۔،۔لوح و قلم تیرے ہیں۔ ڈاکٹرساجدخاکوانی ۔،۔
منگل مورخہ 9اپریل2019 بعد نماز مغرب قلم کاروان کی ادبی نشست مکان نمبر1اسٹریٹ 38،G6/2اسلام آبادمیں منعقد ہوئی۔ پیش نامے کے مطابق آج کی ادبی نشست میں جناب شاہداعوان،مدیردانش ڈاٹ کام کامضمون ’’کتب بینی اور سماجی ذرائع ابلاغ(سوشل میڈیا)‘‘شامل تھا۔معروف ماہرتعلیم جناب پروفیسرڈاکٹروسیم احمدخان نے صدارت کی ۔نشست کے آغازمیں ڈاکٹرعطاء اﷲ خان نے تلاوت قرآن مجید،میرافسرامان نے مطالعہ حدیث نبویﷺاورشہزادعالم صدیقی نے گزشتہ نشست کی کاروائی پڑھ کر سنائی۔صدرمجلس کی اجازت سے جناب شاہداعوان نے اپنی تحریر پیش کی،شستہ اور نفیس اسلوب تحریرکے ساتھ لکھے گئے مواد میں بہت خوبصورتی سے کتب بینی کے زوال یافتہ رجحان پر نقد و تبصرہ کیاگیاتھا۔کتابوں سے عام بے رغبتی کی بہت ساری وجوہات میں سے فاضل مصنف نے سماجی ذرائع ابلاغ کو بہت زیادہ ذمہ دارقراردیااور کہاکہ سکرین کی آمد نے لوگوں کوکتابوں سے بے نیازکردیاہے۔تحریرسننے کے بعدتبصروں سے پہلے سوالا ت کیے گئے مطہرعلی زیدی،میرافسرامان اور پروفیسرراجہ حفیظ نے مقالہ نگار سے سوالات کیے جن میں کتب بینی کے فروغ کے لیے تجاویزبھی مانگی گئیں۔صاحب تحریرنے جواب دیتے ہوئے کہاکہ اب کتابوں کو خرید کر نہیں پڑھاجاتابلکہ صاحب کتاب سے توقع اور تقاضاکیاجاتاہے کہ وہ مفت بطورتحفہ کتاب فراہم کر دے گا۔سوالات کے بعد شرکاء نے دل کھول کر کتاب کی بے وقعتی کوہدف تنقید بنایااوراسے معاشرے میں اخلاقی اقدارکے روبہ زوال ہونے کی ایک بہت بڑی وجہ بھی قراردی۔شرکاء میں سے پروفیسرآفتاب حیات،پروفیسرراجہ عبدالحفیظ،میرافسرامان،سیدمطہرعلی زیدی معتمدعام تحریک نفاذاردو،ساجدحسین ملک،پروفیسرڈاکٹرعطاء اﷲ خان اور ڈاکٹرساجد خاکوانی نے تحریرپر تبصرے کیے۔سب لوگوں نے تحریرکو بے حد پسند کیااورایک زندہ موضوع کے انتخاب پر صاحب تحریر کو مبارک باد دی۔کچھ لوگوں نے کہاکہ تحریر میں اگر کتب بینی کے رواج کوعام کرنے کے لیے تجاویزبھی شامل ہوتیں تو تحریرکی قدرومنزلت میں مزید اضافہ ہوجاتا۔شرکاء کی اکثریت نے پروفیسرآفتاب حیات جوایک مقامی تعلیمی ادارے میں صدر شعبہ تاریخ ہیں،ان کے ذمہ لگایاکوہ کتب بینی کی عادت کوعام کرنے کے بارے میں اپنی تجاویز مرتب کر کے لائیں گے۔جناب شہزادعالم صدیقی نے حسب معمول مثنوی موالائے روم کے فارسی اشعارکی تفہیم سے شرکائے نشست کو فیض یاب کیاجس کے بعد جناب شیخ عبدالرازق عاقل نے اپنے تازہ کلام سے غزل نذرشرکا کی اور خوب دادپائی جس سے محفل کابوجھل پن فوراََسے دم توڑ گیا۔ صدر مجلس جناب پروفیسرڈاکٹروسیم احمد خان نے اپنے صدارتی خطبے میں صاحب مضمون کی تحریراور اس تحریرپر جامع تبصروں کو سراہااور اپنے متعدد بیرون ملکی دوروں کے درمیان مشاہدہ کیے گئے کتب نوازی کے واقعات اور کتب بینی کی عادات کو بیان کیا۔انہوں نے بتایا کہ سماجی ابلاغیات کی کثرت کے باوجود زندہ قوموں نے کتاب سے اپنے تعلق کو ٹوٹنے نہیں دیاچنانچہ یہی وجہ ہے کہ دوسرے ملکوں میں کتابیں سینکڑوں نہیں بلکہ لاکھوں کی تعدادمیں شائع ہوتی ہیں اور خرید کر پڑھی جاتی ہیں،خاص طورپر دوران سفرہر مسافرنے اپنے ہاتھ میں کئی کئی کتابیں تھامی ہوتی ہیں۔ صدارتی خطبے کے ساتھ ہی آج کی نشست اختتام پزیرہوگئی۔