شاتمہ رسول کیخلاف عوام سڑکوں پر نکل آئی۔ ملک بھر میں جلسے جلوس ریلیاں۔ شہر شہر لوگوں کا جم غفیر۔
غیر ملکی دباؤ مسترد ، ہائی کورٹ کی مصدقہ گستاخ ’’آسیہ‘‘ کو شریعت وآئین کے مطابق سزا دی جائے!!!
قتل وغارت دہشتگردی غداری میں ملوث جماعتوں کی بجائے تحریک لبیک کیخلاف کاروائیاں غیر مناسب ہیں
اسلام اور پاکستان کیلئے تحریک لبیک خدمات جاری رکھے گی۔ عوامی سمندر دین اور ملک دشمنوں کو بہا لے جائیگا۔
تاریخ لاہور کی سب سے بڑی لبیک یارسول اللہ ریلی سے علامہ خادم حسین رضوی اور پیر محمد افضل قادری کا خطاب
لاہور: (پریس ریلیز 12اکتوبر 2018ء) تحریک لبیک یارسول اللہ کی اپیل پر ملک بھر اور کشمیر میں ’’یوم تحفظ ناموس رسالت‘‘ منایا گیا۔ کراچی سے لیکر خیبر تک دو سو مقامات پر پر امن جلسے جلوس اور ریلیاں نکالی گئیں۔ جبکہ ملک میں بھر میں خطباء اسلام نے جمعۃ المبارک کے اجتماعات میں شاتمہ رسول کیخلاف قرار دادیں منظور کرائیں۔ لاہور میں تحریک لبیک یارسول اللہ کی تاریخی ریلی سے تحریک کے مرکزی امیر علامہ خادم حسین رضوی اور بانی وسرپرست اعلیٰ پیر محمد افضل قادری ودیگر قائدین نے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی دباؤ مسترد کیا جائے اور اعتراف جرم کرنے والی اور ہائی کورٹ کی مصدقہ گستاخ رسول ’’آسیہ‘‘ کو شریعت وآئین کے مطابق سزا دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ قانون ناموس رسالت کی خلاف ورزی شریعت وآئین پاکستان پر حملہ متصور ہوگی اور قوم سڑکوں پر نکل آئیگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحریک لبیک پر امن ہے اسے دہشتگردی سے مت جوڑا جائے اگر کسی کو شک ہے تو وہ ٹی وی پر مناظرہ کرلے۔ ہم اسلام اور پاکستان کیلئے خدمات انجام دے رہے ہیں اور دیتے رہیں گے۔ قتل وغارت دہشتگردی غداری میں ملوث جماعتوں کی بجائے تحریک لبیک کیخلاف کاروائیاں غیر مناسب ہیں۔ قائدین تحریک نے کہا کہ دین تخت پر آکر رہیگا اور تمام سازشیں ناکام ہونگی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ایک سو چھبیس دن غیر قانونی دھرنے پر کوئی نوٹس نہیں لیا گیا، اور ناموس رسالت کے پرامن دھرنے پر آپریشن کا حکم دیا گیا جس سے 8افراد شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے لیکن شہدائے فیض آباد کے متعلق کوئی نوٹس نہیں لیا گیا اور ایف آئی آر کے اندراج کے باوجود تاحال کوئی قانونی کاروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں اور ذمیوں کے حقوق کے حامی ہیں لیکن کوئی گستاخی رسول کرے یہ کسی صورت برداشت نہیں۔ اس موقع پر علامہ وحید نور، پیر سید ظہیر الحسن شاہ، پیر اعجاز احمد اشرفی، پیر قاضی محمود احمد، علامہ فاروق الحسن، علامہ غلام عباس فیضی ودیگر اسٹیج پر موجود تھے۔