۔،۔بچے ؛جنت کے پھول۔ڈاکٹر ساجد خاکوانی۔،۔
بچے جنت کا پھول ہوتے ہیں،انسانیت کا مستقبل بچوں سے وابسطہ ہے،انسانوں کاوہ طبقہ جو فطرت سے قریب تر ہے وہ بچے ہی ہیں اور بچے ہی ہیں جنہیں دیکھنا بڑوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک کاباعث بنتاہے۔بچے،قبیلہ بنی نوع انسان کا وہ پہلو ہیں جو بہت نازک اور بہت کمزور ہونے کے ساتھ ساتھ بہت مضبوط اور بہت طاقتوربھی ہے۔بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی گھرمیں خوشیوں کاایک سماں سا بندھ جاتاہے،جہاں پہلے کوئی بچہ نہ ہواس گھرمیں بچے کی آمد گویازندگی کی آمدکاپیش خیمہ ثابت ہوتی ہے اور جہاں پہلے بھی بچے موجود ہوں وہاں کے غنچہ بہارمیں ایک اورتروتازہ پھول کااضافہ ہوجاتاہے۔میاں اور بیوی جن کی زندگی جب ایک خاص مدت کے بعد یکسانیت کاشکارہونے لگتی ہے تو خالق کائنات اپنی بے پناہ محبت و بے کنار رحمت کے باعث ان کے درمیان ایک اور ذی روح کااضافہ کردیتاہے جو ان کی حیات نواور ان کی باہمی محبتوں اورچاہتوں کی تاسیس جدیدکاباعث بن جاتاہے۔کاروان حیات آگے بڑھتاہے توایک نسل کے بالیدگی کے بعدجب اس سے اگلی نسل کی آمد کاسلسلہ شروع ہوتاہے تو دادا دادی اور نانانانی اپنے ہی لگائے ہوئے پودوں میں پھل پھول لگتے دیکھ کر پھولے نہیں سماتے ہیں اور اب جب کہ عملی زندگی کی تندوتیزلہروں نے انہیں کنارے کی طرف دھکیلناشروع کردیاہے تو اس آنے والی نسل نوکی مرکزیت انہیں زندگی کاسہارااورنوبہاردلچسپیاں مستعاردینے لگتی ہے اور اوران کے پسماندہ و جہاں رسیدہ چہرے اپنی پوتوں اور نواسوں کو گودوں میں اٹھاکرچمکنے اور دمکنے لگتے ہیں اور انہیں عمررفتہ کی شادمانیاں ایک بار پھر یاددلانے لگتے ہیں۔بچے فطرت پر پیدا ہوتے ہیں اور فطرت انسانی کے بہترین امین ثابت ہوتے ہیں،اس لیے کہ محسن انسانیت ﷺ نے فرمایاکہ ہر بچہ دین فطرت پرپیداہوتاہے۔حق پیدائش ،بچے کے حقوق میں سے سب سے اولین حق ہے۔خود اس دنیامیں وارد ہوجانا اور اپنے بعد آنے والی نسل کاراستہ روک لینا صریحاِِ خلاف انسانیت ہے اور ظلم ہے۔اس آسمان نے وہ نام نہاد ’’مفکرین‘‘بھی دیکھے جن کے فلسفوں نے بچے کو اس کے اس بنیادی ،اولین اور فطری حق،حق پیدائش ،تک سے بھی محروم کیا۔ہرذی روح کاحق ہے کہ اس کواس دنیامیں آنے کاپوراپوراموقع دیا جائے۔اﷲ تعالی کی شان ہے کہ بچے کے آنے پر اس کے لیے جملہ انتظامات پہلے سے موجود ہوتے ہیں،قدرت نے بچے کے لیے ہوا،دھوپ،اناج اور اس کے ماں باپ اور بہت سارے محبت کرنے والے رشتہ دار پہلے سے بنارکھے ہوتے ہیں۔اس دنیامیں آتے ہی بچے کوہاتھوں ہاتھ لینے والے اوراس سے محبت کرنے والے اسے سینے سے لگالیتے ہیں۔بچے کے ابتدائی ایام کے لیے قدرت نے اس کی ماں کے سینے میں دودھ کے چشمے رواں کر دیے ہیں،اس کے باپ کے رزق میں بچے کاحصہ بھی اترناشروع ہوجاتاہے اور گھر،خاندان،قبیلہ اور قوم میں اضافہ ایک نقد انعام ہے جو قدرت کاملہ کی طرف سے تحفہ کے طور پر بہم پہنچادیاجاتاہے۔ہرہربچے کی پیدائش سے آسمان کی طرف سے گویاعالم انسانیت کو یہ اعلان سننے کوملتاہے کہ ابھی قدرت انسانوں سے مایوس نہیں ہوئی۔پس ہر مولود قبیلہ بنی نوع انسان کے لیے سامان خوش بختی کی نویدہے۔اس دنیامیں جنم لینے والا کھانے کے لیے ایک منہ اور محنت کرنے کے لیے دوہاتھ لے کرآتاہے جب کہ اس کے ذہن میں موجود فکرانسانی کی صلاحیت اتناطاقتورعنصر ہے کہ اس کے اندر ہی خلافت الہیہ کاملکہ پایاجاتاہے۔اس ذہن کے باعث ایک انسان ہزاروں نہیں لاکھوں انسانوں کی کفالت کاباعث بن سکتاہے بلکہ بن جاتاہے۔تاریخی حقائق اس بات پر شاہد ہیں کہ جب اس کرہ ارض پر آبادی کم تھی تو وسائل رزق بھی کم تھے،فی ایکڑ پیداوار بہت کم ہوتی تھی اور زراعت کے نت نئے طریقے دریافت نہیں ہوئے تھے اور اب جب کہ قدرت کی طرف بچوں کی آمدکاسلسلہ شبانہ روز جاری و ساری ہے تو آسمان اور زمین سے بھی رزق کے وسیلے امڈتے چلے آرہے ہیں اور زیرزمین خزانوں کا تو کوئی حساب ہی نہیں ہے۔یہ برکتیں ہی برکتیں ہیں جو بچوں کی آمد سے اس زمین پر برستی چلی جارہی ہیں۔پیدائش کے بعد شریعت محمدیہ ﷺکے مطابق بچے کے دائیں کان میںآذان دی جاتی جاتی ہے اور بائیں کان میں اقامت کہی جاتی ہے۔یہ بچے کے اولین سماعتی اثرات ہیں ،آج سائنس یہ بات ثابت کررہی ہے کہ نومولود کے کان میں پڑنے والی ابتدائی آوازیں اس کے تحت الشعور میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوجاتی ہیں۔آذان اور اقامت سے بچے کے ذہن میں اس کے ایمان کااولین تعارف داخل ہوجاتاہے۔اس کے بعد بچے کو گھٹی دی جاتی ہے۔دورنبوت میں جو بچے پیدائش کے بعد آپﷺ کے پاس لائے جاتے تو محسن انسانیت ﷺاپنی مبارک انگشت شہادت سے بچے کے تالو میں شہد لگادیتے جسے بچہ چاٹتارہتاتھا۔خاندان کے بڑے نیک بزرگ مردیاعورت سے بچے کو گھٹی دلاناگویا نیک اور دین دار ہاتھوں سے بچے کاافتتاح کرانا ہے جو یقیناََ بچے کے لیے خوش بختی کاپیش خیمہ ثابت ہوگا ۔ننھے منے معصوم بچے کاحق ہے کہ اس کا بہترین نام تجویزکیاجائے۔ماں باپ کی طرف سے حق وجود کے بعدبچے کے لیے سب سے پہلا تحفہ اس کاخوبصورت نام ہے۔حسن تسویم کا حسن شخصیت پر براہ راست اثر انداز ہوناامرواقع ہے اور نام ہی انسان کا سب سے پہلاتعارف ہے خواہ وہ انسان خود موجود ہو یانہ ہو۔نام کی حقیقت ’’نسبت‘‘سے وابسطہ ہے ،پس بہترین نام وہی ہیں جن میں بہترین نسبت پائی جاتی ہو۔محسن انسانیت ﷺنے ’’عبداﷲ‘‘نام کو پسند فرمایاہے کیونکہ اس میں سب سے اعلی نسبت پائی جاتی ہے کہ ’’اﷲ تعالی کابندہ‘‘۔لا معنی اور بے مقصدنام رکھنے سے احترازکرنا چاہیے،اسی طرح ایسے نام جن سے بد شگونی پیداہوان سے بھی منع کیاگیاہے مثلاََ’’ایمان‘‘یا’’حیا‘‘یا’’برہ(نیکی)‘‘نام رکھنا صحیح نہیں کیونکہ اگران ناموں کے افراد گھر میں نہ ہوں تو جواب دیاجائے گا کہ ایمان نہیں ہے یا حیا نہیں ہے وغیرہ ۔لڑکوں کے لیے بہترین نام انبیاء علیھم السلام کے نام ہیں،اس کے بعد صحابہ کرام کے اور پھر بعد میں آنے والے نیک بزرگوں کے نام۔لڑکیوں کے لیے بھی بہترین اسماء وہی ہیں جو انبیاء علیھم السلام کے اہل خانہ کے ہاں ملتے ہیں یاصحابیات اور بزرگ خواتین کے اسمائے مبارک۔اولاد ملنا بہت بڑی نعمت ہے۔اس نعمت کے شکرانے کے لیے عقیقہ کی سنت تازہ کی جاتی ہے۔بیٹے کی پیدائش پر دو بکریاں اور بیٹی کی پیدائش پر ایک بکری ذبح کی جاتی ہے۔اگر والدین کے لیے دوبکریاں ذبح کرنا مشکل ہو تو بیٹے کی پیدائش پر بھی ایک بکری کر دینا کافی ہے۔عقیقے کے لیے ذبیحہ کرنا ہی ضروری ہے،ذبیحے کی رقم کسی اور نیک کام میں خرچ کر دینے سے عقیقہ ساقط نہیں ہو گا۔ کیونکہ عبادت وہی ہے جو نبیﷺکے طریقے کے مطابق کی جائے۔نبی علیہ السلام کے طریقے سے ہٹ کر کسی طرح کابھلاکام نیکی کے زمرے میں نہیں آتا۔انسان کے کاندھے پر بیٹھے فرشتے کسی بھی اچھے کام کو اسی وقت نیکی میں شمار کرتے ہیں اور اس کااجر بھی تب ہی لکھتے ہیں جب وہ عین سنت رسول اﷲ ﷺکے مطابق ہی کیاجائے۔عقیقے کاگوشت حسب قربانی تین حصوں میں تقسیم کیاجاتاہے ،ایک حصہ اپنے لیے،ایک حصہ رشتہ داروں کے لیے اور ایک حصہ غریبوں کے لیے۔ایک ہفتے کی عمر ہوجانے پرنومولود کے سر کے بال مونڈھ لیے جاتے ہیں۔ سرکے بالوں کے برابروزن چاندی کا صدقہ کیاجانا بھی شریعۃ اسلامیہ کی شاندارروایات میں سے ایک ہے۔اور وسعت کے مطابق بہترین طعام و قیام اور تعلیم و تربیت وسیروتفریح بچوں کے کچھ مزیدحقوق ہیں ۔محسن انسانیت ﷺ بچوں سے بے حد پیارکرتے تھے،خاص طور پر یتیم بچے ان کی توجہ کا مرکزہواکرتے تھے۔حضرت زید،جوغلام بن کرآئے تھے آپ ﷺ نے انہیں اتنی محبت دی کہ انہوں نے اپنے سگے ماں باپ کے پاس جانے سے انکارکردیا۔آپ کے بڑے بیٹے کانام قاسم تھااسی نسبت سے آپ ﷺ کو ’’ابوقاسم‘‘کہاجاتاتھا۔جب حضرت قاسم فوت ہوئے توآپ ﷺ اشک بارہوگئے۔ایک بارآپ ﷺ بازارمیں سے گزررہے تھے توایک آدمی نے زورسے پکارا’’یااباقاسم‘‘،توآپﷺنے مڑ کردیکھاتواس آدمی نے کہاکہ نہیں میں اس کوبلارہاتھا،وہاں کسی اور کی کنیت بھی ابوقاسم تھی۔آپ ﷺ کو یہ بات ناگوارگزری اور آپﷺ نے فرمایا کہ میرے نام پر نام تورکھولیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھو۔چاروں بیٹیوں سے اورخاص طور پرخاتون جنت بی بی فاطمۃ الزہراسے آپ ﷺ کو از حد محبت تھی ،ان کے دونوں فرزند حسنین کریمین شفیقین آپ ﷺ کے کندھوں پر سواری کیاکرتے تھے اور جب کبھی حالت سجدہ میں یہ نواسے آپ ﷺ کی کمر مبارک پر سوار ہوجاتے توآپﷺاس وقت سر اٹھاتے تھے جب کہ وہ دونوں خود اترتے۔قرآن مجید نے حکم دیاہے ’’اپنے بچوں کو بھوک کے خوف سے قتل نہ کرو،ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور انہیں بھی دیں گے‘‘ اس کے علاوہ قرآن نے یہ بھی کہا کہ ’’اپنے آپ کو اور اپنے گھروالوں کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ‘‘۔چنانچہ بچوں کا یہ بھی حق ہے کہ دوزخ کی جس آگ سے ایک مومن خود بچنے کااہتمام کرتاہے وہاں اپنے بچوں کو بھی اس آگ سے دور رکھنے کابالالتزام انتظام کرے اور اپنے مرنے کے بعد بچوں کی فکر کے ساتھ ساتھ بچوں کے مرنے کے بعد ان کی فکر بھی دامن گیر رہنی چاہیے۔آپﷺجب فجرکی نمازکے لیے اپنے گھرسے باہر تشریف لاتے تو حضرت علی کے حجرے کادروازہ بجاکر انہیں فجرکی نمازکے لیے بیدارکرتے اورفرماتے اے اہل بیت نماز کے لیے چلو۔آپ ﷺ نے فرمایاکہ جب بچہ سات سال کاہوجائے تواسے نمازکے لیے کہواور جب دس برس کے ہوجائیں توان کے بسترالگ کردواورنماز کے لیے ان پر سختی کرو۔اپنے بچوں سے جانور بھی پیارکرتاہے،جنگلی درندہ بھی اپنی نسل کی بڑھوتری چاہتاہے اورعلوم معارف سے ناآشناانسانی آبادیوں سے دورزمین کی تہوں سے نیچے اور پانی کے اندھیروں میں چھپی ہوئی مخلوقات بھی اپنی نسلوں کے لیے کیسی کیسی قربانیاں دیتی ہے یہاں تک کہ بعض حشرات الارض تو ایک خول میں انڈے دے کر مرجاتے ہیں تب ان انڈوں سے نکلنے والے بچے اسی جسم مادرکوکھاکراپنے دورہ حیات کا آغاز کرتے ہیں۔لیکن حیرانی ہے اس سیکولر مغربی تہذیب پر جس نے اپنی نسل کے بچوں کو ہی اپنے اوپر بوجھ سمجھ لیا،اتنا ظالم اور اس قدر کرب ناک تجربہ تو اس سے پہلے بھی شاید کسی انسانی تہذیب نے نہیں کیاتھاکہ خود انسان پر اس کی اپنی نسل بوجھ بن کر رہ گئی ہو۔اس سیکولرمغربی تہذیب نے انسانیت کو اس درس معکوس سے آشناکیاکہ بچے انسانی وسائل پر بوجھ ہیں اور انہیں اس دنیامیں آنے سے روک دیاجائے۔ہوس نفس کی ماری اس سیکولرتہذیب نے اپنی ہی نسل کولذت نفسانی کی بھینٹ چڑھایا۔انقلاب فرانس سے شروع ہونے والا یہ اخلاقی تنزلی کاسفرآج تک جاری ہے اوراب تو یہ صورت حال ہے کہ یورپ کے بعض علاقے بچوں کے وجود سے بالکل خالی نظر آتے ہیں،اور ہردوچارسال یا پانچ سالوں کے بعد اکادکااسکول بند ہوجانے کی اطلاعات آتی ہیں کہ اتنے بچے ہی نہیں ہیں کہ سکول کوجاری رکھا جاسکے۔سیکنڈے نیویاکے بعض علاقوں میں بچوں کی پیدائش کی شرح اس قدر کم ترین ہے کہ کل آبادی میں چودہ فیصدسالانہ تک کی کمی دیکھنے میں آ رہی ہے اور شہر کے شہر خالی ہونے لگے ہیں جبکہ دوسری طرف اوسط عمر میں مسلسل اضافے کے باعث یہ غیرفطری طرزمعاشرت کے ثمرات بد ہیں کہ ایک طرف بچوں کی پیدائش کی شرح ہوشرباحد تک کم ہے تو دوسری طرف دن بدن ریٹائرہونے والے افراد کی ایک لمبی قطاراور طویل فہرست ہے اور وہ ممالک مجبور ہیں کہ درمیان کے خلاکو پر کرنے کے لیے ایشیائی ممالک سے اپنی شہریت کے دروازے کھولیں۔ان یورپی ممالک سے جب کبھی کوئی سیاح ایشیائی ممالک کا سفر کرتے ہیں تو پھول جیسے بچوں سے بھری ہوئی گلدستے جیسی گلیوں کو دیکھ کر وہ پکاراٹھتے ہیں کہ یہ کتنی امیراقوام ہیں ۔ سیکولرمغربی تہذیب کی حامل اقوام کس منہ سے بچوں کاعالمی دن مناتی ہیں جب کہ بچوں کی سب سے بڑی استحصالی قوتیں وہ خود ہیں کہ انہوں نے اپنی گود میں لذت نفسانی سے سرشارسیکولرازم کی پرورش کرکے بچوں کو ان کی مامتاتک سے محروم کیاہے۔سیکولرمعاشروں میں بچوں کی ایک بہت بڑی تعدادنہ صرف یہ کہ باپ کی شفقت سے محروم ہوتی ہے بلکہ حقیقت میں تو اس تعدادکو اپنے باپ کا کوئی اتہ پتہ ہی معلوم نہیں ہوتاگویا ان معاشروں میں موجود بچوں میں حلالی اور غیرحلالی کافرق ہی نہ رہا۔بڑے تو پھر بھی اپنے حقوق کی خاطر مظاہرے کرتے ہیں لیکن مامتاسے محروم ڈے کئر سنٹرزمیں نرسوں کے ہاتھوں نیندکی دوائی ملادودھ پی کر ساراسارادن سوتے رہنے والے بچے تواس قابل نہیں ہوتے کہ وہ اپنی ماؤں کے حصول کے لیے سیکولرمغربی جمہوری حقوق کے تحت کوئی مظاہرہ کرسکیں۔اس سیکولرمغربی تہذیب نے بچوں کے ساتھ سب سے بڑی زیادتی اور ظلم یہ کیاہے کہ عورت کو بھی مزدوروں اورپیشہ وروں کی صف میں کھڑاکرکے خاندانی نظام کو اجاڑ پھینکاہے ۔اس خاندانی نظام کی بقامیں ہی بچوں کاتحفظ پوشیدہ تھااور اب انسانیت کے دعوے  داراور انسانی حقوق کے ٹھیکیداریورپ اور امریکہ کے کارپردازگان ایشیائی و اسلامی ممالک کے بچوں کو بھی اسی استحصال کا شکار کرنا چاہتے ہیں جس کی تفصیلات آئے دن اخبارات کی زینت ہیں۔اگروہ واقعی انسانیت کے خیرخواہ ہیں تو بچوں کے عالمی دن کا تقاضا ہے کہ اپنے ملکوں میں خاندانی نظام کو ازسرنو تازہ کریں جس کاواحد اور بالکل ایک ہی راستہ ہے کہ عورت کو اس کی فطری ذمہ داریاں سونپی جائیں کیونکہ نسوانیت اور مامتا لازم و ملزوم ہیں۔انسانی عقل کتنی ہی ترقی کرجائے وہ وحی کی تعلیمات سے آگے نہیں نکل سکتی،وحی کی تعلیمات میں ہی بچوں سمیت کل انسانیت کی فلاح پوشیدہ ہے۔نکاح وہ ادارہ ہے جس کے ثمرات صحیح النسب بچوں کی صورت میں انسانیت کو میسر آتے ہیں اور انسانی نسل آگے کو بڑھتی ہے۔ نکاح جیسے مقدس ادارے کاتحفظ خاندانی نظام سے ممکن ہے جبکہ بدکاری اور زناجیسے قبیح اعمال براہ راست نکاح جیسے محترم ادارے کو مجروح کرتے ہیں۔خاندانی نظام کی مضبوطی اور زناو بدکاری کی روک تھام کے لیے قرآن مجید نے جہاں بہت سے عائلی قوانین جاری کیے ہیں وہاں غص بصر،استیزان،حجاب اورعورت کو معاشی ذمہ داریوں سے مبراقراردے کردراصل انسان کی آنے والی نسل یعنی بچوں کے روشن مستقبل کی ضمانت دی ہے۔سال بھر میں ایک دفعہ بچوں کاعالمی دن منالینے سے بچوں کے حقوق ادانہیں ہو سکیں گے ۔بچوں کے حقوق اداکرنے کے لیے ضروری ہے کہ فطرت نے ان حقوق کی ادائگی کوجس ماں کے فرائض میں شامل کیاہے اسے دنیاکی تمام ذمہ داریوں سے فراغت عطاکی جائے تاکہ وہ ’’بچوں کے حقوق‘‘کوبحسن وخوبی اداکرسکے۔جب ماں واقعی ماں تھی اور اسوۃ رسول ﷺ کی پیروکار تھی تو اس کی گود سے حسنین کریمین جیسے بچے عالم انسانیت کو میسر آئے ،اﷲ کرے کہ ہماری آنے والی نسلوں کوبھی ایسی مائیں مرحمت ہوں کہ وہ بچے اپنے حقوق کے لیے کسی عالمی دن کے محتاج نہ رہیں،آمین۔