-،-محمدرکن الدین-،-عارف محمودکسانہ “افکارتازہ”کے تناظر میں-،-
ریسرچ اسکالر،ہندوستانی زبانوں کا مرکز
جواہرلعل نہرویونیورسٹی،نئی دہلی

ملکی اورسماجی فلاح وبہبودکے لیے کام کرنے والوں کی تاریخ آب زرسے لکھنے کے قابل ہے۔ملی اورقومی حمیت کے دلدادہ شخصیات نے بھی اپنی وسعت کے مطابق ہردورمیں عملی،علمی،قلمی اورفکری سطح پر امت مسلمہ کے لیے کام کیا ہے جس سے امت نے ہردورمیں بھرپوراستفادہ کیا ہے۔اس طویل فہرست کا ذکریہاں ممکن نہیں۔موجودہ وقت میں عارف کسانہ اسی ملی وقومی حمیت سے سرشارہوکر متعددسمت میں کارخیرانجام دے رہے ہیں۔جس کا مقصدظاہر ہے کہ امت مسلمہ کے ساتھ انسانیت کی فلاح وبہبودی ہے۔اسلام ایک آفاقی مذہب ہے۔اسلا م کا پیغام پوری انسانیت کے لیے یکساں ہے۔قرآن کریم میں متعددباراللہ پاک نے انسان سے خطاب فرمایاہے جس میں تمام نسل انسانی کا ذکرہے۔صرف ایمان والے اس خطاب میں شامل نہیں۔انہیں تعلیمات سے اپنے ذہن وفکرکومنورکرکے عارف محمود کسانہ موجودہ وقت میں پوری انسانیت اورخاص طورپر امت مسلمہ کے لیے کام کررہے ہیں۔دنیا کے کسی کونے میں انسانیت سسکتی ہے تو عارف کسانہ کا دل دردسے تڑپ اٹھتاہے کیوں کہ موصوف ایک حساس طبیعت کے مالک ہیں۔عالمی منظرنامے پر ان کی نظرہے اور وہ عالمی صورت حال سے بخوبی واقف ہیں۔پوری دنیا میں امن کے نام پر کیا کچھ نہیں ہورہاہے۔آئے دن لاتعدادانسان مختلف ممالک میں مارے جارہے ہیں۔شام،عراق،افغانستان،یمن،برما،لیبیا،تیونشیاوغیرہ چنددرندہ صفت انسانوں کی غذابن چکا ہے۔وہ مذکورہ ممالک میں اپنا خونی پنجہ مارنے کے لیے ہمہ وقت بہانے کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔کبھی روس اور کبھی امریکہ کلمہ گوممالک کے ساتھ پوری امت پر بموں کی بارشیں کررہاہے۔تمام کلمہ گو اتنے ٹکڑے میں بٹے ہوئے ہیں کہ ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔ریال اورڈالر کی چمک نے ان بے غیرت لیڈران کی آنکھوں پر عینک لگا دیا ہے۔مسلم ممالک خود یہودی سازش کے شکار ہورہے ہیں۔اس بھیڑ اور مطلب پرست دورمیں عارف کسانہ کی ملی اورقومی حمیت پر مشتمل قیمتی اوراہم صفحات ورقعات یقیناًہمیں ملت بیضاکے تئیں بیداراوراحساس ذمہ داری کا درس دے رہے ہیں۔عارف محمود کسانہ۱۹۹۵ تا حال سٹاک ہوم ،سویڈن میں رہائش پذیر ہیں۔موصوف۲۴جون۱۹۶۴میں پاکستان کے معروف اور عالمی شہرت یافتہ شہر سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم چونڈہ اورکرریکی ضلع سیالکوٹ، چھٹی سے دسویں جماعت تک گورنمٹ پائیلٹ ہائی اسکول بھمبر آزاد کشمیر،ہائی اسکول ۱۹۸۰ میں ،ایف ایس سی (پری میڈیکل)گورنمنٹ مرے کالج ،سیالکوٹ، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد سے چار سال میں پروفیشنل گریجویشن کرنے کے بعد پنجاب پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کیا،۱۹۸۸ میں ویٹرینری آفیسر ہیلتھ کی حیثیت سے ملازمت اختیار کی۔کالج آف ویٹرینری سائنسیز لاہور(جواب یونیورسٹی آف ویٹرینری اینڈ اینیمل سائنسیز)ہے۔یہان سے ۱۹۹۰میں ایم ایس سی (آنرز)مکمل کیا۔لاہورقیام کے دوران اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی سے کشمیری زبان وادب میں سرٹیفکیٹ اورڈپلومہ حاصل کیا۔سرٹیفکیٹ کورس میں سلورمیڈل بھی حاصل کیا۔زرعی یونیورسٹی فیصل آباد سے قاری کورس اورعربی زبان میں ایک سالہ ڈپلومہ بھی کیا۔پرائیوٹ موڈ میں پنجاب یونیورسٹی لاہورسے بی اے اورایم اے تاریخ میں مکمل کیا۔سویڈن میں۱۹۹۵میں آنے کے بعد یہاں کی معروف میڈیکل یونیورسٹی، کارولنسکا انسٹیٹیوٹ سٹاک ہوم سے ایمبریالوجی میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ،سٹاک ہوم یونیورسٹی سے ابھی ایک کورس موصوف نے کیا ہے،ان کے علاوہ دیگر پروفیشنل کورسیز بھی آپ نے حاصل کیا ہے۔انسانی ذہن وفکرکی بالیدگی اور پختگی مختلف تعلیم گاہوں اورتجربات کی مرہون منت ہواکرتی ہیں۔عارف کسانہ کی فکری بالیدگی اورپختگی میں بھی متعدد تعلیم گاہوں کی اثرپذیری شامل رہی ہے۔گھریلوآب وہوا اور بزرگوں کی صحبت نے بھی ایک بہتر اورحساس انسان بننے میں نمایاں کردار اداکیا ہے۔عارف کسانہ غیر معمولی ذہانت وفطانت طبیعت کے مالک ہیں۔بچپن ہی سے کتابوں اورعلمی وادبی ماحول سے یارانہ نے ان کی شخصیت سازی میں اہم کردار اداکیا ہے۔دوستوں کی خوش گپیاں اوررشتہ داروں کی نیک خواہشات نے بھی ایک بہترانسان بننے میں تعاون پیش کیاہے۔زمانہ طالب عملی سے ہی تعلیم گاہوں میں منعقدہونے والے سرگرمیوں اورمباحثوں میں دل جمعی آپ کو دیگر طلبا سے ممتاز کرتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ ا سکول، کالج اور یونیورسٹی کے اکثر تقریر ی مقابلوں میں پہلا انعام آپ ہی کے نام منسوب ہواکرتا تھا۔ان تمام انعامات واعزازات کا صلہ نامہ متعددسرٹیفکٹ، میڈل ہیں جو آپ کی اعلیٰ ذہانت اور محنت وارانہ زندگی کا عملی ثبوت ہے۔عارف محمودکسانہ کی زندگی کے کئی زاویے ہیں۔ان میں ایک اہم رخ پیشہ وارانہ زندگی ہے۔موصوف نے کئی اہم عہدوں پر اپنی خدمات انجام دی ہیں۔لاہور،پاکستان میں چھ سال تک ریٹرینری آفیسر ہیلتھ کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں۔کم وبیش ایک سال تک سعودی عرب میں بھی اسی نوعیت کی ملازمت کرچکے ہیں۔کارولن سکا انسٹی ٹیوٹ سٹاک ہوم میں میڈیکل ریسرچ کے شعبہ جینیٹک انجنئرنگ میں پچھلے ۱۰۰۲سے وابستہ ہیں۔واضح ہوکہ کارولن سکا انسٹی ٹیوٹ بشمول سویڈن پوری دنیا میں اپنی انفرادی شناخترکھتاہے۔کارولن سکاانسٹی ٹیوٹ ایک مشہور ومعروف میڈیکل یونیورسٹی ہے جو ہرسال فزیالوجی اورمیڈیسن کے نوبل انعام کا فیصلہ کرتی ہے۔عارف کسانہ کی شناخت بطورصحافی ہے۔عارف کسانہ پوری دنیا میں بحیثیت صحافی جانے اورپہچانے جاتے ہیں۔ قیام پاکستان کے دوران عارف کسانہ رزعی یونیورسٹی فیصل آباد میں اپنے ٹیوٹوریل گروپ کا جنرل سیکریٹری منتخب کیے گیے تھے۔ اسی دوران انہوں نے مختلف اخبارات و رسائل میں لکھنے کا بیڑہ اٹھایا۔اخبارات میں مضامین اورکالمز لکھنے کا سلسلہ یوں تو پاکستان میں رہتے ہوئے بھی جاری وساری تھا لیکن سویڈن میں آکر باقاعدگی سے یہ سلسلہ دراز ہوگیا اورابھی بھی لکھنے کا عمل جاری ہے۔عارف کسانہ سویڈن میں قیام کے دوران ‘جنگ’ لندن سے منسلک ہوگیے۔ ان کا مقبول زمانہ کالمز’شمالی یورپ کی خبریں‘اور’سویڈن کی ڈائری‘نے قارئین میں بہت مقبولیت حاصل کی۔ روزنامہ ’جنگ‘کے علاوہ روزنامہ’ اذکار‘اسلام آباد، روزنامہ’کشمیر ایکسپریس‘مظفر آباد، روزنامہ’اڑان‘جموں اور دیگر کئی اخبارات کے ادراتی صفحہ پر ہفت وار کالم’ افکار تازہ‘کے نام سے شائع ہورہا ہے۔موجودہ وقت میں عارف کسانہ روزنامہ’اوصاف‘ لندن کے سویڈن میں بیور چیف کی حیثیت سے کام کررہے ہیں۔ ہفتہ کے روز’ اوصاف‘ لندن کے صفحہ دو پر موصوف کا کالم’ افکار تازہ‘باقاعدگی سے شائع ہورہاہے۔عارف کسانہ عصرحاضر کے مشہورومعروف آن لائن اخبارات ورسائل میں مسلسل شائع ہورہے ہیں۔ آن لائن اخبارات ورسائل میں خبریں، کالم، سویڈن کی ڈائری ، بچوں کے لیے اسلامی معلوماتی کہانیاں اور دوسری تحریریں باقاعدگی کے ساتھ شائع ہورہی ہیں۔ عارف کسانہ نے دو سال تک’جیو نیوز ‘کے لیے بھی کام کیا تھاجس کی پوری تفصیل ویڈیو رپورٹس(عارف کسانہ کا اپنا ویب سائٹ) کے سیکشن میں دیکھی جاسکتی ہے۔ساتھ ہی مختلف اخباررات و جرائد اور ریڈیو کے ذریعے قارئین اور سامعین سے ادبی،فکری اورعلمی تعلقات قائم ہیں۔روزنامہ’ ایکسپریس نیوز‘اورروزنامہ’ ڈان نیوز‘جیسے مشہورومعروف اخبارات میں بلاگ لکھنے کا سلسلہ جاری ہے۔ سویڈن کی وزارت خارجہ کے تعاون سے عارف کسانہ سویڈن میں صحافیوں کی تنظیم’فارن پریس ایسوسی ایشن‘کے اہم رکن ہیں۔ عارف کسانہ کی صحافتی سرگرمیاں شہرت وناموری کی محتاج نہیں ہے بلکہ تمام سرگرمیاں ایک مشن ہے۔قوم وملت کے ساتھ پوری دنیا کے لیے رضاکارانہ کام ہے۔اپنی قلمی کاوش کے عوض آج تک موصوف نے کسی سے کسی قسم کا کوئی بھی مالی معاوضہ نہیں لیا ہے۔ یہ تمام ترسرگرمیاں خدمت خلق کے لیے وقف ہے۔ ملی اورقومی حمیت کا غلبہ اس قدرحاوی ہے کہ اس قلمی جہاں میں جنون کے حد تک قومی خدمات انجام دیے جارہے ہیں۔جو یقینافکر اقبال کی روشنی میں افکار تازہ سے فیضیاب ہوکر جہان اورکائنات کے لیے ذہنی تازگی کا سامان مہیا کررہے ہیں۔اس تازگی اورقومی سرمایے میں عارف کسانہ کی بیش قیمتی خدمات آب زرسے لکھنے کے قابل ہیں۔عارف کسانہ نے صحافتی مصروفیات کے ساتھ ایک اور اہم ماہانہ پروگرام’درس قرآن‘کا سلسلہ جو۱۱ نومبر۲۰۰۷کوشروع کیاتھا۔یہ سلسلہ ہر ماہ باقاعدگی سے جاری ہے۔ جون ۲۰۱۵ تک ۵۸ درس کی نشستیں منعقد کی جاچکی ہیں۔مزید یہ سلسلہ جاری ہے۔ سٹاک ہوم سٹڈی سرکل (www.ssc.n.nu )کے منتظم کی حیثیت سے ہر ماہ عارف کسانہ کی رہائش گاہ پر قرآن پاک کادرس دیا جاتاہے۔ جس میں قرآن حکیم کی تعلیمات پر غور وفکر کی جاتی ہے۔قرآن کریم میں زندگی کے عملی مسائل کا حل تلاش کرنے کی ایک دل چسپ اور قابل ستائش کوشش ہے۔سویڈن میں موجود برصغیر سے تعلق رکھنے والے اہل علم و دانش جن میں ڈاکٹر، انجنئیر، ماہرین تعلیم، سیاستدان، تاجر، طالب علم اور زندگی کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے احباب درس قرآن میں شرکت کررہے ہیں۔درس قرآن کے ذریعے قرآن پاک کوجدید تقاضے اورجدیدمضامین کے لحاظ سے سمجھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔جدیدموضوعات سے ہم آہنگ نظریات وخیالات قرآن حکیم کی روشنی میں تلاش کرنے کی کوشش جاری ہے۔قرآنی آیات، احادیث نبویہ ، فکر اقبال ، علوم جدیدہ اور دیگر متعلقہ معلومات کو شامل کیا جاتاہے۔درس قرآن کے لیے ایک Power Point Presentation تیار کیاجاتا ہے جوپروگرام کے بعد بذریعہ ای میل ان تمام احباب کو ارسال کردیا جاتا ہے جو کسی وجہ سے پروگرام کا حصہ نہیں بن سکے۔میں نے پہلے ہی ذکرکیا تھا کہ عارف کسانہ کی زندگی جس طرح مختلف النوع ہے اسی طرح انہوں نے اپنی زندگی کوکئی سمتوں میں تقسیم کررکھا ہے۔ذکرکردہ تمام نکات کا تعلق پیشہ روانہ اور صحافتی زندگی سے تھا۔موصوف ان سب کے علاوہ ایک اچھے ادیب،مصنف اور مبلغ بھی ہیں۔اخبارات ورسائل میں شائع شدہ کالمزکا مجموعہ بنام ’افکارتازہ‘ ۶۱۰۲ میں شائع ہوا تھا۔عارف کسانہ اور افکار تازہ سے متعلق محمد شریف بقا لکھتے ہیں۔’ عارف محمودکسانہ ایک بے حد ذہین ،محنتی ،روشن دماغ اورپرخلوص انسان ہیں۔ان کی رائے میں قرآن مجید اورفرقان حمید ایک ایسی لاجواب کتاب ہدایت ہے جو لازوال حقائق ومعارف کا انمول خزینہ بھی ہے اورانسانی زندگی کے جملہ مسائل کا تسلی بخش حل بھی ہے۔اگرانسان صدق دل سے اس کامطالعہ کرے تو اسے پتا چلے گاکہ یہ کتاب زندہ ہے،ہمارے عصری مسائل کی عقدہ کشائی بھی کرسکتی ہے،بقول اقبال:
آں کتاب زندہ قرآن حکیم
حکمت اولازوال است وقدیم
حرف اولاریب نے،تبدیل نے
آیہ اش شرمندہ تاویل نے‘‘(۱)
مزید لکھتے ہیں:
”یہ امر باعث افسوس ہے کہ ہمارے اکثر اہل علم وادب نے ہماری نئی نسل خصوصا یورپ اورامریکہ وغیرہ میں مقیم بچوں اوربچیوں کے بارے میں بہت کم کتب تصنیف یا مرتب کی ہیں۔اگرہم چاہتے ہیں کہ ہماری نڑادنوہماری ملی روایات اورتاریخ وعلم سے گہرا تعلق قائم رکھے تو پھر ہمیں اپنے نوجوان اورنئی نسل کو اپنے علمی وادبی ذخائر سے واقف رکھنا ہوگا۔یہ بات وجہ مسرت وانبساط ہے کہ محترم عارف کسانہ نے علمی انکشافات کی روشنی میں اسلامی تاریخ سے متعلق کہانیاں اورقرآنی تعلیمات پر مبنی مگر دلچسپ اندازمیں مضامین لکھے ہیں۔ان کی یہ کاوش یقیناًقابل ستائش اورلائق تقلید ہے۔”(۲)
محمدشریف بقاماہراقبالیات میں اپنی منفردشناخت رکھتے ہیں۔مطالعہ اقبال پر ان کی گہری نظر ہے۔عارف کسانہ کے لیے چند توصیفی جملے یقیناًسند کی حیثیت رکھتے ہیں۔عارف کسانہ کی خدمات دیکھ کر ہرذی شعورافرادداددیے بنا نہیں رہ سکتا۔دنیا میں قرآن پاک ہی وہ واحد کتاب ہے جوپوری انسانیت کے لیے مشعل راہ ہے۔قرآن کی افہام و تفہیم اکیسویں صدی میں امت مسلمہ کے ساتھ پوری نسل انسانی کے لیے ضروری ہے۔عارف کسانہ کا درس قرآن کی ماہانہ نشست کااہتمام بذات خود ایک محترم اورنیک کام ہے۔افکارتازہ‘کی وجہ تصنیف سے متعلق عارف کسانہ نے خودلکھاہے جب میں نے اخبارات وجرائد میں لکھنا شروع کیا تو اس وقت یہ ذہن میں نہیں تھا کہ ان تحریروں کو کسی وقت کتاب کی صورت میں شائع کیا جائے گا۔لیکن بہت سارے احباب اورقارئین نے اصرارکیا کہ چونکہ میری اکثرتحریریں مستقل نوعیت کی ہیں اس لیے انہیں ایک کتاب کی شکل میں شائع ہونا چاہیے۔اسی نوعیت کا مشورہ کا مشورہ محترم غلام صابر چیئرمین اقبال اکیڈمی اسکینڈے نیویاڈنمارک اورمحترم محمدشریف بقا صدرمجلس اقبال لندن نے بھی دیا۔یہ دونوں حضرات خود بہت بڑے محقق،اہل علم،بہت سے کتابوں کے مصنف اوریورپ میں فکراقبال کو متعارف کرانے میں ہر لمحہ مصروف عمل ہیں۔”(۳)کسی بھی اہم اورنیک کام کیلیے محرک کا ہونا ضروری ہے۔عارف کسانہ کے لیے جو بھی احباب اورذی شعورافرادمحرک بنے ہوں انہوں نے سیکڑوں قارئین پر بڑااحسان کیا کہ جو ان کی قیمتی تحریرسے استفادہ کررہے ہیں۔عارف کسانہ کی شخصیت چوں کہ علمی اور عملی دونوں کا حسین سنگم ہے۔اس لیے انہیں قلم کی حرمت کا بخوبی اندازہ ہے۔موصوف خود لکھتے ہیں:’کسی بھی لکھنے والے کو حرمت قلم کا امین ہوناچاہیے تاکہ وہ پوری دیانت داری سے اپنی بات قارئین تک پہنچاسکے۔الحمداللہ یہ اہمیت ہمیشہ میرے پیش نظررہی اوربفضل تعالیٰ اس ذمہ داری کوبطریق احسن نبھایا ہے۔اپنے قلم کو نہ توغلو اورخوشامدکی آلائشوں سے آلودہ کیا اورنہ ہی حق اورسچ بات لکھنے میں کوئی خوف اورترددہوا۔حکیم الامت کی پیروی میں ساز سخن کو بہانہ بناتے ہوئے اپنی سوچ اورافکار کو لفظوں میں پرویا اورسپردقلم کیا ہے۔یہ ایک لگن ہے،ایک جنون ہے،ایک جذبہ ہے اورایک جدوجہدہے خلوص کے ساتھ جاری ہے اوراس مشن کا کچھ حصہ اس کتاب کی صورت میں اب آپ کے ہاتھوں میں ہے۔”(۴)سچے انسا ن اور بے باک صحافی دراصل مافی الضمیرکی آواز ہی کو اہمیت دیتے ہیں۔مافی الضمیر کی آوازدراصل صحافت کی روح ہے۔صحافت کی نمایاں خصوصیت یہی ہوتی ہے کہ صحافتی تحریر تملق اورچاپلوسی سے کوسوں دورہو،ایمانداری اوردیانیت داری کا دامن کسی بھی صورت میں ہاتھ سے جانے نہیں دیا،یہی دراصل صحافت کی معراج ہے۔عارف کسانہ ان تمام باتوں کو عملی طورپر برتتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریریں ان سب معائب سے پاک ہیں۔لکھنا اورپڑھنا عارف کسانہ کا محبوب مشغلہ ہے چناں چہ اسی خواہش کی تکمیل نے غلواورخوشامدسے دوررکھاہے۔بیرون ممالک ہجرت ایک عالمی مسئلہ ہے۔تلاش معاش اوربہترزندگی کی خواہش ہجرت کی بنیادی وجہ ہے۔عارف کسانہ نے اپنی تحریروں میں ان نظریات کی بھی عکاسی کی ہے جوہجرت اورمابعدہجرت وطن سے متعلق کیا خیال رکھتے ہیں۔اس تعلق سے عارف کسانہ نے کچھ اس طرح خامہ فرسائی کی ہے:’یہ حقیقت ہے کہ جو لوگ بیرون ممالک میں مقیم ہیں وہ حب الوطنی کے جذبہ سے سرشار ہیں۔اورہرمعاملہ میں جس ملک کو وہ چھوڑکر آئے ہوتے ہیں ،اس کا وطن ثانی کے ساتھ موازانہ کرتے ہیں۔ہرایک کی خواہش ہوتی ہے کہ جس ملک سے ہجرت کی تھی وہ بھی خوشحالی ،امن اورترقی کی راہ پر گامزن ہو۔میرے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے اوراس کا عکس قارئین کومیری تحریروں میں واضح طورپر نظرآئے گا۔”(۵)عام طورپر لوگ گھر کی سجاوٹ کے لیے پڑوسی اورقرب وجوارکے گھروں کی سجاوٹ کا معائنہ کرتے ہیں تاکہ اسی نہج پر اپنے گھر کی سجاوٹ کرسکے،ٹھیک اسی طرح عموما قرب وجوار کی اونچی عمارتوں پر بنے گلکاریوں میں دل چسپی نقالی کی ہوس کی طرف اشارہ ہوتے ہیں۔اس مثال سے ترقی یافتہ اورغیرترقی یافتہ ممالک مرادلے سکتے ہیں کیوں کہ غیرترقی یافتہ ممالک کے باشندے ہمیشہ ملکی بدحالی اورپس ماندگی کا ذکرتے ہوئے ،خوش حال اورترقی یافتہ ممالک کا نام لینے میں فخر محسوس کرتے ہیں ،وہ اس لیے ایسا کرتے ہیں کہ ان کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ ہماراملک بھی ترقی کے تمام منازل اسی طرح طے کرے جس طرح ترقی یافتہ ممالک ہیں۔مذکورہ اقتباس میں عارف کسانہ انہیں نظریات کو پیش کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔افکارتازہ میں کل ۶۲ متعدد عناوین پر مشتمل کالمز ہیں۔تمام موضوعات مختلف النوع ہیں۔اس مختلف النوع مضامین میں عارف کسانہ کبھی اقلیتوں کے تحفظ کے لیے فکر مند دکھائی دیتے ہیں کہ آخر انہیں انصاف کیسے حاصل ہو،حالاں کہ اسلامی نقطہ نظر سے اقلیتوں کا تحفظ دینی اوراخلاقی ذامہ داری ہے۔ عارف کسانہ کبھی عورتوں کے مسائل پر کھل کر عوامی سوچ وفکر کو جھنجھوڑنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ساتھ زندگی بسرکرنے کا عہدلینے والے لوگ حاکم ومحکوم میں منقسم ہوجاتے ہیں۔عارف کسانہ عورتوں کے حقوق اورمساوات کے لیے بنیادی سوالات قائم کرتے ہیں اور ان بنیادی سوالات پر عقلی اورنقلی دلائل دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ تمام بنی نوع انسان محترم اورقابل عزت ہیں۔ظاہر ہے بنی نوع انسان میں مرداورعورت سب شامل ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ مردعورت کے لیے غلام اورمحکوم ہوئیں؟موصوف لکھتے ہیں:میاں بیوی کے حقوق وفرائض کی تعلیمات دیتے ہوئے قرآن حکیم نے اس رشتہ کو حاکم اورمحکوم کا رشتہ نہیں کہا بلکہ اسے سکون،رحمت اورمحبت کا تعلق قراردیا ہے(۳۰/۲۰)۔مردوں پر معاشی ذمہ داری ڈالتے ہوئے انہیں ذمہ داری سونپی ہے جس کا معانی حاکم نہیں ہے جسے بعض سورہ نساء کی آیت۳۴الرجال قوامون علی النساء سے مطلب اخذ کرتے ہیں۔اسی آیت میں قرآن حکیم اس حقیقت کا بھی اعلان کرتا ہے کہ کچھ خوبیاں مردوں میں ہیں تو کچھ عورتوں میں اورپھر عورتوں کومردوں کا ہمدوش قراردیتے ہوئے ان تمام صلاحیتوں کی تفصیل الگ الگ کرکے بیان کردیتا ہے کہ خوبیاں مردوں میں ہیں وہی عورتوں میں بھی موجودہیں”۔(۶)زیربحث موضوع اس وجہ سے بھی بہت اہم ہے کہ اسلام نے حقیقی معنوں میں عورتوں کو وہ تمام حقوق عطا کیے ہیں جن کے لیے صدیوں صنف نازک نے انتظارکیا،کیوں کہ اسلام دین فطرت ہے۔آج مسلم سماج عورتوں کے بارے میں منفی نظریہ کوکیوں فروغ دے رہے ہیں۔عورت جس طرح ماں،بیٹی اوربہن کی شکل میں قابل عزت ہیں اسی طرح بیوی کی شکل میں بھی قابل عزت اورمحترم ہیں۔عارف کسانہ کبھی عورت کی ناقدری پر سوسائٹی کے سامنے قرآن کریم کا واضح فرمان پیش کرتے ہوئے اسلامی نظریے کی وضاحت کرتے ہیں تو کبھی عورت کا مقام ومرتبہ خالق باری کی فرمودات کی روشنی میں واضح کرتے ہیں۔عارف کسانہ کبھی ہندوپاک کے تلخ رشتوں پر قلم اٹھاتے ہیں تو کبھی سوشل میڈیا کا سماجی دائرہ کار اور سوشل میڈیا کے منفی اورغلط معلومات سے قوم وملت کو آگاہ کرتے ہوئے نظرآتے ہیں۔ہر شخص اس حقیقت سے واقف ہے کہ اکیسویں صدی میں سوشل میڈیاسے راہ فراراختیار ممکن نہیں البتہ سوشل میڈیا کے مثبت اورمنفی اثرات سے ہر شخص کو باخبرہونا ضروری ہے۔سوشل میڈیا کے اثرات سے بے خبری ایسے ہی ہے جیسے کہ آگ کی بھٹی سے ہاتھ سیکنا۔عارف کسانہ نے کبھی کبھی ملکی سلامتی اورفلاح وبہبود کے تناظر میں جمہوریت کاقیام اوردائرہ کار پر کھل پر تبصرہ کیا ہے۔”بدترین جمہوریت آمریت سے ہزارگنا بہتر ہے”کا مقولہ ممکن ہے بہت سارے ممالک کے لیے مناسب ہو لیکن موصوف نے اپنے وطن عزیزمیں قائم جمہوریت کی بخیہ کنی کی ہے کہ کس قدرچند خاندان مل کر کھلے عام جمہوریت کا خون کررہے ہیں۔جمہوریت کا مطلب ہے عام لوگوں کی حکومت۔لیکن برصغیر کی سیاست اس بیمارشخص کی طرح ہے جو خود بیساکھی کا محتاج ہے لیکن درست اورسالم شخص کے پیر کاٹنے کی فکر میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں۔پوری دنیا جمہوریت کی کامیابی کی قصیدہ خوانی میں مشغول ہے حالاں کہ برصغیر میں حکمران جماعت اسی جمہوریت کا جنازہ نکالنے کے لیے ہروہ کام کرنے کے لیے تیار ہے جس میں ان کا ذرہ بھرمنافع روپوش ہو۔جمہوریت کا مطلب ظاہر ہے عوامی حکومت ہے۔جمہوریت کے اصل روح رواں عوام ہی ہوتے ہیں۔چناں چہ جمہوریت کے قیام پر سوال کھڑاکرنا گویااصلاح کی دعوت دینا ہے،جمہوری نظا م کا استحصال پر عارف کسانہ کا دل دردسے تڑپ اٹھتا ہے۔ موصوف جمہوریت کی کارکردگی پرروشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:انتخابات کے موقع پر تمام جماعتوں کے سربراہوں کے درمیان ٹیلی ویڑن پر براہ راست مباحثہ ہوتاہے۔جہاں گھنٹوں انہیں کھڑارہ کر تندوتیزسوالوں کا جواب دینا پڑتا ہے جسے عوام براہ راست دیکھ رہے ہوتے ہیں۔تمام سیاسی جماعتوں کے ایک ہی جگہ پر قائم سیاسی کیمپ دوستانہ ماحول میں اپنی اپنی جماعتوں کے حق میں مہم چلارہے ہوتے ہیں۔یہ ہے جمہوریت جہاں سسٹم اورجماعت کی اہمیت ہوتی ہے نہ کہ فرد کی۔یہ ہے جمہوریت کی اصل روح اورجمہوریت کے مداحوں کو اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔جمہوریت کو اس کی اصل صورت میں نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔بصورت دیگر جوہورہاہے وہی ہوتا رہے گا۔عوام کو بھی یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اسی چکی میں پستے رہیں یا پھراپنی نجات کے لیے جدوجہدکریں گے”۔(۷)
مذکورہ اقتباس میں غصہ ہے۔قوم کا دردہے۔ملک کی فکر ہے۔مفادپرست ،ضمیر فروش گروہ کے خلاف عوامی بیداری کی ایک کامیاب مہم ہے۔جس کی جانب عوام کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔عارف کسانہ کبھی سرکاری خزانے سے بیرون ممالک کے سرکاری دورے پرقوم سے خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وطن عزیز جوکہ پوری دنیا میں ٹیکسٹائل کی مصنوعات کے لیے نمایاں ہے۔آخرکیا وجہ ہے کہ چینی صدرکے دوریکے وقت پارلیمنٹ اوروزیراعظم کے دفتر میں آویزاں قومی پرچم ترکی سے درآمد کیے گیے تھے؟اس ضمن میں عارف کسانہ نے اقبال کایہ شعر
تیرے صوفے ہیں افرنگی تیرے قالین ہیں ایرانی
لہومجھ کو رلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی
پیش کرتے ہوئے سرکاری دورے پرخرچ کا ایک عمومی جائزہ عوام کے سامنے پیش کیا ہے جس سے قومی خزانے دن بدن خالی ہورہے ہیں۔حالاں کہ اس دورے سے نہ ملک اورنہ عوام کو کسی طرح کا کوئی قومی فائدہ ہورہاہے۔آخریہ کب تک حکمراں جماعت قومی خزانے یوں ہی لٹاتے رہیں گے؟عارف کسانہ کبھی تاریخ اسلام اور اسو   ۂ حسنہ کی روشنی میں سیاست میں شفافیت کے لیے پرزورآواز بلند کرتے ہیں۔’ہرشخص وہاں لٹیرا ہے‘کے عنوان سے ایک کالم میں ایک مغربی مفکر کا قول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’ایک مغربی مفکر کا قول ہے کہ جوکچھ ہم سیاست میں اپنی جماعت ،سیاسی سرگرمیوں اورحصول اقتدارکے لیے کرتے ہیں اگروہی کچھ اپنی ذات کے لیے کریں توسب سے بڑے شیطان کہلائیں۔اگرواقعی اس تجزیے پر غور کریں توواقعی یہ بات سچ ثابت ہوتی ہے۔اپنے اہل سیاست پر نگاہ دوڑا لیکن کہ کیا دورحاضرہ میں کوئی ایک بھی سیاست دان جھوٹ،ریاکاری،منافقت، ہوس اقتدار،الزام تراشیوں اوردوسری برائیوں سے مبرا ہے۔بدقسمتی سے اس فہرست میں وہ سب شامل ہیں جو نظریاتی سیاست کے دعویٰ دارہیں اوروہ بھی جومذہب کے نام پر کارزارسیاست میں سرگرم عمل ہیں‘‘۔(۸)عارف کسانہ کبھی تاریخ کائنات کی عقدہ کشائی،بگ بینگ اورقرآن جیسے اہم صفحات میں اسلامی نظریہ پیش کرتے ہیں تو کبھی تخلیق کائنات،بگ بینگ اورقرآن کی شکل میں سائنسی نظریات،وجودکائنات ،خالق باری کی وحدانیت اوراختیارات خداوندی قرآنی آیات سے واضح کرتے ہیں۔’ معمار حرم کا پیام انقلاب’ایک استعاراتی مضمون ہے۔ عارف کسانہ نیحبیب اورخلیل کاذکرتے ہوئے لکھا ہے کہ دین ودنیا میں بلندی وسرخروئی کے لیے ایثاراورقربانی ایک لازم شئی ہے۔حضرت ابراہیم نے اپنی سب سے پسندیدہ شئی کی قربانی پیش کی تھی ،وہ قربانی پوری دنیا کے لیے ایک انقلابی پیغام تھا۔قوم مسلم اپنے اسلاف اورقرآنی تعلیمات کی روشنی میں خود کو اللہ کی رضااورخوشنودی کے لیے کام کریں ورنہ زبانی جمع خرچ ایک عام وباہے جس کا نتیجہ یقیناًہلاکت اورگمراہی ہے۔علامہ اقبال نے حرم پاک سے ایک آفاقی نظریہ پیش کیا ہے جو قوم مسلم کے لیے اہم پیغام ہے۔
ہے طواف وحج کا ہنگامہ اگر باقی توکیا
کند ہوکررہ گئی مومن کی تیغ بے نیام
آج روح ابراہیم درس حریت دے رہی ہے:
معمارحرم! بازبہ تعمیر جہاں خیز
ازخواب گراں ،خواب گراں،خواب گراں خیز!
صنم کدہ ہے جہاں اورمردحق ہے خلیل

‘‘انسان کے کردارکی دومنزلیں ہیں۔یاتودل میں اترجانایا دل سے اترجانا،ڈاکٹر عارف صاحب دل میں اترنے کے ماہر بھی ہیں اورعادی بھی’’۔(۱۰)
حواشی:
۱۔ افکارتازہ ص۔۹۔۱۰
۲۔ افکارتازہ۔ ص ۔۱۰
۳۔ افکارتازہ ۔ص ۔۱۹
۴۔ افکارتازہ ۔ص۔۲۰
۵۔ افکارتازہ۔ ص۔ ۲۱
۶۔ افکارتازہ ۔ص۔ ۲۷
۷۔ افکارتازہ۔ ص۔ ۴۶
۸۔ افکارتازہ ۔ص۔ ۵۱
۹۔ افکارتازہ۔ ص۔ ۷۴
۱۰۔ افکار تازہ۔ص۔

 

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے