۔،۔ وقت کا پہیہ ۔طا رق حسین بٹ شانؔ،۔

پاکستان کی موجودہ صورتِ حال انتہائی تشویشناک رخ اختیار کرتی جا رہی ہے۔محاذ آرائی دن بدن بڑھتی جا رہی ہے اور اس میں کمی کے آثار نا پید ہوتے جا رہے ہیں۔چند روز قبل پنجاب اسمبلی میں جو دھینگا مشتی ہوئی تھی اس نے محاذ آرائی کے شعلوں کو مزید کمک پہنچائی تھی۔ سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی نے غیر پار لیمانی طرزِ عمل ،شور شرابے،اور احتجاج کی وجہ سے ۶ ممبران کی رکنیت معطل کی تھی جس نے احتجاجی سیاست میں مزید شدت پید ا کر دی تھی جبکہ سینیٹ میں وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری کی الزام تراشیاں اور جارحانہ انداز سیاسی فضا کو مزید پرا گندہ کر رہا ہے ۔وزیرِ اطلاعات کی توبدکلامی سے کم کسی بات پر تشفی نہیں ہوتی۔عدالتی فیصلوں کی عدم موجودگی میں مخالفین کو چور اورڈاکو کہنا ان کا وطیرہ بن چکا ہے جس سے فضا مکدر ہوتی جا رہی ہے۔اپوزیشن پر تنقید حکومت کا حق ہے لیکن اس کیلئے مناسب الفاظ کا چناؤ انتہائی ضروری ہے۔چیرمین سینیٹ نے ان کے غیر پارلیمانی الفاظ کا نوٹس لیتے ہوئے سینیٹ میں ان کے داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے لیکن ان کے کس بل پھر بھی نہیں نکل رہے۔وہ اب ابھی اپنے طرزِ سخن میں بہتری لانے کیلئے تیار نہیں ہیں جس سے سیاسی پارہ بہت بلند ہو چکا ہے لہذامخاصمت کی موجودہ فضا میں قانون سازی خواب و خیال بنی ہوئی ہے۔حد تو یہ ہے کہ کوئی بھی ہار ماننے کو تیار نہیں ہے۔ایک فریق احتساب کا نعرہ لگا رہا ہے جبکہ دوسرا فریق اسے انتقام کا نام دے رہا ہے۔عمران خان کی زبان پر تو کرپشن کے علاوہ کوئی دوسرا نعرہ نہیں حتی کہ چین جیسے انتہائی قریبی دوست کے سرکاری دورے پر بھی کرپشن اور لوٹ مار کے تذکرے سے قوم کی جوسبکی ہوئی وہ ناقابلِ بیان ہے ۔ قرض مانگنے کا یہ نیا انداز ہے جسے عمران خان نے متعارف کروایا ہے ۔عالمی کانفرنس میں بھی بھلا کوئی اپنی قوم کو خود گالی دیتا ہے ؟تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ حکمران اپنی قوم کی عظمتوں کے گن گاتے اور انھیں قابلِ فخر بنا کر پیش کرتے ہیں لیکن پتہ نہیں عمران خان کو کیا سوجھی کہ انھوں نے عالمی برادری کے سامنے اپنی قوم کی تذلیل کا بیڑا اٹھا لیا ۔جب حکمران خود اپنی قوم کے سر سے عظمت کا تاج چھیننا شروع کر دیں گے تو دوسری اقوم کا جورویہ ہو گا اس سے ہمیں کسی خوش فہمی میں نہیں رہنا چائیے۔کاش اس طرح کی بے سرو پا تقریر کرنے سے قبل وہ اتنا سوچ لیتے کہ یہ وہی قوم ہے جس نے انگریزوں اور ہندوؤں کے باہمی گٹھ جوڑھ کو شکست دے کر اپنی آزادی کا سنہرا باب رقم کیا تھا۔، اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان کرپٹ عناصر کی مکمل بیخ کنی چاہتے ہیں ۔ اگر ان کا بس چلے تو وہ بہت سے نامی گرامی سیاستدا نوں کو کرپشن کے الزامات میں جیل میں بند کر دیں۔ان کا سارا زورِ بیان کرپشن کے خاتمہ اور کرپٹ عناصر کو زندانوں کے حوالے کرنے سے عبارت ہے ۔ انھوں نے اپوزیشن کے ۵۰ سرکردہ راہنماؤں کی ایک فہرست بنا رکھی ہے جسے وہ گاہے بگاہے دہراتے رہتے ہیں۔چند روز قبل حکومت نے اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کے خلاف جس طرح کا معاندانہ رویہ اپنایا اس سے کرپشن کے خلاف جنگ کو الٹا نقصان اٹھانا پڑا کیونکہ اپوزیشن لیڈر کے خلاف الزامات میں وہ دم خم نہیں جس کا ڈھنڈورا تواتر سے پیٹا جا رہا ہے ۔آشیانہ ہاؤسنگ سکینڈل کے بعد اب رمضان شوگر مل کے ایک پل کی تعمیر پر شہباز شریف کو دھر لیا گیا ہے ۔کیا نیب الزامات کا نتیجہ جیل کی چار دیواری ہوتی ہے؟اس طرح تو پی ٹی آئی کے سارے وزرا ء کو جیل کی دیواروں کے پیچھے ہو نا چائیے کیونکہ ان پر بھی الزامات کی نوعیت وہی ہے جس کی پادا ش میں شہباز شریف کا ریمانڈ لیا گیا ہے ۔نیب اپوزیشن کوہراساں کرنے اور ان کی پگڑیاں اچھالنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں کر رہا۔ چیف جسٹس نے بھی احتساب بیورو کے ناروا سلوک پر اس کی سخت سرزنش کی ہے ۔ احتساب کا کوئی شخص منکر نہیں ہے کیونکہ اس کی عدم موجودگی میں معاشرہ جنگل کا نقشہ پیش کرتا ہے۔احتساب میں قوموں کی ترقی اور ان کی حیات مضمر ہوتی ہے۔جو قومیں احتساب کی روش چھوڑ دیتی ہیں وہ جلد یا بدیر تباہ و برباد ہو جاتی ہیں لہذا احتساب کا کوئی شخص مخالف اور منکر نہیں ہے ۔ مشکل وہاں پیش آتی ہے جہاں اپنے رفقاءِ کار کو کھلی چھوٹ دے دی جاتی ہے اور اپنے مخالفین کی گردنیں ناپ لی جاتی ہیں ۔احتسابی قوانین کے نفاذ میں سب کیلئے ایک پیمانہ ہونا چائیے اور اس میں اپنے اور بیگانے کی تمیز نہیں ہو نی چائیے ۔،۔مو جودہ حکومت کو یہ کریڈٹ جا تا ہے کہ اس نے کرپشن کے خلاف عوام کو متحرک کیا ہے اور ان کو کرپشن کی تباہ کاریوں سے آگاہ کیا ہے ۔ یہ ایک مستحسن اقدام ہے جس کی حمائت کی جانی چائیے لیکن مشکل یہ پیش آ گئی ہے کہ عمران خان پی ٹی آئی کی کالی بھیڑوں کے خلاف کسی قسم کی کوئی بات سننے کیلئے تیار نہیں ہیں جس کی وجہ سے احتساب کا سارا سسٹم متنازعہ بنتا جا رہا ہے۔علیم خان،جہانگیر ترین، پرویز خٹک،اسد قیصر،چوہدری پرویز الہی،زبیدہ جلال،فہمیدہ مرزا،بابر اعوان،اعظم سواتی،مقبول صدیقی، فروغ نسیم اور کئی دوسرے وفاقی وزراء نیب کو مطلوب ہیں لیکن انھیں نہ تو گرفتار کیا جا تا ہے اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی قانونی کاروائی عمل میں لائی جاتی ہے بلکہ انھیں صادق اور امین کا لقب دیا جاتا ہے ۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ سب جماعتوں میں کر پٹ عناصر گھسے ہوئے ہیں جھنیں کیفرِ کردار تک پہنچانا انتہائی ضروری ہے۔لیکن حکومت اپنے کارکنوں کو تو ہاتھ نہیں لگانے دیتی جبکہ مخالفین کیلئے جیلوں کی تاریکیاں مقدر ٹھہرائی جاتی ہیں۔ہماری تو حواہش ہے کہ ہر وہ شخص جس نے قوم کا خزانہ ہڑپ کیا ہے اسے سخت سے سخت سزا دی جانی چائیے تا کہ مستقبل میں کوئی قومی خزانے سے کھلواڑ نہ کر سکے ۔عمران خان کے پاس دو راستے ہیں ۔ایک راستہ تو ماضی کو فراموش کر کے آگے بڑھنا ہے جیسا ساؤتھ افریکہ میں ہوا تھا ،جیسافلپائن میں ہوا تھا ،جیسا پاکستان میں پی پی پی کے دورِ حکومت میں ہوا تھا ۔محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنے سارے مخالفین اور ذولفقار علی بھٹو کے قاتلوں کو معاف کر کے نئے دور کا آغاز کیا تھا یہ الگ بات کے ان کی اس کشادہ دلی کو دھوکہ دیا گیا اور انھیں سرِ عام گولی کا نشانہ بنا کر ختم کر دیا گیا ۔ بہر حال یہ ان کی بالغ نظری اور جمہوری جدو جہد کا ثمر ہے کہ ہم ایک بہتر جمہوری فضا میں سانس لے رہے ہیں۔مارشل لائی سوچ دھیرے دھیرے زوال پذیر ہو رہی ہے اور وردی میں ملبوس کوئی طالع آزما اقتدار پر قبضہ کرنے کی ہمت نہیں کر پا رہا۔دوسرا راستہ اس بے رحم احتساب کا ہے جس میں لوٹی ہوئی دولت کو ملک واپس لاکر ملک کی معاشی حالت بدلی جائے ۔ عمران خان نے دوسری راہ کا انتخاب کیا ہے لیکن اس میں اپنوں اور غیروں کی تمیز نے ان کے خلوصِ پر سوالیہ نشان لگا دئے ہیں۔اپوزیشن کو چور چور کہنے سے معاملات سلجھنے کی بجائے الجھتے جا رہے ہیں اور احتساب پر انتقام کا رنگ غالب آتا جا رہا ہے ۔ کئی ممالک سے ملزموں کے تبادلے کے معا ہدے ہوئے ہیں جس سے لوٹی ہوئی دولت کی واپسی کی امیدوں کو تقویت ملی ہے۔بہت سے لوگ جو احتساب کے خوف سے ملک سے فرار ہو چکے ہیں شائد ان نئے معاہدوں سے ان کی دولت ملک واپس لائی جا سکے۔ اگر ایسا ہو گیا تو یہ عمران خان کی بہت بڑی کامیابی تصور ہو گی۔مشہو رکالم نگار سہیل وڑائچ معاف کرو اور آگے بڑھو کے حامی ہیں کیونکہ ان کا مشاہدہ ،تجربہ اور دور اندیشی انھیں یہی درس دیتی ہے۔انھوں نے اپنی نگاہوں کے سامنے انتقام اور احتساب کو گڈ مڈھ ہوتے ہوئے دیکھا ہو اہے۔انھوں نے اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں کتنے بے گناہوں کو سولی چڑھتے ہوئے دیکھا ہے لہذا وہ اس روش سے بچنے کا مشورہ دیتے ہیں۔وہ ایسی سوچ کو ایک ایسی آگ سے تشبیہ دیتے ہیں جو سب کچھ جلا کر راکھ کر دیتی ہے ۔جنرل ضیا الحق کا دور اس طرح کے بے رحم انتقام اور احتساب کی واضح مثال ہے ۔ وہ انتقام لیتے لیتے اس دنیا سے رخصت ہو گئے لیکن جھنیں انتقام کانشا نہ بنایا گیا تھا ایک دن انہی کو اقتدار سونپنا پڑا ۔ہمارا الیہ یہ ہے کہ ہم طاقت کے نشے میں کسی کی نہیں سنتے لیکن جب وقت کا پہیہ ہمیں کچل کر گزر جاتا ہے تو پھر ہمارا احساس جاگتا ہے لیکن اس وقت بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے ۔،۔