۔،۔نیا پاکستان۔اے آراشرف بیورو چیف جرمنی۔،۔


کعبہ کس مُنہ سے جاؤ گے غالب،۔۔۔،شرم مگر تم کو نہیں آتی
میرزا غالب نے غالباََ ہمارے معاشرے کی ناگفُتہ بہ حالت دیکھ کر ہی یہ شعر کہا ہوگا ۔ہمارا معاشرہ اسقدر بے حس،بے آدب اور گستاخ ہوتا جا رہا کہ نہ صرف اپنے آبا واجداد بلکہ اسلامی اقدار کا جنازہ نکالنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے ۔حضرت علی علیہ السلام اُستا دکی توقیر کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں کہ۔۔جس نے تمہیں گویائی عطا کی اُسی کے خلاف تیغ زبان کے جوہرنہ دیکھاؤ اورجس نے تمہیں سیدھی راہ پرلگایا اُس کے سامنے اپنے کلام کی بلاغت نہ جتاؤ۔۔لیکن ۔ پاکستان۔ میں بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو تیغ زبان کے علاوہ ہتھکڑیوں کے زیور پہنا کراستادوں کی تضحیک کر تے ہیں۔ دنیا بھر کے مُہذب معاشروں میں جن اقوام نے ترقی کی منازل طے کی ہیں وہاں سب سے زیادہ توقیر مُعلمین یعنی اُستادوں کی جاتی ہے مگرہمارے ہاں کا ۔باوا آدم۔ہی نرالا ہے جو جس منصب پر فائز ہے وقتی طورپرشایداُسمیں فرعون کی روح گھس آتی ہے اور وہ ناجائزاختیارات کا استعمال بھی اپنا حق تصور کرنے لگتا ہے ۔ اللہ کی کتاب میں اَمَرباری تعالیٰ ہے کہ۔ والدین کی اطاعت کرو اور اُنکے سامنے اف تک نہ کہو استاتذہ بھی ایک طرح سے ہمارے روحانی باپ ہوتے ہیں والدین کی طرح اُنکا اخترام کرنا ہمارے فرائض میں شامل ہے۔تحریک انصاف پاکستان کے چیرمین جناب عمران خان کے بیانات اوردعوؤں سے عام آدمی یہ واقعتا محسوس کرنے لگا تھاکہ یہی وہ مسیحا ہے جو اُنکے خوابوں کی تعبیرثابت ہو سکتا ہے اسمیں شک نہیں کہ خواب دیکھنا ہرفرد کا بنیادی حق ہے اوراس پرکسی قسم کی قانونی یا اخلاقی پابندی کابھی کوئی خطرہ یا ڈر نہیں ہوتا انسان کو اختیار ہے کہ وہ بیداری یا نیند دونوں ہی کفیتوں میںآزادنہ خواب دیکھ سکتاہے اور ہمارے عزت ماب وزیراعظم جناب عمران خان نیازی نے بھی یقیناً۔۔نئے پاکستان۔۔کاجس میں دودھ اورشہد کی نہریں جاری ہونگی اور کسی کو بلا تفریق رنگ و نسل،ذات پات،غریب اور امیر کو یکساں حقوق میسر ہونگے کا خواب دیکھا ہو گا مجھے نہیں معلوم کے ہمارے وزیراعظم نے یہ ۔نئے پاکستان۔کا خواب نیند میں دیکھا تھا یا بیداری میں یہ تو وہی بہتر جانتے ہیں ہمیں اُنکی نیت پر تو شک نہیں ۔نیت سے مجھے ایک لطیفہ یاد آیا جو میں قارئین کی خدمت میں گوش گزار کرتا ہوں۔ایک پٹیھان نیا نیا تبلیغی مشن میں شامل ہوا اور اُسپر تبلیغ کا اسقدر اثر ہواکہ وہ ہر کسی کو داڑھی رکھنے کی تلقین کرتا اُن میں سے کسی منچلے نے اُسے یہ ضرب المثل سُنا کر اپنی جان چھڑائی لی کے۔ ۔اول خویش بعدہ،درویش۔ یعنی پہلے اعزا پھر غیر۔ اُ سنے سوچا اعزا میں سب سے قریب ترین تو اُسکی بیوی ہے اُس نے اپنی بیوی کو نصیحت کے بعد حکم دیا کہ وہ اللہ رسولﷺ کے احکام کی پابندی کرے اور فوری طو رپر داڑھی رکھے اسکی بیوی کچھ دن تو اسے مذاق سمجھ کر مسکڑاہٹ کے ساتھ ٹالتی رہی مگر پیٹھان کا مطالبہ اس حد تک زور پکڑا کے اُسنے داڑھی نہ رکھنے کے جرم میں بیوی پر تشدد کرنا شروع کر دیا تولوگ جمع ہو گئے جب اُنہیں معاملے کا پتہ چلا تواُنہوں نے پیٹھان کو سمجھایاکہ عورتوں کی داڑھی نہیں ہوتی تو پیٹھان نے کہاکھوچہ مانا کہ عورت کی داڑھی نہیں ہوتی ۔مگر یہ تو داڑھی رکھنے کی نیت بھی نہیں کرتی۔ہمارے وزیراعظم شاید عوام کو یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ اُنہیں کم از کم مزید دشواریوں کا مقابلہ کر نے کی نیت تو کرنی چاہیے۔۔اگوں تیرے بھاگ لچھی اے۔۔یعنی آگے تیرے مقدر۔ کپتان نے عوام سے ۔نئے پاکستان۔ کے جو خواب اور وعدے کئے تھے ظاہر ہے عوام اُس کی جلد از جلد تعبیر کی اُمید رکھتے تھے مگر عوام کو اپنے وہ خواب چکنا چور ہو تے دیکھائی دے رہے ہیں ۔وہ جو کہتے ہیں کہ۔۔سر منڈلاتے ہی اولے پڑے۔۔والی بات کہ ابھی سابقہ حکومت کے دیئے گئے زخموں کی شدت تازہ ہی تھی کہ ۔۔نئے پاکستان ۔کی دعویدار حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی۔ بجلی اور گیس۔ کی قیمتوں میں اضافے کا بم گرا دیا۔ دوسری جانب مہنگائی کی سونامی اور ڈالڑ کی اونچی اُڑان نے عوام کے ہوش اڑا دئیے ہیں۔اس میں شک نہیں کہ ۔نئے پاکستان۔ کی دعویدار حکومت کو اقتدار میں آئے ابھی جمعہ جمعہ اٹھ دن ہوئے ہیں مگرحکومت کی پچاس دن کی کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے اور سو دن کے منصوبے پر بھی بہت سارے سوالیہ نشان ہیں ہماری دعا ہے کہ قوم سے جو کپتان نے وعدے کیے ہیں اُنہیں پورا کرنے کی اللہ توفیق دے آمین ثم آمین

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے