۔،۔۔بلاول پھر بازی لے گئے۔اے آ ر اشرف بیورو چیف جرمنی۔،۔


میں نے اپنے کسی کالم میں لکھا تھا کہ عقل و دانش اللہ تعالیٰ کا وہ لاجواب تحفہ ہے جس کا تعلق طویل عمر یا تجربہ سے نہیں بلکہ رب العزت اپنی شان کریمی اور خاص مہربانی سے جسے چاہتا ہے عنائت فرماتا ہے سرکار دوعالمﷺکا ارشاد ہے کہ۔میں علم کا شہر ہوں اورعلیؑ اسکا دروازہ ہیں۔یہ حدیث حضورﷺ نے اُسوقت ارشاد فرمائی تھی جب حضرت علیؑ اصحاب رسولﷺ میں سب سے کم عمر تھے میرا اس حدیث کے بیان کرنے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی کو عزت دیتا ہے تو اُسے عقل و دانش کی دولت بھی عطا فرما دیتا ہے یہ اب اُس فرد پر منحصر ہے کہ وہ پیروی رحمان کی کرتا ہے یا شیطان کی۔اس بار قدرت جناب عمران خاں پر مہرباں ہوئی ہے اُنہیں کام کرنے کا موقع دینا چاہیے اگر یہ شیطان کے پیروکار بنے تو میاں نواز شریف کی طرح رحمان کی پکڑ سے بچ نہیں سکیں گے۔ پھر کچھ چیزیں قدرت انسان کو وراثت میں عطاکرتی ہے جسے سائنس کی زبان میں جین کا ۔نام دیا گیا ہے جناب بلاول بھٹو زرداری کو بھی کچھ چیزیں وراثت میں ملی ہیں انکے نانا شہید ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے وہ بہادر اور محب وطن سپوت تھے جہنوں نے پاکستان میں پہلی اسلامی کانفرنس کاانعقاد کرکے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا تھا اور پھر سامراجی قوتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کے جنون میں خود تو تختہ دار پرچڑھ گئے مگر مرتے مرتے پاکستان کو ناقابل تسخیر ایٹمی قوت بنا گئے مگر سامراج کے سامنے سر نہیں جُھکایا اور ماں ایسی جس کے سیاسی کردار کو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا نے بھی تسلیم کیا اور آخرکار اُنہیں کشور خداداد پاکستان میں جمہوریت کے نفاذ کی جدو جہد میں ایک سازش کے تحت لیاقت باغ راولپنڈی میں شہیدکر دیا گیا اور شہید جمہوریت کے لقب سے سرفراز ہوئیں اور پاکستان کو میزائل ٹکنالوجی کا تحفہ دے گئیں اور باپ ایسا جسے مفاہمت اورسیاسی میدان کا شہنشاہ تصور کیا جاتا ہے بلکہ بقول شیخ رشید وہ سیاست کا چھٹا بحری بیڑا ہیں اور یہ بات اُنہوں صدر پاکستان کا انتحاب جیت کر ثابت بھی کر کیدکھا دی کہ بالکل سادہ اکثریت کے باوجود پانچ سال حکومت کی مگر جمہوریت کو پٹری سے نہیں اُترنے دیا اور نہ ہی اپنے دور اقتدار میں کسی کے خلاف کوئی انتقامی کاروائی کا ارتکاب کیا۔وہ جو کہتے ہیں بد سے بدنام بُرا کے مترادف۔ پاکستان مسلم لیگ ن۔نے انہیں بدنام ،راشی اورمتنازعہ شخصیت ظاہر کرنے کیلئے سیف الرحمان جیسے بدنام زمانہ شخص کو انکے پیچھے لگا دیا تھااوراُنکو انتقامی کاروایوں کانشانہ بنایا گیا اور انکی زبان تک کاٹنے کی بھی کوشش کی گئی اور طرح طرح کے الزامات کے ساتھ ساتھ اُن پر مقدمات کی بھی بھرمارکردی گئی مگروہ۱۱ سال تک اپنے نا کردہ گناہوں کی سزا بھگتے رہے اور جُرات اور بہادری سے جیل کی صوبتیں برداشت کرتے رہے یہ دیکھ کر مرحوم مجیدنظامی جیسے جید صحافی نے اُنہیں۔مرد حر۔کا خطاب دیا۔اور مخترمہ کی شہادت کے بعد جب سندھ میں حالات انتہائی کشیدہ صورت اختیار کرنے والے تھے اس وقت ایک محب وطن شہری کی طرح۔پاکستان کھپے۔کا نعرہ لگا کر پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے والوں کے تمام خواب چکنا چور کر دیئے یہ حققت ہے کہ پی پی پی نے ہر امر کیخلاف اپنی جد وجہد جاری رکھی۔ میں ذاتی طور پر جناب بلاول بھٹو اور انکے والد جناب آصف زرداری دونوں کو بس اتنا ہی جانتا ہوں کہ ایک پی پی پی کے چیرمین ہیں اور دوسرے پاکستان کے سابق صدر تھے مگر ان د ونوں سے ملاقات کا کبھی اتفاق نہیں ہوا میں نے جو کچھ بھی ان کے بارے میں لکھا ہے اخبارات کے حوالے سے لکھا ہے ۔جناب بلاول بھٹو زرداری سیاستدانوں میں سب سے کم عمر سیاستدان ہیں اُنہوں جب سے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا ہے کبھی بھی اور کسی بھی جگہ اپنے سیاسی مخالفین کیخلاف بیہودہ اور غیرپارلیمانی زبان استعمال نہیں کی بلکہ کراچی میں جب تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی ایک ہی جگہ پر جلسہ کرنے پر بَضد تھے تو جناب بلاول نے اجازت ہونے کے باوجود تحریک انصاف کیلئے جگہ چھوڑ کر بردباری اور بالغ نظری کا ثبوت دیا اب پھرجب حالیہ انتحابات میں دھاندلی کا الزام لگا کر متحدہ اپوزیشن نے اسمبلیوں کے بائیکاٹ کا ارادہ کیا تو اس موقع پر جناب بلاول بھٹو نے اپنے مُثبت کردار سے تمام سیاسی جماعتوں کو اسمبلیوں کے بائیکاٹ کے فیصلے کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔اور تمام سیاسی جماعتوں کو قائل کیا کہ انتحابات صحیح ہیں یا غلط وہ ایک علیحدہ ایشو ہے اس وقت عوام نے عمران خان کو مینڈیٹ دیا ہے اُسکا اخترام ہونا چاہیے اور تحریک انصاف کو حکومت بنانے کا موقع ملنا چاہیے اور پھر انہوں نے اپنے تمام بزرگ ساتھیوں اورکشور خدا داد پاکستان کے جید اور اپنے آپ کو عقل کل سمجھنے والے اُن تمام بزرگ سیاستدانوں کو اس بات پر قائل کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ ہمیں اپنی یہ جنگ لڑنے کیلئے پارلیمنٹ کے محاذ کو کسی صورت خالی نہیں چھوڑنا چاہیے انہوں نے کہا ہم سب ملکر ملک و قوم کی ترقی کیلئے مضبوط اپوزیشن کا کردار ادا کر سکتے ہیں کیونکہ پاریمنٹ کی مضبوطی میں ہی جمہوریت کی بقا ہے ۔ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام سیاستدانوں کو ملک وقوم کی ترقی وکامرانی کیلئے مخالفت برائے مخالفت کی بجائے مُثبت کردار ادا کرنے کی توفیق دے آمین ثم آمین

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے