-،-تمنائے یزدانی-طاہرہ رباب الیاس-،-

ہم جو اکثر احکامات الہی کا پاس نہیں رکھتے تو یہ اس لیئے کہ ہمیں اس حکم کی وجہ اور اہمیت کا شعور و اندازہ نہیں ہوتا۔ ہمارئے خالق و مالک نے ہمیں جس نظام میں اتارا ہے اسے مرتب کر تے ہوئے ان تمام توجیہات کو مد نظر رکھا گیا ہے جو نظام کو رواں دواں رکھنے یعنی چلانے کے لیئے ضروری ہیں۔
(مجھے بہت سے قارئین کی جانب سے پیغامء استدعا ہے کہ میں اپنے مضامین عام فہم کے مطابق لکھوں تاکہ سمجھ میں بآسانی آسکے۔بے شک یہ میری پوری کوشش ہوگی، مگر یقین کیجیئے مکمل اور جامع پیغام کو پہنچانے کے لیئے ایسے الفاظ کا سہارا لینا بہت ضروری ہوتا ہے ورنہ مدعا مکمل بیان نہیں ہوپاتا۔ خود مالک کتاب کو ہدایت کی تنبیہ اور مستقبل۔کی نشاندھی کے لیئے بھی ایسے ہی الفاظ کی ضرورت ہوئی تاکہ اصل متن ضائع نہ ہو جائے ) اسی لیئے قرآن کو سمجھنے کے لیئے لغت کھولی جاتی ہے اور اس میں سے بھی ایک ایک لفظ کے کئی کئی معنی ہوا کرتے ہیں جو اس موقع و محل کی ضرورت کے تحت استعمال کیئےجاتے ہیں۔ اور یہی وہ تمنا ہے میرئے رب کی ہم سے کہ ہم کائنات کے تمام پہلووں کو ادراک کریں محنت جد و جہد سے حقیقتوں کو تلاش کریں اور اپنے حصے کی تگ و دو سے خالق کی شناخت حاصل کریں تاکہ مقصد خلقت تمام ہو سکے۔ اپنے مخصوص وقت میں وہ سب کر جائیں جس سے اپنی خلقت کا حق ادا ہو سکے اور ہم اپنے مرکز میں واپس چلے جائیں۔ جہاں سے ہم آئے تھے۔جب میرئے رب نے یہ چاہا کہ میں چھپا ہواخزانہ ہوں، پہچانا جاوں تو اس نے ایک ارادئے کو طے کیا اور اسے کہا کہ ہو جا اور وہ ہو گیا (سورہ البقراہ القران)اب ہم اسکے ارادئے کے حصے ہیں جو کن فیکوں ہوئے اور اسکی شناخت کروانے کے بعد وہیں لوٹ جانا ہے جہاں سے ہم ارادئے کے جز بن کر آئے تھے۔( انا للہ و انا الیہ راجعون) یعنی ہم تجھ سے ہی آئے اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ہمیں فقط اسکی۔پہچان بننا ہے اپنے ہر نفس سے حق وجود کو ادا کرنا ہے۔ وہ ہم سے یہی چاہ رہا ہے کہ ہم یہ سمجھ کر زندگی کی ہرلذت (میٹھی ہویا کڑوی) کو اختیار کریں کہ یہی میرئے رب کی رضا ہے اور جب ہم تہہ دل اور سچے خلوص سے راضی بہ رضا ہو جائیں گے تو مومن بن جائیں گے اور قرب خدا حاصل ہو جائے گا اور تب نظام وہ چاہنے اور دکھانے لگے گا جو ہم چاہیں گے۔مگر کچھ بھی ایسا اس شک کو مٹانے کے لیئے یا انتظار میں نہیں کرنا کہ دیکھیں ایسا ہے بھی یا نہیں۔۔۔۔کیونکہ جب ہم اپنی مرضی سے کچھ چاہنے لگتے ہیں تو وہ چاہت ہی رہتی ہے کیونکہ اس میں مرضئ خالق شامل نہیں رہتی۔ہم اس تمنا کو پورا کرئیں جو رب نے ہم سے رکھی ہے اور پھر رب وہ سب کچھ کر دئے گا جس کی تمنا ہم دل میں رکھتے ہیںزندگی کو ذرا ذرا سی بات پہ مذہبی جنونی بن کر نہیں خالق کی نعمت سمجھ کر کائنات کی وسعتوں کا احاطہ کرتے ہوئے گزاریں تاکہ حق ادا ہو جائے۔حسد کینہ غصہ نفرت بغض، فسق و فساد یہ سب جہاں بے خبروں اور جاہلوں میں کثرت سے پائے جاتے ہیں وہاں مذہبی جنونیت سے شدت اختیار کرتے ہیں اور رحمدلی درگزر انسانیت کا درد و احساس ختم کر دیتے ہیں جو صرف مومن کی نشانی بنتا ہے ، جو مذہبی جنونیت سے پاک ہوتا ہے کیونکہ وہ جنونیت کے حصار سے نکل کر مخلوق رب کی اولیت کے احساس سے ہر ذی روح کی عزت و قدر کرتا ہے ۔ وہ جانتا ہے کہ مجھے رب کی ہر خلقت کے زمین پر ہونے کی عظیم ترتیب اور وجہ کو معلوم ہونے پر کیسا رویہ روا رکھنا اور خلقت عالی کی مخلوق کی قدر و فکر کرنی ہے وہ اپنی دھن میں اپنا راستہ سیدھا کرتا ہے نہ کہ دوسروں کے خلاف لاٹھی اٹھائے بھاگتا پھرتا ہے۔ مومن صرف آپنی ذات کی معرفت میں لگا رہتا ہے تاکہ وہ اپنے رب کی معرفت حاصل کر سکے۔ جب ہر شخص صرف اپنی اصلاح کو فوقیت دئے کر اپنا راستہ سیدھا کرئے گا تب اسے دوسرئے کی فکر نہیں رہے گی اور یوں پورا معاشرہ اپنی نجی / ذاتی درستگی سے اپنی راہ پر سیدھا رواں دواں ہو سکے گا۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے