-،-ثانی قائد اعظم رح کے نام-۔ فیض چشتی جرمنی-،-

یوں تو ہر چھوٹے بڑے یعنی ہر جھوٹے سچے مسیحا (لیڈر) کا علاج ملک عزیز میں ہی کسی نہ کسی سرکاری ھسپتال میں ھونا چاھیے۔ مگر یہ ایک غریب / کمزور رائے ھے۔ بقول شخصے یہی کمزور رائے اگر طاقتور ھو جائے یعنی قانون کی صورت اختیار کر جائے اور ملک میں نافذ العمل ٹھہرے تو بہت سوں کو بغیر ہسپتال جائے شفا مل سکتی ھے۔ مگر مشکل یہ ھے کہ جہاں سے (پارلیمنٹ) یہ آراء قانون کی صورت اختیار کرتی ھیں وہاں صحت مند دل و دماغ کی بجائے ایسے مریض بیٹھے ھیں جن کو کلاسیکل قسم کے مرض اور بیماریاں لاحق ھیں۔ ان میں سے اکثر ایسے ہیں جن کی بیماری کا علاج تو ملک عزیز میں سو فیصد ممکن ھے مگر مرض سے مکمل شفا یابی کا انحصار صرف امریکا اور یورپ کی آب و ھوا کا مرھون منت ھے۔ لہذا پارلیمنٹ سے تو ایساقانون پاس ھوتا دکھائی نہیں دیتا۔ سوائے اس کے کہ کوئی سر پھرا (قلندر) اٹھے اور معاشرے میں اعلی درجے کی اخلاقی اقدار کو پروان چڑھانے کے لئے “چڑھ جا سولی رام بھلی کرے گا” کے مترادف اپنی زندگی کو قربان کرنے کے لئے اس میدان کار زار میں اترے۔ صاف ظاہر ھے ایسے عظیم کام کے لئے قربانی بھی عظیم ھی درکار ھو گی اور اس عظیم مشن کے لئے یقینا کسی بڑے آدمی کا انتخاب کرنا پڑے گا جسے اس بات کا بھی کامل ادراک ھو کہ اس کی طرف سے دی گئی یہ قربانی پہلی اور آخری بار کی قربانی ھو گی۔ اگرچہ ہر محب وطن اپنے تئیں اس بڑے آدمی کی تلاش میں مارا مارا پھر رھا تھا۔ یار لوگ بھی کار خیر سمجھ کر اس ھستی کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے مگر یہ ” تلاش ” ھمارے لئے “لوگ آساں سمجھتے ھیں مسلماں ھونا ” ۔کی سی آساں ،ثابت ھوئی ۔ مگر یہ تو اللہ بھلا کرے ھمارے مہربان دوست اور یورپ کے معروف صحافی جناب محمود اصغر چودھری کے “بابا جی ” کا جو آن کی آن میں محض “زبانی کلامی” ھماری “مشکل کشائی” فرما کر ثواب دارین لے اڑے ۔ بابا جی نے نہایت تحمل سے ہماری “قومی قسم کی ببتا ” سنی اور سن کر فرمانے لگے ” دیکھو بچے! جس شخص کو قوم نے ” بڑھ چڑھ” کر پوجا (چاھا) ھو ، جو قوم کا محبوب قائد ٹھہرے ، جسے قوم اپنے ملک کا تین بار وزیر اعظم بنائے ۔جسے وہ “ثانی قائد اعظم رح” ماننے پر بھی بضد نظر آئے ، اور اس عظیم قائد کا بین المذاہب مطالعہ اور تحقیق کا یہ عالم ھو کہ مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان سوائے ایک باڈر کے کسی عقیدے ، نظریئے، خیال بلکہ کسی چیز کو بھی اپنی عوام کی خاطر، خاطر میں نہ لائے ۔ گویا اس سے بڑھ کر بھی کوئی ھے جسے اس “بادشاہ قوم” کے لئے قربانی دینا ھو گی؟ لیکن بابا جی وہ قربانی دے گا یا خود قربان ھو کر خود کشی کر لے گا ؟ میں نے عرض کیا ۔ فرمانے لگے ” بچے ! عظیم قربانی کا وقت آن پہنچا ھے اب یہ قربانی ھو گی اور وقت قربانی لئے بغیر ٹلنے والا نہیں۔قربانی پیش کرنے کا جو طریقہ بابا جی نے تجویز فرمایا وہ کچھ یوں تھا۔ فرمانے لگے۔
“محبوب قائد نعرہ مستانہ بلند کرتے ھوئے ” جان دی دی ھوئی اسی کی تھی ۔ حق تو یہ ھے کہ حق ادا نہ ھوا” کے تحت خود کو اپنے ذاتی ملک کے کسی ایسے جدید ہسپتال کے رحم و کرم پہ چھوڑ دے جس کا افتتاح آپ نے اپنے دست مبارک سے کیا ھو ۔ یوں عظیم قائد کی عظیم قربانی سے عوام و خواص یکساں طور پہ فیضیاب ھونگے۔ نہ صرف قوم کو حیات جاوداں ملے گی بلکہ اس سے ہسپتالوں کی حالت بھی سدھرے گئی ۔ گویا “ہر بھکا پھل کھاوے” علاوہ ازیں بہت سے سیاسی بیماریوں کا بھلا بھی اس قربانی میں پنہاں ھے۔ باقی جہاں تک نرم اور قدرے حساس طبیعت قائدین کا تعلق ھے ، ان کے لئے تو اس عظیم قربانی کے بعد محض “ھسپتال” کا نام ہی شفا کی ضمانت قرار پائے گا۔ یہ عظیم قربانی ان سیاسی قائدین کے لئے نہ صرف صحت مندی کا پیغام ھو گی جو اپنی قوم کی خدمت کے لئے اڑان بھرنے کو بیتاب پھرتے ہیں بلکہ انہیں یہ قربانی یقین کامل کی دولت سے بھی نوازے گی کہ بیٹا ! بیماری کی صورت میں یہیں جینا ھے۔۔۔۔اور یہیں مرنا ھو گا ” یعنی بیماری کی صورت میں ملک عزیز کے یہی ھسپتال تمہارے لئے شفا یعنی “جزا و سزا” کا معیار قرار پائیں گے۔ “میں نے بابا جی سے اس عظیم قائد کا نام پوچھنے کی جسارت کی تو فرمانے لگے ” بیوقوفی کی حد تک سادہ ھو” ( “میر بھی کیا سادہ ھے کے تحت” اگرچہ سادہ ھونا کوئی عیب نہیں ) ۔ ناراض ھو گئے ۔ پھر نہایت راز داری سے فرمانے لگے جس عظیم لیڈر کا پوچھ رھے ھو وہ اگر روٹھ جائیں تو سفید داڑھی والے بزرگوں کی بزرگی کا بھی حیا نہیں کرتے۔ وہ اگر بگڑ جائیں تو عورتوں کے مونہہ پہ گولیاں مارنی پڑیں تو گریز نہیں کرتے ۔ دل ان کا ایسا پتھر کہ یتیم پچیوں کی آہوں سسکیوں میں رندھی ھوئی آوازیں بھی بے اثر ھو جائیں۔ پھر فرمانے لگے ” اگر دل پھٹ جانے کا اندیشہ نہ ھو تو ایک بار ماڈل ٹاؤن میں سرکاری سرپرستی میں کی گئی قتل و غارت کی فوٹیجز ضرور دیکھنا۔تمہیں فرش زمیں پہ خدائی کے دعویدار مست ہاتھیوں کی طرح چلتے پھرتے دکھائی دیں گے اور ان کی “جھوٹی خدائی” کا ہر قیمت پہ غارت ھونا بھی سمجھ آ نے میں دقت نہیں ھو گی۔ پھر بابا جی نے ایک سرد آہ بھری اور آسمان کی طرف دیکھا اور ان کی بوڑھی آنکھوں میں آنسوؤں تیرنے لگے۔ رندھی ھوئی آواز میں فرمایا ” بیٹا ! قربانی تو اب ھو کے رھے گی ” مگر کیا ھی اچھا ھو جو اس “عظیم قربانی” کا سہرا “ثانی قائد اعظم رح” کے سر پہ سجے۔ ” آمین ثم آمین

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے