دستک


اے آراشرف بیوروچیف جرمنی
بیباک اور نڈر صحافی
جناب حسین نقی بیباک اور نڈر صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ افلاس زدہ محرموں ، کسانوں،مزدورں اور استحصالی طبقات کے بنیادی حقوق کی پامالی کے خلاف آواز اُٹھانے والوں کے سرخَیل ہیں ۔معروف کالم نگار جناب حسن نثارنجی ٹی وی پر اپنے پروگرام میں اکثر کہا کرتے ہیں کہ ہماری قوم کا سب سے بڑا مسئلہ اخلاقیات اور ادب و اداب کا ہے اور میں اُنکی اس بات سے سو فیصد متفق ہوں۔سرکار دو جہاں ﷺنے اپنی نبوت کے اعلان سے قبل اُس بدو وں کے معاشرے کو اخلاقیات کا درس دیا اور اپنا کردار پیش کیاتھا۔ہمارے معاشرے کی پستی کاحال بھی عرب کے بدووں سے مختلف نہیں۔ پنجابی کا محاورہ ہے۔۔یہاں تند نہیں تانی وی وگری پئی اے۔۔یا یوں کہہ لیں کہ۔۔آوے دا آوا ای خراب اے۔ سپریم کورٹ اف پاکستا ن خدا کہ بعداس ملک کی سب سے بڑی عدالت ہے جہاں ہر خاص و عام عدل و انصاف اور داد رسی کی آخری اُمیدلیکرحاضر ہوتے ہیں اگریہاں بھی شرفا کی پگڑی اچھالنے کا سلسلہ چل نکلا تو لوگوں کا عدالت عظمہ کے بارے میں جو اعتماد بحال ہوا ہے وہ یکسر ختم ہو جائے گا ہمیشہ انسان اخلاقیات یا ادب و آداب اپنے بڑوں سے سیکھتا ہے جب بڑے ہی اخلاقیات کا دامن چھوڑ دیں تو ہمارے جیسے کم فہم لوگوں کی تو کوئی حثیت ہی نہیں مجھے نہیں معلوم میرا یہ کالم توہین عدالت کے زُمرے میں آتاہے یا نہیں مگر اتنا ضرور جانتا ہوں کہ اس کالے قانون نے ہر سچے انسان کی آواز پر پہرے اور زبان پرخوف کے تالے لگا رکھے ہیں اور کوئی بھی شریف اور سچا انسان اس لئے خاموشی اختیار کر جاتا ہے کہ وہ اس دلدل میں اُلجھ کر ۔۔اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑا چلانے سے گریزکرتا ہے وہ جو کہتے ہیں ۔۔ بات تو سچ ہے مگر ہے رسوائی کی۔۔کشور خدا داد پاکستان ہی دنیا میں ایک واحد ملک ہے جہاں توہین عدالت کے قانون پر اتنی بیدردی اور تیز رفتاری سے عمل ہوتا ہے کہ اتنی تیزی سے خطرناک مجرموں کو سزائیں بھی نہیں دی جاتءں اور نہ ہی دنیا کے کسی اور ملک میں کوئی ایسی مثال ملتی ہے اور شاید اسی بنا پر یا پھر اپنی بزرگی اور عزت سادات کابھرم رکھنے یا عدلیہ کے اخترام کے پیش نظر ہی ہمارے اُستاد گرامی جناب حسین نقی جیسے بیباک اور نڈر صحافی نے عزت ماب چیف جسٹس اف پاکستان جناب ثاقب نثار کی توہین عدالت کی دھمکی نے حسین نقی جیسے بااصول صحافی کو معافی مانگنے پر مجبور کیا۔حضورﷺ کا ارشاد ہے کہ ۔ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا بھی عین جہاد ہے میں یہ تو نہیں کہتا کہ ہمارے عزت ماب چیف جسٹس جناب ثاقب نثار خدا نحو۱ستہ ظالم حکمران ہیں بلکہ ان کے بعض اقدامات کو دیکھ کر قوم فخر محسوس کرتی ہے کہ دیرسے ہی سہی ا ب قوم کو عدلیہ کی سربراہی ایک ایسے مسیحا کے ہاتھ میں ہے جس کے اقدامات سے آزاد عدلیہ کے خواب کی تعبیر ممکن ہوسکتی ہے کیونکہ ماضی میں عدلیہ کسی نہ کسی حوالے سے حکومتی دباؤ کا شکار رہی ہے اور غلط فیصلے بھی ہوتے رہے ہیں جسکی سب سے بڑی مثال قائد عوام شہید ذوالفقار بھٹو کا عدالتی قتل ہے جو آج بھی عدل و انصاف کا منتظر ہے۔جناب چیف جسٹس صاحب اس ملک کے سب اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں اس لحاظ جتنا بڑا عہدا اُتنی بڑی ذمہ داری بھی ہوتی ہے اتنا طویل عرصہ عدالتی نظام سے منسلک رہنے سے انسان کو گھوڑے اور گدھے میں فرق تو واضح ہو ہی جاتا ہے میں طویل عرصے سے جناب حسین نقی کو جانتا ہوں وہ سچائی، دیانتداری،نیک سیرتی،اصول پرستی اورانسان دوستی کا ایک رول ماڈل تصور کیے جاتے ہیں اُنکا نام پاکستان کے اُن غیر جانبدار،محب وطن، بااصول اور باکردار صحافیوں کی صف میں شمار ہوتاہے جہنوں نے انسان کے بنیادی حقوْق اور مزدوروں کے حقوق کی جنگ لڑنے میں اپنی زندگی وقف کر رکھی ہے ۔گزشتہ دنوں جب چند اُستادوں کو ہتھکڑی لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا تھا تو چیف جسٹس اف پاکستان عزت ماب جناب ثاقب نثار نے اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا تھا اورمذمت کی تھی تومیرا دل خوشی سے جھوم اُٹھا تھااورقوم کواُستاتذہ کے اخترام کاایک مُثبت پیغام دیا تھالیکن جناب حسین نقی سے چیف جسٹس کا رویہ توہین آمیز تھا جواُنکے منصب کے لحاظ سے اُنہیں زیب نہیں دیتا تھا دعا ہے خدا ہم سب کواپنے بزرگوں کا اخترام کرنے کی توفیق عنائت فرمائے آمین ثم آمین۔

Back to Conversion Tool