-،- تیرے ذکر و فکر میں دن ڈھلا ۔فیض چشتی-،-


صاحبزادہ ارشاد اعظم چشتی رح آج عالم فنا سے عالم بقا کیطرف کی طرف کوچ فرما گئے ۔انا اللہ وانا الیہ راجعون۔ صاحبزادہ والا شان رح نے جس محبت ، لگن ، استقامت اور وفاداری کے ساتھ اپنے والد گرامی حضرت محمد اعظم چشتی رح کے عظیم مشن کہ ” ہر دل میں شمع عشق محمد جلائی جائے” کی آبیاری میں اپنا کردار ادا کیا وہ سنہری حروف سے لکھاجائے گا۔ بلا مبالغہ آپ رح کی زندگی فروغ نعت کے لئے وقف تھی۔ جس پہ انہیں بجا طور پر ھمیشہ فخر بھی رھا۔ تنگدستی میں بھی آسودہ دیتے تھے گویا” گزری ھے مفلسی میں بڑی آبرو کے ساتھ ۔ اللہ کا کرم عنایت حضور کی۔” مگر اس کرم عنایت اور فخر کو وہ بندہ کیا سمجھے جو اس فانی دنیا سے مطمئن ھو گیا ھو ، اسے کیا خبر کہ مدحت خیر الانام صلی اللہ علیہ وسلم میں عمر عزیز بسر کا ھو جانا اپنے اندر معنی پنہاں رکھتا ھے ۔ یہ تو مولا کریم کے چنیدہ لوگ ھوتے ہیں جن کے حصے میں یہ ابدی سعادت آتی ھے ۔وگرنہ ہر کس و ناکس کے حصہ میں کہاں توصیف محبوب کبریا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بقول شورش کاشمیری “نعت کہتے ھو تو یہ ان کا کرم ھے شورش۔ ورنہ ہر شخص پہ یہ فیض کہاں ھوتا ھے۔”جناب ارشاد چشتی رح کو اپنے والد گرامی رح کے علاوہ نعت گو اساتذہ فن کے سینکڑوں اردو ، فارسی پنجابی کے نعتیہ اشعار زبانی یاد تھے ، جو وہ بڑے ذوق و شوق کے ساتھ حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگہ ناز میں پیش کیا کرتے۔ وہ بہترین نعت خواں ھونے کے ساتھ ساتھ ایک بڑے انسان بھی تھے۔ وہ ھمیشہ نوجوان نعت خوانوں کی راہنمائی کے ساتھ ساتھ ان کی حوصلہ افزائی بھی فرمایا کرتے۔ وہ بلا امتیاز ہر کسی سے نہایت محبت ، شفقت اور ادب سے پیش آتے ۔
مجھے سینکڑوں مرتبہ ان کی صحبت میں بیٹھنے اور ان کے ساتھ سفر کرنے کا شرف ملا۔ میرا ایک معمول تھا میں جب بھی یورپ سے پاکستان جاتا (آئیندہ بھی رھے گا) تو اولیں ترجیح کے طور پہ میری آرزو ھوتی کہ میں سب سے پہلے حسان پاکستان محمد اعظم چشتی رح کی بارگاہ میں حاضری کا شرف حاصل کروں پھر آپ کے صاحبزادگان کے ساتھ شرف ملاقات حاصل ھو۔
غالبا یہ 2009 کی بات ھے اب کی بار جب میں پاکستان گیا تو صاحبزادہ والا شان رح ( ارشاد اعظم چشتی رح) کے پاس بھی حاضر ھوا۔ آپ سے مختلف موضوعات پہ باتیں ھوتی رھیں، اگرچہ گفتگو کا مرکز و محور ھمیشہ کی طرح حسان پاکستان محمد اعظم چشتی رح کی شخصیت اور ان کی نعت خوانی ھی تھی۔ مجھے فرماتے ھیں کہ آج کے دور میں اگر کوئی حضرت محمد اعظم چشتی رح کو زندہ و جاوید دیکھنے کا آرزو مند ھو تو اسے چاھئے کہ وہ صاحبزادہ سید منظور الکونین شاہ صاحب کے پاس بیٹھے ، یوں وہ خود کو حسان پاکستان محمد اعظم چشتی رح کے قرب میں پائے گا۔ بس پھر کیا تھا میرا جی چاہا کہ ابھی اڑ کر صاحبزادہ سید منظور الکونین شاہ صاحب کے پاس پہنچ جاؤں۔ اگرچہ میری اس سے پہلے صاحبزادہ سید منظور الکونین شاہ صاحب رح کے ساتھ باقاعدہ کوئی ملاقات نہ تھی۔ میں نے عرض کیا کہ “کیا یہ ممکن ھے آپ سے آج ھی ملاقات کا وقت مل جائے کیوں کہ آپ کے بقول “صاحبزادہ سید منظور الکونین شاہ صاحب ” سے ملنا “محمد اعظم چشتی رح سے ہی ملنا ھے” (محبوب سے ملاقات تو زندگی کا حاصل ھوتا ھے۔) فرماتے ھیں ابھی فون کر کے پوچھ لیتے ہیں اگر آپ گھر پہ ھوئے تو ضرور شفقت فرمائیں گے۔ فون ملایا ، گھنٹی بجی اور سید منظور الکونین شاہ صاحب رح کی مدھ بھری آواز ، جس میں بلا کی شفقت اور اپنائیت کا رنگ گھلا ھوا تھا۔ جناب ارشاد چشتی رح نے اپنا مدعا بیان کرتے ھوئے کہاں کہ ابا جی رح سے بیحد محبت کرنے والا ایک نوجوان فیض چشتی میرے پاس بیٹھا ھے جو محمد اعظم چشتی رح کے سوا کسی اور کو نہیں جانتا ۔کہتا ھے کسی اور کو چاھوں تو گنہگار ٹھروں ۔ میں نے اسے بتایا ھے کہ محمد اعظم چشتی صاحب واہ کینٹ میں رھتے ھیں ۔ حضور ! آپ کو اس حثیت سے ملنا چاھتا ھے۔ فرمانے لگے کب آنا چاہتا ھے؟ عرض کی کہ اجازت فرمائیں تو ابھی ۔رخت سفر باندھ لیں ۔ صاحبزادہ سید منظور الکونین شاہ صاحب رح فرمانے لگے بلکل ضرور آئیں میں گھر پہ ھوں اور میں آپ لوگوں کا منتظر رھوں گا۔ یہ عجیب روحانیت سے بھرپور سفر تھا۔ حسان پاکستان محمد اعظم چشتی رح کے پوتے زین العابدین پاس بیٹھے ھماری باتیں سن رھے تھے کہنے لگے ، کیا میں بھی ساتھ جا سکتا ھوں؟ ارشاد اعظم چشتی رح فرمانے لگے کیوں نہیں ۔۔۔۔۔بس جلدی سے تیار ھو جاو ۔ مجھے فرمانے لگے اس طرح کی ملاقات بچوں کی تربیت کے حوالے سے بڑی اہمیت کی حامل اور بابرکت ھوتی ھیں۔ یوں یہ مختصر سا قافلہ کسی محبوب کی محبت میں سرشار لاھور سے واہ کینٹ کی طرف عازم سفر ھو گیا۔
جب ہم صاحبزادہ سید منظور الکونین شاہ صاحب رح کی خدمت اقدس میں پہنچے تو آپ ایسی شفقت اور محبت سے پیش آئے کہ بیان سے قاصر ہے ۔ رات بھر آپ کے پاس بیٹھے آپ کے ملفوظات سنتے رھے ۔ میں نے صاحبزادہ والا شان رح سے قبلہ محمد اعظم چشتی رح کے حوالے سے کئی ایک محبت بھرے سوال کیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس کے بڑے تفصیل سے آپ نےجواب عطا کیے اور ایک موقع تو ایسا بھی آیا کہ آپ فرمانے لگے ” فیض چشتی ویسے یہ محمد اعظم چشتی رح بارےسوالات نہیں بلکہ یہ تو ان کے ساتھ زندگی بسر نہ ھونے کا ملال ھے۔ قدرت کا ایک اپنا نظام ھے اور وہ یوں کہ زندگی کے جس حصے میں تیرے لئے فیض کا دروازہ کھلنا تھا وہ اس سے پہلے ممکن نہ تھا ۔ ہم نے آپ رح کو بچپن میں سنا مگر یہ زمانہ آپ کے لئے نہیں تھا۔ مگر اس طرح سوچنا دلچسپ ضرور ھے اور محبت کی ایک ادا بھی۔ پھر فرمانے لگے جی تو ہمارا بھی چاھتا ھے کہ کاش وہ زمانہ پلٹ آئے ، جب ہم ان کو سامنے بیٹھ کر سنتے اور ان جیسا پڑھنے کی آرزو میں گھنٹوں ریاضت کرتے گزار دیتے ۔صاحبزادہ سید منظور الکونین شاہ صاحب رح نے اس ملاقات میں اپنی کئی ایک نعتوں کا حوالہ دیتے ھوئے فرمایا کہ اگر ریڈیو اور پی ٹی وی پہ آپ کو میری یہ نعتیں سننے کا موقع ملے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ھم نے ان کے روح میں اتر جانے والے اسلوب کو کس حد تک اپنایا اور نبھایا ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک عجیب جملہ ارشاد فرمایا ، فرمانے لگے “کوئی اعظم چشتی صاحب کے انگ میں ان کی توجہ اور محبت کے بغیر پڑھ ھی نہیں سکتا۔” بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ صاحبزادہ سید منظور الکونین شاہ صاحب رح ایک معتبر عالم دین اور شاعر بھی تھے۔ یہی وجہ تھی کہ جب آپ کسی موضوع پہ گفتگو کرتے یا اساتذہ کے کلام کی تشریح اور وضاحت مقصود ھوتی تو اس خوبصورتی اور ہنر مندی سے کرتے کہ کوئی نکتہ اور اشارہ ان کی آنکھ سے اوجھل نہیں رہ سکتا تھا ۔ یہ عجیب مختصر سی رات تھی جو بڑی تیزی سے بیت گئی مگر قیمتی ایسی کہ ہزار صدیوں پہ بھاری دکھائی دے کہ ایک عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم (سید منظور الکونین شاہ صاحب رح ) سے ایک عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم (محمد اعظم چشتی رح ) کا تذکرہ ایک عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم (ارشاد اعظم چشتی رح) کی موجودگی میں سننے کا شرف ملا۔ میرے لئے یہ بات انتہائی دلچسپ تھی کہ سید منظور الکونین شاہ صاحب رح جو اپنی ذات میں ایک یونیورسٹی کی حثیت رکھتے ہیں ۔ نعت کے ایسے خوبصورت اسلوب کے خالق ھیں جسے صدیوں تک پڑھا جائے گا مگر جب وہ محمد اعظم چشتی رح کی شخصیت پہ ، ان کی فن نعت خوانی اور نعت گوئی پہ کلام کرتے ھیں تو گویا خود کو بھول جاتے ہیں ۔ اس کی وضاحت صاحبزادہ ارشاد چشتی رح نے اس وقت فرمائی جب میں نے کہا کہ “ارشاد بھائی اگر شاہ صاحب رح کی رات بھر کی گفتگو کو دس حصوں میں تقسیم کریں تو گویا نو حصے تو آپ نے حسان پاکستان محمد اعظم چشتی رح کی شخصیت بارے گفتگو فرمائی ھے۔ مجھے تو یوں محسوس ھوتا ھے کہ قبلہ سید منظور الکونین شاہ صاحب رح سارے جہاں سے بڑھ کر محمد اعظم چشتی رح سے محبت کرتے ھیں۔ آپ تو رات بھر قبلہ محمد اعظم چشتی رح کی باتیں اور ان کے کمالات کا ھی تذکرہ کرتے رھے ھیں۔ صاحبزادہ ارشاد اعظم چشتی رح بے ساختہ فرمایا “بڑے لوگ جو ھوئے” ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور بڑے لوگ اسی لہجے میں بات کرتے ھیں وہ اپنے مرتبے سے نیچے آکر تبصرہ بھی اپنی دیانت کے خلاف سمجھتے ھیں ۔صاحبزادہ ارشاد اعظم چشتی رح کی ساری زندگی اپنے والد گرامی رح کے اس شعر کی آئینہ دار تھی کہ ” تیرے ذکر و فکر میں دن ڈھلا تیری گفتگو میں سحر ہوئی ۔ بڑی باغ باغ گزر گئی بڑی آبرو سے بسر ہوئی ۔آپ کی قبر پہ خدا وند عالم کی رحمتوں اور برکتوں کا نور برسے اور اللہ پاک آ پ کی زندگی بھر کی نعت خوانی کو قبول فرما کر آپ کو اپنی جنتوں میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین ثم آمین

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے