-،-قلم کاروان ،اسلام آباد۔ڈاکٹرساجدخاکوانی ۔،۔
منگل مورخہ 2اپریل2019 بعد نماز مغرب قلم کاروان کی ادبی نشست مکان نمبر1اسٹریٹ 38،G6/2اسلام آبادمیں منعقد ہوئی۔ پیش نامے کے مطابق آج کی ادبی نشست میں جناب انجینئر(ر)حامدمحموداطہرکامضمون ’’دوقومی نظریہ؛باعث قیام پاکستان و باعث دوام پاکستان‘‘اورگزشتہ نشست میں پیش نہ ہوسکنے والاجناب حبیب الرحمن چترالی کا مضمون’’جماعت اسلامی کابیانیہ‘‘شامل تھے۔معروف دانشور،قانون دان اورماہرتعلیم جناب پروفیسر(ر)راجہ عبدالحفیظ ایڈوکیٹ نے صدارت کی ۔نشست کے آغازمیں انورحسن چترالی نے تلاوت قرآن مجید،میرافسرامان نے مطالعہ حدیث نبویﷺاورشہزادعالم صدیقی نے گزشتہ نشست کی کاروائی پڑھ کر سنائی۔صدرمجلس کی اجازت سے پہلے جناب حامدمحموداطہرنے اپنی تحریرپیش کی۔تحریرمیں دوقومی نظریہ کی حقانیت ،اس نظریے کی تاریخی اہمیت اور پاکستان کے بقاوارتقاء کے لیے اس نظریے کی اہمیت کوبیان کیاگیاتھا۔میرافسرامان نے مضمون پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنی پسندیدگی کااظہارکیااورکہاکہ قوموں کاوجود نظریات کا مرہون منت ہوتاہے اورجب تک قومیں اپنے خالق نظریات کے ساتھ وابسطہ رہتی ہیں اور اپنی نسلوں کوبھی ان نظریات کاادراک منتقل کرتی رہتی ہیں تو زمین کا سینہ ان کامقدربنارہتاہے بصورت دیگر زمین کاپیٹ ان کی آماجگاہ بن جاتاہے۔جناب ساجد حسین ملک نے تحریرپرگفتگوکرتے ہوئے کہاکہ علامہ اقبال اور قائدااعظم دراصل دوقومی نظریے کے قائدانہ کردارتھے جن کی قیادت میں مسلمانان ہندوستان نے وطن عزیزحاصل کیا۔ڈاکٹرساجدخاکوانی نے کہاکہ ہم ایک آفاقی نظریاتی قوم ہیں اوروطن پرستی،قوم پرستی،اجدادپرستی اور اپنی مٹی ،اپنادیس،اپنے کوہ و دمن وغیرہ والی باتیں ہمیں زیب نہیں دیتیں۔وقت کی قلت کے باعث فوری طورپر دوسرامقالہ پیش کیاگیاجس میں معروف صحافی جناب حبیب الرحمن چترالی نے ’’جماعت اسلامی کا بیانیہ‘‘کے عنوان سے مولاناابوالاعلی مودودی کی فہم و فراست اورجماعت اسلامی کے قیام سے آج تک بہت جامع اورمختصراندازسے جماعت کی دعوت،اس کاطریقہ کاراور قرآن و سنت سے اس جماعت کی وابستگی کاذکرکیا۔تحریرپرتبصرہ کرتے ہوئے جناب اکرم الوری نے کہاکہ دونوں موضوعات بہت وسعت کے حامل تھے ان میں سے ہرموضوع الگ سے ایک بھرپورنشست کامتقاضی تھا،بہرحال انہوں نے حبیب الرحمن چترای کی تحریربے حدپسند کی اورکہاکہ جماعت اسلامی صرف سیاسی نہیں بلکہ نظریاتی جماعت ہے اوراس کاوجود وطن عزیزمیں باعث برکت ہے۔جناب حامداطہرنے کہاکہ جماعت کی قیادت موروثی نہیں ہے اوراس جماعت میں انتخابات کا تسلسل اسے جمہوری بنائے ہوئے ہے انہوں نے کہاکہ جماعت میں کڑے احتساب کے باعث قیادت کاقبلہ درست رہتاہے اوراسی لیے یہاں عہدے کی بجائے ذمہ داری کاتاثرپایاجاتاہے۔جناب شہزادعالم صدیقی نے حسب معمول مثنوی موالائے روم کے فارسی اشعارکی تفہیم سے شرکائے نشست کو فیض یاب کیاجس کے بعد جناب شیخ عبدالرازق عاقل اور جناب اکرم الوری نے اپنے تازہ کلام سے غزلیات بھی نذرشرکا کیں۔ صدر مجلس جناب پروفیسر(ر)راجہ عبدالحفیظ ایڈوکیٹ نے دونوں فاضل مصنفین کی تحریری کاوشوں کوسراہاکہاکہ دوقومی نظریہ کو پاکستان کے تعلیمی نظام کی اساس بناناازحدضروری ہے،اس کے بغیرریاست کامستقبل مخدوش ہے۔انہوں نے جماعت اسلامی کے شاندارماضی اور بدعنوانی سے پاک سیاست کی تعریف کی ۔ صدارتی خطبے کے ساتھ ہی آج کی نشست اختتام پزیرہوگئی۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے