-،-جشنِ آزادی ۲۰۱۸اور یوم دفاع-اے آر اشرف-،-

یوم دفاع ہو،۲۳مارچ یاپھر یوم آزادی کی تقریبات پاکستان کی طرح دیار غیر میں بسنے والے تمام پاکستانی اپنے قیام پاکستان کی تحریک کے موقع پر شہید ہونے والوں اور وطن عزیز کی بقا کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہیدوں کی عظیم قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرسکتے ۔ان خاص دنوں کے حوالے سے دیار غیر میں مقیم سب اہل وطن اپنے تمام تر مذہبی، لسانی اور سیاسی اختلافات کوبالائے طاق رکھ کر تمام شہیدوں کو خراج عقیدت بھی پیش کرتے ہیں او ر یوم دفاع،۲۳مارچ اور جشن آزادی کی تقریبات سب ملکر پوری آن شان،پُر وقار اور ملی جوش و جذبے سے سرشار ہو کر مناتے ہیں لیکن یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ گزشتہ سالوں کی نسبت ہر سال عوامی جوش و خروش اور جذبے میں دن بدن مزید بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے اس بارجگہ جگہ اور قریہ قریہ پاکستانیوں نے جشن آزادی کی اکہترویں سالگرہ کا کیک کا ٹ کر اور رنگا رنگ پروگرام ترتیب دیکر بڑوں ،بچوں اور خواتین نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اورایک دوسرے سے گلے ملکر اپنی محبتوں اور خوشیوں کے پھول نچھاورکئے اور وطن کے دفاع میں جان نثار ہونے والے شہیدوں کیلئے دعائیں کیں۔فرانکفرٹ میں پاکستان قونصلیٹ جنرل جناب ندیم احمد نے اہل وطن کی بہت بڑی تعداد کے ساتھ ملکر پرچم کشائی کا فریضہ ادا کیااور اُنکے اعزازمیں ضیافت دی۔جرمنی فرانکفرٹ میں ہمیشہ کی طرح اس بار بھی جشن آزادی کی مناسبت سے ایک انتہائی پُرکشش، منفرد اور سب سے بڑے اجتماع کا اہتمام فرانکفرٹ ہارہائیم کے ایک بڑے ہال میں پاکستان ایسو سی ایشن جرمنی کے صدر سید وجیع الحسن جعفری اور اُنکی ٹیم نے کیا۔ سید وجیع الحسن جعفری بنیادی طورپر پاکستان پیپلز کے جیالے ہیں مگر جہاں کہیں پاکستان کی عزت و وقار کا معاملہ ہو وہ تمام سیاسی ناتے توڑ کر ایک سچے اور محب وطن پاکستانی کا کردار ادا کرتے ہیں اس لحاظ سے وہ سرسے پاؤں تک سچے اورکھڑے پاکستانی ہیں اور ہر ایک کے غم اور خوشی میں شریک ہوتے رہتے ہیں اور یہ کہنا غلط نہ ہو گا وہ جرمنی کی معروف اور ہردلعزیز شخصیت مانے جاتے ہیں۔ہم بات یوم دفاع اور جشن آزادی کے حوالے سے کر رہے تھے۔ آزادی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی اور مُتبرک نعمت ہے جو ہمارے آبا و اجداد کی قربانیوں کا ثمرہ ہے جسکی لذت کا اندازہ اُن آزاد اور محکوم اقوام کے طرز زندگی کے فرق سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے جب ہم مقبوضہ کشمیر ،فلسطین ،بھارت اوربرما کے مسلمانوں کی زَبُوں حالی دیکھتے ہیں جہاں وہ آزادی کے حصول کے لئے جاری تحریک میں ابتک لاکھوں جانوں کی قربانیاں دے چکے ہیں اور ابھی تک اُنکی جد و جہد جاری ہے اور نہ جانے کتنی مزید قربانیوں کا نذرانہ اُنہیں پیش کرنا پڑتا ہے مگر ابھی تو وہ ریاستی جبر و تشددکا روزانہ کی بنیاد پر شکار ہو رہے ہیں مگر ظُلم و سفاکی کی کالی رات ہے جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی بلکہ یہ کہنے میں مجھے عار نہیں کہ متذکرہ ریاستوں میں تو آزادی کی جنگ لڑنے والے پروانے اپنی مرضی سے سانس لینے پر بھی ریاستی ظُلم و تشددکا شکار بنتے ہیں اور سحر کی اُمیدمیں اس ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں اور تلواروں کے سائیوں تلے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں جب میں فلسطین،مقبوضہ کشمیر،بھارت اور برما میں مسلمانوں پر ہونے والے ریاستی جبر و ستم کو دیکھتا ہوں تو اپنے قائد کیلئے دل سے دعائیں نکلتی ہیں جن کی انتھک محنت اور بے مثال قیادت کی بدولت ہم پاکستان بنانے میں کامباب ہوئے تھے تو بے ساختہ میں دل کی گہرائیوں سے گنگنا اُٹھتا ہوں۔۔۔یوں دی آزادی ۔دنیا ہوئی حیراں۔۔۔اے قائداعظم تیرا احسان ہے ،تیرااحسان۔۔۔ مگر افسوس کہ ہم میں سے بعض عناصرآزادی کی اہمیت کو ابھی تک سمجھ نہیں سکے اور دشمن کے ہاتھوں کا کھلونابن جاتے ہیں پھر مہذب دنیاکا منافقانہ رویہ بھی قابل مذمت ہے جو اقوام متحدہ کی واضح قراردادں کے باوجود ان مظلوموں کی داد رسی کیبجائے خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہیں ۔اگر ہماری پاک افواج ۶ستمبر ۱۹۶۵ کو بھارتی افواج کی یلغار کا مُنہ توڑ جواب دیکر مادر وطن کے دفاع میں خدا نخواستہ ناکام رہ جاتی تو اس تصور ہی سے میری روح کانپ جاتی ہے۔ ہمیں افواج پاکستان اوراُن بہادر شہیدوں کی جوانمردی اور جُرات پر فخر ہے جہنوں نے اپنے عزیز وطن کے دفاع میں جانیں قربان کرکے ملک و قوم کا سر فخر سے بلند کردیا ویسے تو اگست کا سارا ماہ ہی پاکستانی قوم پورے جوش و جذبے سے آزادی کے جشن کی خوشیوں کو دوبالا کرنے کے لئے رنگا رنگ پروگرام ترتیب دیتی ہے۔لیکن۱۴اگست اس لحاظ سے بہت مُتبرک اور حاص ہے کہ اس روزیعنی ۱۴ اگست ۱۹۴۷ کو کشور خدا داد پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت میں معرض وجود میں آئی اور علامہ اقبال اور برصیغرپاک و ہند کے مسلمانوں کے خوابوں کی تعبیرایک حقیقت کاروپ دھار کر دنیا کے نقشے پر نمودار ہے جسکی افواج کا شمار دنیا کی بہترین افواج میں ہوتاجوہر چلنج کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ہماری اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ خدا اپنے حبیبﷺ کے صدقے میں پاک افواج اورملک و قوم پر اپنی رحمتوں کا نزول جاری رکھے اور دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی عطا فرمائے آمین ثم آمین

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے