-،-ہدیہء کتاب مکنون-طاہرہ رباب الیاس-،-

اس اجلی روشنی کی چادر کے ظہور کا جو پرندوں کی پر ترنم طلسماتی چہچہاہٹ سے پانی کے جھرنوں کے ردھم میں صوتی ترنگ بھر کر صاحبان فکر و تحقیق کو سرور حقیقی سے نوازتا ہے اور صاحبان دل اسے قبول کرنے کی اہلیت سے سرفراز ہیں۔۔اپنی خلوتوں کو پاکیزگی اور طہارت کے نور سے منور فرمائیں تاکہ روح بدن اور شعور کی بالیدگی نصیب ہو جو ہمیں طہارت کے اس معیار پر فائز کر ڈالے، کہ کتاب مکنون ہم پر واضع اور آسان ہو جائے جو ہمیں زمین کے رازوں سے آگاہی اور اسرار آسمانی سے جینے کا لطف دوبالا کروا دیتی ہے۔ جو اپنے سینے میں کائنات کی ہر ترتیب و تسکین رکھتی ہے اور ہر ، فکر و وجدان کو حیات ابدی سے آراستہ و پیراستہ کرنے کی ہر کڑی سے اصل و حقیقت کے چلمنوں سے وا گزار کرتی نظر آتی ہے۔ اپنی حیات جاوداں کو منشائے الہی کامحرک بنا لیں کہ یہی ہمارئےخالق کا ارادہ اور ہمارا مقصد خلقت ہے۔ منفی کی ہر تاریکی کو اپنی زات کی ضیا سے مٹاتے چلیں۔
اجالے ایسے وہ کچھ میرئے نام کر ڈالے
فصیل سحر میں محصور شام کر ڈالے
میں روشنی میں اند ھیرا تلاش کرتی ہوں
میری ضیاء کو جو بس دید عام۔کر ڈالے۔
وہ جو خالق ہے کبھی کسی گائے کی صفات بتانے کو انسانوں سے دراصل حجت تمام کروا کر ذبح کرواتا اور پھر اسکے ہی شکستہ وجود سے مردئے کو گویائی عطا فرما کر ہمیں اپنی حکمتوں سے بہرہ وری عطا فرماتا ہے، لیکن ہم اس سارئے قضئے کا مطالعہ کرتے ہیں لیکن اس حکمت سے فکر کو جلاء بخشنے سے قاصر ہی رہتے ہیں۔ اس ساری سورہ بقرہ کی داستان کو کبھی شعور کا زیور عطا نہیں کر سکے۔