۔،۔ سانحہ نائن الیون 9/11کے بعد 5لاکھ سے زائد افراد ہلاک کئے جا چکے ہیں۔،۔

شان پاکستان امریکا بوسٹن۔ امریکن تحقیقی رپورٹ کے مطابق سانحہ الیون کے بعد امریکہAmrika اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے شروع کی جانے والی جنگ جو دہشت گردوں کے خلاف لڑی گئی اس جنگ نے پانچ لاکھ 5سے زائد افراد کی جان لی ، امریکا اور اس کے اتحادیوں کی اس جنگ میں زیادہ تر اموات افغانستانAfghanistan، عراقIrak اور پاکستانPakistan میں واقع ہوئیں۔تحقیقی رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ لقمہ اجل بننے والوں میں امریکی، اتحادی افواج، مقامی سیکورٹی فورسز ، جنگجوں سمیت شہریوں کی ایک بہت بڑی تعداد شامل ہے، رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکن اور اتحادی افواج کی تعداد سب سے کم ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صرف عراق میں ہی 182,272 سے 204,575 شہری میں مارے گئے، افغانستان میں 38 ہزار 480 اور پاکستان میں 23 ہزار 372 عام افراد لقمہ اجل بنے۔ افغانستان اور عراق میں 7 ہزار فوجی مارے گئے جو امریکا اور اتحادی افواج سے تعلق رکھتے تھے۔ 15 سالہ جنگ کے بعد اب عراق کی تعمیرِ نو کے لیے اس وقت 90 ارب ڈالر درکار ہیں۔امریکا میں براؤن یونیورسٹی کی نیٹا کرافورڈ اور ان کے ساتھیوں نے یہ رپورٹ بنائی ہے جسے ’ نائن الیون کے بعد کی جنگوں میں انسانی خراج: ہلاکت اور شفافیت کی ضرورت‘ کا نام دیا گیا ہے۔مثال کے طور پر عراقی شہر موصل اور دیگر علاقوں سے داعش کے جنگجوؤں نے بھاگتے ہوئے ہزاروں شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارا تھا اور ان میں سے کئی لاشوں کا کوئی سراغ اب تک نہیں مل سکا ہے۔ علاوہ ازیں جنگ کے بعد تباہ شدہ شہروں، انفرااسٹرکچرکی بدحالی، امراض اور دیگر مسائل سے مرنے والوں کو اس فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔بوسٹن یونیورسٹی Boston University نے بتایا کہ اگست 2016ء میں ہلاکتوں کی پہلی رپورٹ مرتب کی گئی تھی لیکن اس کے بعد سے اب تک مزید ایک لاکھ 10 ہزار افراد اس فہرست میں شامل کیے گئے ہیں۔نیرا کرافورڈ نے مزید کہا کہ امریکی میڈیا ، سیاست داں اور عوام میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں بہت کم شعور ہے اور بہت کم لوگ اس پر بات کرتے ہیں، اس تناظر میں نائن الیون کے بعد سے اب تک ہونے والی ہلاکتوں سے ظاہر ہوا ہے کہ جنگ اب بھی شدید ہے اور انسانی خراج مانگ رہی ہے۔مثال کے طور پر افغانستان پر 17 سال سے امریکی جنگ مسلط ہے اور حالیہ برس میں اس کی شدت میں کچھ کمی تو ہوئی ہے لیکن 2018ء میں افغان جنگ میں شہریوں کی ہلاکت کا گراف بہت بلند ہے۔