پر عوام کی سیاسی ہمدردیاں جیتنے کا اہم موقع ملا ہے لیکن اگر وہ ن کا ساتھ دیتی ہے تو یہ بھیانک سیاسی غلطی ہوگی کیونکہ ن لیگ اب اپنے منطقی انجام تک پہنچ چکی ہے کیونکہ موجودہ سیاسی و دیگر حالات اس کے خاتمہ کی شنید دے رہے ہیںپی ٹی آئی کے منشور کا بنیادی نقطہ عدل و انصاف پر مبنی معاشرہ کی تشکیل ہے جس کا ذکر بانی پاکستان بھی کرتے رہے ہیں لیکن دیکھنا یہ ہے کہ بڑے بڑے جلسوں میں خاص کر عمران خان نے انتخابات جیتنے کے بعد جو تقریر کی تھی اس پر کس حد تک عمل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیںتحریک انصاف کے ساتھ کسی قسم کی وابستگی سے بالاہوکر مجھے یہ کہنے میں کوئی ہچکچہاہٹ نہیں کہ پی ٹی آئی کی کامیابی کے بعد عمران کا کو عالمی سطح پر جس طرح کی پزیرائی ملی اور ڈالر دھرام سے نیچے گرا،اس سے عوام یہ امید رکھنے میں حق منجانب ہیں کہ شاید اچھے دن زیادہ دور نہیں۔عالمی سطح پر پاکستان کو معاشی اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے جس طرح کے بحرانوں کا سامنا ہے اس سے نجات کے لئے ایسی ہی حکومت اور سیاسی جماعت کی ضرورت ہے جو ہر قسم کے خود نمائی کے کلچر کو دفن کردے، عالمی تقاضوں کو سمجھے، انتہا پسندی اور دہشتگردی کے خاتمہ میں ایک اور دوٹوک پالیسی اختیار کرے اور غیر ملکی سیاحوں کی آمد کے بند راستوں کو کھولدے ۔