-،-محفلِ مسالمہ-اے آر اشرف-،-

قتل حسینؑ اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
اس لحاظ سے سید اقبال حیدرچیرمین ہیومن ویلفئرایسوسی ایشن قابلِ تحسین ہیں کہ وہ ادبی محفلوں کے انعقادمیں اپنا ثانی نہیں رکھتے ہمیشہ کی طرح اس سال بھی اُنہوں نے ایامِ عزا میں جگر گوشہ بتولؑ کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے ایک طرحی محفل مسالمہ کا اہتمام کیا۔اس نورانی محفل میں ۔۔مصرع طرح ۔۔اسلام کی بقا کی ضرورت حسینؑ ہیں۔۔تھا۔جرمنی کے نامور شعرا علامہ شمشاد حسین رضوی ،جناب طاہرعدیم ،جناب شفیق مراد،سید اقبال حیدر،جناب افضل قمر،جناب شاکراور عطاالرحمن اشرف کے علاوہ ہر مکتبِ فکر کے محبان اہلبیتؑ نے اس میں بھرپور شرکت کی او ر اپنے اپنے انداز میں نواسہ رسولﷺ کو پرسا دیا۔سویڈن سے مولانا ذاکر حسین نے صدارت کے فرائض ادا کیے جبکہ پاکستان ایسوسی ایشن کے صدر سید وجیع الحسن جعفری اور پاک حیدری ایسوسی ایشن کے نائب صدر ملک شمشاد حسین مہمانان حصوصی تھے۔تقریب کا آغاز دو معصوم بچیوں نے اپنی خوبصورت آواز میں تلاوتِ قرآن پاک سے کیااورطرحی مصرع پر جن شعرا نے طبع آزمائی کا شرف حاصل کیا اُن میں سب سے پہلے عطاالرحمن اشرف نے اپنے کلام میں کہا۔۔خاک کربلا کو خاکِ شفا بنا دیا۔۔دین حق کی ایسی کرامت حسینؑ ہیں۔۔جناب افضل قمر نے کہا۔۔گبھرایا روبروئے نکرین میں ذرا،۔۔مرا سلام اٹھائے ہوئے آ گئے حسینؑ ،۔۔جناب طاہر عدیم ۔۔تو گویا چاند نکلنے کو ہے محرم کا،۔۔بدن کے دشت میں کھلنے لگے گلاب،۔۔سید اقبال حیدر،۔۔وجہہ بقائے دین و شریعت حسینؑ ہیں،۔۔اسلام تیری عزت و حرمت حسینؑ ہیں،۔۔علامہ شمشاد حسین رضوی،۔۔صدر مسالمہ کی یہ خدمت قبول ہو،۔۔میری ضیا کی ساری ضرورت حسین ؑ ہیںؑ ، اس لحاظ میں آج دنیا کا خوش قسمت انسان تصور کر رہا ہوں کہ میں آج کائنات کی اُس عظیم ہستی امام عالی مقام حضرت حسین علیہ السلام کا تعارف اپنی معلومات اورفہم کیمطابق کرانے کی جسارت کررہا ہوں ورنہ میرے سمیت کسی کی بساط کیا کہ جسے اللہ تعالیٰ نفسِ مطمعنہ کہے اورپاک رسول ہر موقع پر اپنے پیارے نواسے کا تعارف اپنی زبانِ مبارکہ سے کرائیں اور۔جس کے گہوارے کو مس کرنے سے فطرس جیسے فرشتے کو بال و پر مل جائیں اوردردائیل فرشتے کو شفا مل جائے وہاں میرے جیسے ادنیٰ لکھاری کی کیا اوقات کہ اُس رہبرانسانیت ،طاہر و مطاہر،دوش رسولﷺکے اسوار جن کیلئے جنت سے پوشاکیں لیکر حضرت جبرائیل رضوان بنکر در اقدس پر حاضر ہو۔ جس کے بارے میں حضورؑ فرماتے ہیں۔حسینؑ مجھ سے ہے اور میں ﷺ حسینؑ سے ہوں ۔کبھی فرماتے ہیں میرا حسینؑ ہدائت کا چراغ اور نجات کی کشتی ہے ،کبھی فرمایا میرے حسنین علیہماسلام نوجوانان جنت کے سردار ہیں اورانکے باپ کیلئے حضورﷺ کاارشادہے کہ میں علم کا شہر ہوں اور علیؑ اس کا دروازہ ہے۔اورجنکی ماں کی شان میں آیہ تطہیر نازل ہوئی اور حضورﷺ نے فرمایا میری بیٹی فاطمہؑ سیدۃالنساالعالمین ہیں اور جنت کی عورتوں کی سردار ہیں جسکی تعظیم میں مرسل اعظمؑ کھڑے ہو جایا کرتے تھے جنکے ناناﷺ کائنات کیلئے رحمت بن کر آئے اوردنیا کو اپنے نور سے منور کر دیا اور نواسے حضرت حسینؑ نے اپنی،عزیز اقارب اور جانثاروں کی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے رسالت کی تمام تر محنت اور دین اسلام کو بچا لیا۔اتنی عظیم قربانی کو دیکھکر ولی عصر خواجہ معین الدین چشتیؒ نے کیا خوب فرمایا کہ،۔شاہ است حسینؑ بادشاہ است حسین،۔ ؑ دین است حسینؑ دین پناہ است حسینؑ ،۔۔سرداد نہ داد کہ در دست یزید،۔حقا کہ بنائے لا الہ است حسین ؑ
اور غالباََ جناب جوش ملیح آبادی نے کیا خوب کہا تھا۔۔اسلام کو بیدار تو ہو لینے دو،۔۔ہر قوم پکارے گی،ہمارے ہیں حسینؑ ،۔۔ آجکل اقوامِ عالم اور حصوصاََ مسلم اُمہ جن پُر آشوب حالات اور مشکلات میں گری پڑی ہے اور جسطرح ظُلم وبربریت کی بدلی چھائی ہوئی ہے اور درندگی،حیوانیت اور وحشت مگرمچھ کی طرح مُنہ کھولے کھڑی ہے اور دنیا جہنم کا ایندھن بنتی جا رہی ہے۔حصوصاََ دین اسلام پرکفار اور خارجیوں کیجانب سے جسطرح پُر زور حملے جاری ہیں ایسے میں مسلم اُمہ پھر امام حسینؑ کو اپنی رہبری کیلئے پکار رہی ہے ہر کسی کی دلی تمنا ہے کے کوئی مسیحا آئے اور لوگوں کو بھیڑیوں کا تر نوالہ بننے سے بچا لے ہماری دعا ہے کہ خدا مسلم اُمہ اور حصوصاََ پاکستانی قوم کو امام عالی مقام کے اسوہ حسنہ پر چلنے کی توفیق عنائت فرمائے آمین ثم آمین-

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے