-،-وفاق کی زنجیر،بینظیربینظیر-اے آراشرف-،-

وہ لوگ کس قدرقسمت کے دھنی اورعظیم ہوتے ہیں جن کے مقدرمیں اللہ تعالیٰ شہادت لکھ دیتا ہے اس سلسلے میں کتاب خدا میں ارشادرب العزت ہے کہ شہید کو مُردہ مت کہو وہ زندہ ہیں اور اپنے رب کے ہاں سے رزق پا رہے ہیں اور سب سے بڑی یہ بات ہے کہ وہ بچھڑ جانے کے بعد بھی لوگوں کے دلوں پر قبضہ جمائے رکھتے ہیں اور یہ بھی کسی نے سچ کہا ہے کہ۔شہید کی جو موت ہے قوم کی حیات ہے۔ اورپاکستانی قوم کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ وطن کی بقا کیلئے جان نچھاور کرنے والے شہیدوں کو کبھی فراموش نہیں کرتی یہ قدرت کااصول ہے کہ جس چیز کو جتنی شدت سے دبایا جائے وہ اتنی ہی شدت سے اُبھرتی ہے اس کی واضیح مثال اسوقت کے آمر جنرل ضیاالحق کی دی جا سکتی ہے جس نے اپنا پورا دور اقتدار اس کوشش میں گذار دیا تھاکہ پاکستان پیپلز پارٹی کو ختم کر دے اور وہ کونسا حربہ اور ظُلم تھا جو اُس نے پی پی پی کی قیادت پر نہیں آزمایا تھا صحافیوں کو کوڑے مارے گئے جیالوں کو جیل یاترا کرائی گئی طلبا اور اُنکے والدین کو تھانوں میں بلوا کر رسوا کیا گیا لیکن نہ تو وہ بھٹو خاندان سے اُنکی محبت کو کم کر سکا اور نہ ہی اُنہیں جھکا سکا اورنہ ہی اُنکی مقبولیت میں کمی لا سکا اور اپنے مقصد کی تکمیل کی خواہش کو دل ہی میں لیکر عبرتناک موت کا سبب بنا مگرمرتے مرتے اپنے انتقام کی وراثت سابق وزیراعظم جناب نواز شریف کو سونپ گئے جسے اُنہوں نے پوری ایمانداری سے نبھایا بلکہ اس مقصد کے حصول کیلئے جناب سیف الرحمان کو حصوصی ٹاسک دیا گیا اُس نے۔شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری کا فریضہ ادا کیا اور اسنے اپنے وجود سے بھی بھاری جھوٹے مقدمات بنا کر شاہ سے شاباشی کاتغمہ حاصل کیاجناب آصف علی زرداری گیارہ سال تک جیل کی سزا کاٹنے کہ باوجود بھی شاید ابھی تک اُنہیں ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہے ہیں ۔شہیدبی بی اس لحاظ سے انتہائی مظلوم مگر بہادر خاتون تھیں کہ اُس نے ایک ایسے سفاک حکمران کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جو بھٹو خاندان تو درکنار اُسکی جماعت کا وجود بھی برداشت نہیں کرتا تھا۔ مرحومہ کی داستان غم اتنی دردناک اور طویل ہے کہ مضبوط دل کا انسان بھی اپنے آ نسو نہیں روک سکتا۔سب سے پہلے تو اُنہیں اپنے اُس عظیم اور شفیق باپ کی دردناک موت کا صدمہ اُٹھانا پڑا جسے ناکردہ گناہوں کی سزا میں پھانسی دے دی گئی اُسکا قصور یہ تھا کہ اُس نے ۱۹۷۱ میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد اعلان کیاتھا کہ ہم گھاس کھا کر گذارہ کر لیں گے مگر پاکستان کو ایٹمی قوت ضرور بنائینگے یہی اُنکا سب سے بڑا قصور تھا کہ عالمی طاغوتی قوتیں اُنکی جان کی دشمن بن گیں اور نام نہاد مرد حق اُنکے ہاتھوں کا کھلونا بن گیا پھر یک بعد دیگر اپنے دونوں بھائیوں کی موت کا صدمہ اُٹھانا پڑا جہنیں سفاکانہ طریقے سے قتل کردیا گیا تھایہ جو آج ہم اپنے ازلی دشمن بھارت کی تمام تر سازشوں کا مُنہ توڑ جواب دینے اور اپنا دفاع کرنے کی بھرپور اہلیت رکھتے ہیں اور پاکستان دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت بن چکا ہے یہ شہید بھٹو کی قربانی کا ہی ثمر ہے کہ پاکستان اب نہ قابل تسخیرقوت بن چکا ہے اور شہید بی بی نے اپنے دور اقتدار میں میزائل ٹیکنالوجی کا انمول تحفہ دیا۔ جب ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت ہوئی اُسوقت مخترمہ کی عمر۲۴ سال کے لگ بھگ ہو گی بھٹو شہید نے جب وہ کال کوٹھڑی میں مقید تھے بی بی کو اپناجانشین مقرر کر دیاتھا آج اُس بہادر خاتون شہید بی بی مخترمہ بینظیر بھٹو کی برسی دنیا بھر میں شان و شوکت سے منائی جا رہی ہے جو جہاں کہیں بھی جاتی تھیں تو عوام اُس کا استقبال ۔۔وفاق کی زنجیر،بینظیربینظیر۔۔جیسے نعروں سے کیا کرتے تھے اور اُنہیں مضبوط وفاق کی علامت تصور کیا جاتاتھا کیوں کے وہ اور اُنکی جماعت ہمیشہ سے ہی مضبوط وفاق کی حامی رہی ہے اور اس بات کا ثبوت جناب آصف زرداری کا ۔پاکستان کھپے کا نعرہ تھا جو اُنہوں نے بی بی کی شہادت کے موقع پر لگا کر دشمنان پاکستان کے ارادوں کو خاک میں ملا دیا تھا ۔ہمیشہ کی طرح اس سال بھی پاکستان پیپلز پارٹی جرمنی نے بی بی شہید کی برسی منانے کیلئے پُروقار تقریب کا اہتمام کیا جس میں جیالوں کی کثیر تعداد نے شریک ہو کر پورے جوش و جذبے سے شہید بی بی کو حراج تحسین پیش کیا اس موقع پرپاکستان پیپلز پارٹی جرمنی کے صدر سید زاہد عباس نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹوکی شہادت۴اپریل۱۹۷۹ کو ہوئی جو تقریباََ چایس سال کا عرصہ بنتا ہے اسی طرح بی بی کی شہادت کو بھی گیارہ سال کا عرصہ گذر چکا ہے مگر آج بھی اُنکی یاد لوگوں کے دلوں میں تازہ ہے اس موقع پر پی پی پی صوبہ ہیسن جرمنی کے جنرل سیکرٹری سید شبیہ الحسن اور مرکزی راہنما راسد نسیم مرزا اورسید پرویز زیدی نے بھی تقریب سے خطاب کیا

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے