۔،۔ روک سکو تو روک لو سعودی عرب میں بھی تبدیلی آ چکی ہے۔،۔

شان پاکستان سعودی عرب ریاضRiad۔ سعودی عرب Saudi-Arabienمیں عورتوں کو مالی فوائد دینے سے بچنے کے لئے خواتین کو زبانی یا بغیر اطلاع دیئے طلاق دے دی جاتی تھی، اب سعودی عرب میں طلاق کو رجسٹرڈ کرانا اور طلاق شدہ عورت کو طلاق رجسٹرڈ ہونے سے آگاہی لازمی قرار دے دیا گیا ہے، بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سعودی عرب میں خواتین کو بغیر اطلاع دیئے یا محض زبانی طلاق دینے کی شرح میں اضافے کے پیش نظر قوانین میں ترمیم کی گئی ہے۔ جس کے لیے مراسلہ بھی جاری کردیا گیا ہے۔سرکاری مراسلے میں زبانی طلاق کے بجائے اسے عدالت سے رجسٹرڈ کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے فیملی کورٹ کو بھی اس بات پر پابند کیا گیا ہے کہ عدالت طلاق کی تصدیق سے خواتین کو موبائل فون پر میسیج بھیج کرآگاہ کرے۔علاوہ ازیں طلاق سے متعلق تفصیلات وزارت انصاف کی ویب سائٹ پر بھی دستیاب ہوں گی جب کہ فیملی کورٹ خواتین کو ازدواجی حیثیت میں تبدیلی جیسے مطلقہ یا بیوہ ہونے سے بھی آگاہ کرنے کی پابند ہوگی۔سعودی خاتون وکلاء کی تنظیم کی سربراہ نسرین الغامدی کا کہنا ہے کہ طلاق سے متعلق قوانین میں تبدیلی سے خواتین طلاق کے بعد تمام مالی فوائد حاصل کرپائیں گی، جس سے بچنے کے لیے زبانی طلاق دے دی جاتی تھی اور طلاق سے خواتین کو آگاہ نہیں جاتا تھا۔طلاق سے متعلق نئے حکم نامے کو ولی عہد شاہ محمد بن سلمان کے معاشی اور سماجی اصلاحات سے جوڑا جا رہا ہے، ولی عہد کے انقلابی پروگرام 2023 کے تحت خواتین کو ڈرائیونگ اور ملازمتوں سمیت چند ایسے اختیارات دیئے گئے جو اس سے قبل سعودی عرب میں شجر ممنوعہ تھے۔