۔،۔احتساب کاآسیب ۔ چوہدری محمدالطاف شاہد۔،۔


اقتدارتک رسائی کیلئے چورراستہ استعمال کرنیوالے چور قومی وسائل میں بھی نقب لگاتے رہے۔ان چوروں کوتھانیدار سے ڈرنہیں لگتا،یہ صرف احتساب کے آسیب سے ڈرتے ہیں ۔عدالت عظمیٰ اور احتساب عدالت کی طرف سے ملک کی بااثرشخصیات کوجواب کیلئے طلب کیاجارہا ہے کہ وہ اپنے اثاثوں کاحساب دیں،ان کے اندرون وبیرون ملک محلات کی تعمیر کیلئے سرمایہ کہاں سے آیا ۔ اس پر ہماری سیاسی شخصیات ناراض ہیں ان کا کہنا ہے کہ وہ ملک کی اعلیٰ مخلوق ہیں یعنی وہ اشرافیہ ہیں لہٰذا ان سے سوال جواب مناسب نہیں یہ باز پرس تحقیق و تفتیش تو عام افراد سے ہوتی ہے۔ تھانہ کچہری کے معاملات بھی ان سے ہی متعلق ہوتے ہیں مگر عجیب بات ہے کہ پاکستان کاریاستی نظام بتدریج تبدیل ہو رہا ہے ۔ آصف علی زرداری بھی سیخ پا ہیں کہ ان کے بقول” انہوں نے کیا تو کچھ نہیں مگر انہیں گرفتار کرنے کا راستہ ڈھونڈا جا رہا ہے”۔چلیں پکڑا بھی گیا تو کیا منظر سے ہٹ جاؤں گا ایسا نہیں ہوگا میں اور بھی مشہور ہو جاؤں گا۔۔۔ یہ تو ہے جیل کی ہوا کھانے والا واقعی مقبول ہو جاتا ہے بلکہ معتبر بھی سمجھا جانے لگتا ہے۔ یہاں بدقسمتی سے یہی سوچ ابھی تک پروان چڑھی ہے عوام کی اکثریت اسے بہادر، عقلمند اور قابل تصور کرنے لگتی ہے۔ آصف علی زرداری اگر گیارہ بارہ برس تک جیل میں نہ رہتے تو انہیں کون جانتا۔۔۔ یہ شہرت ان کوایوانوں کی بجائے زندانوں سے حاصل ہوئی ہے۔ اب بھی وہاں جاتے ہیں تو ہوسکتا ہے عوام انہیں پھرسے سر آنکھوں پر بٹھا لے اور آئندہ وزیراعظم کی مسند تک لے جانے کی کوشش کرے۔ لہٰذا وہ ٹھیک کہتے ہیں کہ وہ پکڑے بھی جاتے ہیں تو پھر کیا ہو گا مگر انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اب وہ نوجوان نہیں ہیں بڑھاپے کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں بعض مواقع پر وہ لڑکھڑا بھی جاتے ہیں لہٰذا انہیں مقبولیت تو یقیناًمل جائے گی مگر ان کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہونے کا غالب امکان ہے لہٰذا وہ ایسا نہ سوچیں اور کوشش کریں کہ کوئی مفاہمت کی راہ نکل سکے۔ جس سے وہ آرام و سکون سے سیاست کر سکیں وگرنہ اب کی بار صورت حال مختلف ہو گی کیونکہ لگ رہا ہے کہ ادارے مستحکم ہو رہے ہیں اور کچھ کچھ قانون کی حکمرانی کو ممکن بنانے کا بھی ارادہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ عدالت عظمیٰ کئی بار اس حوالے سے کہہ چکی ہے اپنے وزیراعظم تو اس کے لیے بے حد سنجیدہ ہیں لہٰذا مکرر عرض ہے کہ انہیں بیچ کا راستہ اختیار کرنا چاہیے اور اسے تلاش کرنا مشکل بالکل نہیں۔۔۔؟ ویسے مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ انہیں گرفتار کیوں کیا جائے گا کیا انہوں نے قومی خزانے پر کوئی جھپٹا مارا کیا انہوں نے کمیشن کھائے۔ عوامی دولت کو ذاتی اغراض کے لیے خرچ کیا، کیا اپنے دوستوں عزیزوں کو سرکاری اراضی پر قبضے کروائے۔۔۔ اور کیا بیرون ممالک رقوم کو منتقل کیا گیا۔۔۔؟بظاہر ایسا کچھ دکھائی نہیں دے رہا، پھر کیوں وہ اندھیر کوٹھری میں دھکیلے جائیں گے اور نام کمائیں گے۔۔۔ ہاں اگر انہیں بینکوں کے جعلی اکاؤنٹس کھولنے اور ان میں اربوں روپے جمع کرانے کے الزام میں پابند کیا جاتا ہے تو اس میں وہ صاف کہہ چکے ہیں کہ اس کا ثبوت کیا ہے۔ فرض کیا میں نے ہی ایسا کیا ہے تو جس جس کا اکاؤنٹ ہے وہ ذمہ دار ہے اس نے ایسا کیوں ہونے دیا۔۔۔؟ اس سے لگتا ہے کہ وہ پوتر ہیں انہوں نے جب کچھ غلط نہیں کیا تو کیوں وہ حراست میں لے لیے جائیں اور لے کر مقبولیت کی مچنا پر بٹھا دیا جائے؟ اگر آصف علی زرداری کے نظریہ سیاست کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر بات سوچنے کی ہے کہ میاں نواز شریف، میاں شہباز شریف اور محترمہ مریم نواز کو عدالتی رہگزر سے گزار کر لوگوں کی آنکھوں کا تارا بنایا جا رہا ہے۔۔۔ کیونکہ ابھی تک الزامات ہی الزامات نظر آرہے ہیں ثابت کچھ نہیں ہوا ہو بھی جاتا ہے تو وہ اسے نہیں مانیں گے کیونکہ ان کے نزدیک یہ ساری ’’سرگرمی‘‘ غیر قانونی ہے اور نامناسب ہے وہ تو اشرافیہ ہیں اور اشرافیہ سے کچھ نہیں پوچھا جا سکتا کیونکہ اسے ملک چلانا ہوتا ہے اور اس چلنے میں کوئی بھول چوک غفلت اور کوتاہی، ہو ہی جاتی ہے۔۔۔ لہٰذا عوام اس ’’سرگرمی‘‘ کو انتقام سمجھتے ہیں جو ان کو اور اوپر لے جائے گا اگر یہ بات درست نہیں تو ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کیوں کامیاب ہو گئی۔ بہرحال قانون، ضابطے، اصول اور قواعد سب عوام کے لیے ہوتے ہیں یہ جیلیں، حوالاتیں اور قلعے ان کے لیے بنائے جاتے ہیں ان میں اعلیٰ مخلوق کیوں جائے اسے تو مخملیں بستروں پر سلایا جاتا ہے۔۔۔ ریشم و کمخواب کے پہناوے مہیا کیے جاتے ہیں لہٰذا وزیراعظم عمران خان خوامخواہ لوگوں کا وقت ضائع کر رہا ہے اور میرٹ و قانون کی حکمرانی کا روالا ڈال رہا ہے۔۔۔ ناجائز تجاوزات کے خلاف پورے ملک میں آپریشن شروع کر کے غریب عوام اور غریب قبضہ گروپوں کی بددعائیں لے رہا ہے ۔۔۔ اس طرح اس کی مقبولیت کم ہوتی جا رہی ہے اور اس کی مخالف سیاسی جماعتوں کو ایک حد تک ان کی حمایت حاصل ہو رہی ہے لہٰذا اگر فوری طور سے یا چند ماہ بعد بلدیاتی انتخابات کروا دیئے جاتے ہیں تو اس کی جماعت کو واضح کامیابی حاصل نہیں ہو گی۔۔۔ حالانکہ اب کی بار یہ نظام لوگوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کی ضمانت دے گا۔ خیر اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ اپنے منشور پر عمل درآمد کرنا روک دے اسے آگے بڑھنا ہے کیونکہ جب وہ عوام کے لیے کام کرے گی سہولتوں کی بھرمار کر دے گی تو وہ جذبہ ترحم سے آزاد ہو جائیں گے اور حقائق کو سامنے رکھ کر یہ فیصلہ کریں گے کہ صحیح معنوں میں ان کے ووٹ کی کون سی جماعت حقدار ہے علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان اور ان کے وزیر اطلاعات کو تیکھے ترش اور بھڑکیلے جملوں کی ادائی سے اجتناب برتنا چاہیے یہ ایک خاص ماحول میں ادا کیے جاتے ہیں اور ایسا ماحول فی الحال نہیں اب تو کام کرنے کا وقت ہے تا کہ لوگوں کو معلوم ہو سکے کہ کس نے دولت کے انبار لگانے کے لیے پاپڑ بیلے اور کس نے خدمت کرنے کے لیے اپنا پسینہ بہایا۔۔۔ مجھے پوری امید ہے کہ اس دور کے عوام سنجیدہ فہم بھی ہیں وہ جیلوں میں رہ کر مقبولیت حاصل کرنے والوں اور اجتماعیت کے مفاد کے لیے کوشاں سیاستدانوں اور حکمرانوں کے درمیان فرق کو بخوبی جانتے ہیں۔۔۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی سیاسی قیادت ان کی دولت کو اللوں تللوں کی نذر کر کے ان کے دل میں جگہ بنالے اور جو ان کی خاطر اپنی ہر خواہش کا گلا گھونٹ دے وہ غیر مقبول ہو جائے۔ حرف آخر یہ کہ کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق اب اور کہا بھی کیا جا سکتا ہے افسوس مگر یہ ہے کہ اب تک قانون نگر نگر کی سیر کرتا رہا اور عوام کے ذہنوں میں یہ تاثر ابھارتا رہا کہ طبقہ اہل زر ہی اقتدار کے اہل ہیں لہٰذا آج اگر وہ (قانون) اپنی عمل داری کا اعلان کر رہا ہے تو لوگ مخمصے کا شکار ہو سکتے ہیں یہ الگ بات کہ وہ اس کے مثبت نتائج دیکھیں۔۔۔ تو اپنی سوچ تبدیل کر لیں تب کوئی بھی یہ نہیں کہے گا کہ بھیجو مجھے جیل کہ وہاں سے کامیاب سیاست کا آغاز ہوتا ہے؟