-،-وجود صغیر ایک عالم کبیر-طاہرہ رباب الیاس-،-

اپنی تمام وسعتوں اور رعنائیوں کے ساتھ سلامتی کی چادر کا سایہ آپ پر نچھاور کرنے دق الباب کرتے ہوئے بیداری کی نعمت عطا گزاری کو حاضر ہے، نعمات قبول و منظور فرمائیے۔
حضرت انسان ایک ایسے وجود کے ساتھ اظہار صفات کے لیئے متحرک ہے جو نہایت وسیع و عریض ہے اور حضرت انسان تمام عمر کی ریسرچ کے بعد بھی اس پر کلی اختیار پانے کا مجاز نہیں ہے۔ ہم خود کو ایک مختصر سا انسان سمجھ رہے ہیں جب کہ بقول امام علی ع، کہ ایے انسان تو کیا سمجھتا ہے کہ تو ایک عالم صغیر ہے؟ نہیں، تو ایک عالم کبیر ہے۔
اب اس عالم کبیر کی سلطنت کو بگاڑنے اور اجاڑنے کا حق مالک کائنات نے کسی کو بھی نہیں دیا۔ نہ خود کو اجاڑنا ہے اور نہ ہی کسی دوسرئے کی ذات کی کائنات کے نظام کا حق کسی اور کو دیا گیا ہے۔ہر انسان اپنے جہاں کا خود مالک اور اس کا مختار ہے۔ قدرت نے ہر کسی کو اپنے اندر ایک جہان دیکر اسے معمور کیا ہے کہ وہ اپنی کائنات رواں کرنے کا شعور لے کر ہدایت خالق کو اپنا کر اور راہبروں کی راہبری سے استفادہ کرتے ہوئے نظام کو رنگ و حسن عطا کرئے۔دوسروں کے جہاں میں جھانکنے اور اسے اپنے قانون سے چلانے کے لیئے کسی بھی انسان کو مالک کل نے اجازت نہیں دی بلکہ صرف اپنی ذاتی کائنات بنانے سجانے اور سنوارنے کا حکم دیا ہے تاکہ اسکی خلق کی گئی ہر صفت اپنا جہان خود اسکی قوت الہی کے ذات میں چھپے وجود سے بہرہ وری اور قرب پا سکے۔ اسی لیئے کسی اور کائنات کا آیا ہوا جھونکا آپکو کبھی کبھار ایک روشن کرن دئے جاتا ہے جس سے اپ اپنا جہان سنوار سکتے ہیں اور بعض اوقات کوئی منفی تاریک لہر اپکو اندھیروں میں دھکیل دیتی ہے۔ لیکن بالآخر آپ ہی مثبت و منفی سے نجات یا خسارہ بھگتتے ہیں۔ اپنی ذات کی سرحدوں کو مضبوط و شفاف رکھیں تاکہ روشنیاں اترتی رہیں اورمنفی اپنی راہ نہ پا کر اپکو چھو نہ پائے اور آپ نجات یافتہ قرار پائیں۔ اپنا جہاں سنواریں اور مضبوط کرئیں دوسروں کے جہاں کی ذمہ داری آپ پر عائید ہی نہیں ہوتی۔ بس آپ صرف اپنے اس وجودی جہاں کو خالق کی تخلیق لاثانی سمجھیں تسلیم کرئیں۔۔۔۔ دوسری ہر برائی مٹ جائے گی معرفت و فہم آپکو ہر حیرت و استجاب نفرت و سرزنش سے پاک کر کے نجات کے راستے پہ گامزن کر دئے گا۔