۔،۔ مولانا فضل الرحمٰن کا مشن عزم عالی شان۔ ( پہلو ۔صابر مغل ) ۔،۔


پہلی مرتبہ ایوان اقتدار سے باہر ہونے والے مولانا فضل الرحمان کے صبر کا دامن لبریز ہو چکا ہے اور وہ ہر وہ حربہ استعمال کرنے پر تل گئے ہیں جو حکومت کو باہر کرنے کے لئے کارگر ہو ،وہ اسلام آباد کی جانب ملین مارچ کا بھی اعلان کر چکے ہیں،ان کے تابڑ توڑ بیانات روزانہ کی بنیاد پر الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کی زینت بنتے ہیں وہ ایک ایسی شخصیت ہیں جو کبھی بھی اقتدار کے بغیر نہیں رہ سکتے،شہر اقتدار میں انہوں نے سابق صدر آصف علی زرداری سے خصوصی ملاقات جس میں حکومت مخالف چلانے تحریک ،فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع اور نیشنل ایکشن پلان ،مہنگائی پر قومی اسمبلی و سینٹ میں اپوزیشن کی مشترکہ حکمت عملی اور نیب کی جانب سے زرداری کے خلاف نیب کاروائیوں کو انتقامی قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف بھی سخت ایکشن پر بات چیت ہوئی ، سابق صدر نے کہا کپتان کو گھر جانا ہو گا حکمرانوں کو اس وقت چلتا نہ کیا تو نقصانات کی تلافی نہیں کر سکیں گے کیونکہ حکومت کی وجہ سے پاکستان بہت پیچھے جا رہا ہے مولاناکی ہم پر ہمیشہ نوازش رہتی ہے سیاست میں ہم دونوں ایک ہی نظرئیے اور سوچ پر ہیں، اسی ملاقات میں مولانا فضل الرحمان نے آصف زرادری کو نواز شریف سے ملاقات پر راضی کر لیا جو جلدہی جاتی عمرہ میں ہو گئی بلاول اور مریم کی ملاقات کر بھی اتفاق کیا گیا، مولانا نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ملاقاتیں معمول کا حصہ ہیں کوئی ایجنڈا نہیں تھاتاہم سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھایا گیاسیاسی صورتحال پر مکمل ہم آہنگی اور یکجہتی ہے جعلی حکمرانوں سے قوم کو نجات دلانے میں یکسو ہیں ،مولانا نے مودی کے حوالے سے کہا مودی کا جو یار ہے وہ غدار ہے ،(واضح رہے کہ یہ نعرہ پاکستان پیپلز پارٹی بھی بلند کرتی رہی ہے)،الراقم کے نزدیک مودی کے حوالے سے عمران خان کا بیان عالمی حکمت علمی کا نتیجہ ہے اس بیان کو جس طرح سیاق و سباق کے ساتھ پیش کا جا رہا ہے حقیقت اس کے بر عکس ہے کچھ گہرائی سے سوچا جائے تو عمران خان کا یہی بیان مودی کی سیاسی موت واقع ہو گا مگر ان کے بیان کو سیاسی مخالفین نے سینے سے لگا لیا جیسے ان کا تو مودی سے نہ کوئی ذاتی تعلق رہا ،نہ دوستی رہی ،نہ ان کے خلاف مودی کے یار کے نعرے آسمان تک گونجے، سیاست میں گرگٹ کی طرح بدلنے پر بہت حیرت ہوتی ہے کہ یہ ہمیں کیسے کیسے ساسی عجوبے نصیب ہوتے ہیں جو پل میں کچھ پل میں کچھ،کبھی پیٹ پھاڑنے کی باتیں ،کبھی ساری دنیا سے اتحاد ہو سکتا ہے مگر ملک کے لئے سیکیوری رسک بننے والے سے اتحاد ممکن نہیں مگر وہ پھر ذاتی مفاد کے ایجنڈے پر ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں ،مسکراہٹیں بکھیرتے ہیں ،نظریات میں ہم آہنگی ،ذرہ تصور کیا جائے کہ جمیعت علمائے اسلام (ف) ،مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کانظریہ ایک ہو سکتا ہے ؟ماضی میں انہوں نے جب بھی اقتدار حاصل کیا ایک دوسرے کے خلاف نظریاتی اختلافات کی بنا ہر حاصل کیا،حکومت سے سخت نالاں مولانا فضل الرحمان نے اس سے قبل جاتی عمرہ میں علاج کی غرض سے 6ہفتے کا عدالتی ریلیف ملنے والے میاں نواز شریف سے عیادت کے بہانے ملاقات کی ان کی یہ ملاقات بولتی تصویر کے مطابق کانفرنس روم میں یوں ہوئی جیسے عیادت نہیں بلکہ کوئی انتہائی خاص میٹنگ ہے،دو گھنٹے کی اس ملاقات میں دونوں رہنماء ہشاش بشاش نظر آئے ،ملاقات کے بعد مولانا نے ان کی بیماری کا کچھ بتانے کی بجائے حکومت اور قومی اداروں کو شدید تنقید پر رکھ لیا جو اسیے مواقع پر ایسوں کا ہمیشہ سے وطیرہ رہا ہے،عمران خان کو جعلی وزیر اعظم قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ نصب شدہ اور خلائی ہیں ملک میں پس پردہ قوتوں کی حکومت ہے،نیب ایک انتقام کا ادارہ ہے،ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں میاں نواز شریف نے آصف زرداری سے مشروط ملاقات پر رضامندی کا اظہار کیا کیونکہ یہ پیپلز پارٹی ہی تھی جس نے پانامہ لیکس کے بعد شادیانے بجائے اور حکومت سے مستعفی ہونے بھی مطالبہ کیا تھا، نواز شریف نے مولانا کے سامنے کھل کر شدید تحفظات کا اظہار کیا،چند روز قبل پیپلز پارٹی کے سینئر رہنماء اعتزاز احسن نے میٹنگ اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ حکومت مخالف تحریک چلانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیشہ اس نے آصف زرداری اور بلاول بھٹو کو ٹشو پیپرز کی طرح استعمال کیا،خیر اب تو ہاں ہو چکی ہے اور یوں یہ تینوں سیاسی جماعتیں جن پر آمدن سے زائد اثاثوں،منی لانڈرنگ اور کرپشن جیسے الزمات ہیں مولانا فضل الرحمان کی جماعت سے تعلق رکھنے باالخصوص سابق وزیر اعلیٰ خیبر پی کے اکرم درانی بھی کرپشن پر نیب کے ریڈار پر آچکے ہیں اور بھی کئی لوگ ہیں جنہیں نیب سندیسہ ملنے والا ہے،مولانا فضل الرحمان کو اس وقت عام عوام اور ملکی معیشت کی بہت فکر کھائے جا رہی ہے حالانکہ وہ جن جن قوتوں کے ساتھ اقتدار کے مزے لوٹتے رہے ان کے طویل ادوار میں ملکی معاشی حالت،عوامی حالت،تعلیم و صحت کی عدم فراہمی ،مہنگائی ،بے روزگاری ،کرپشن ،لوٹ مار ،اقربا پروری عروج پر رہی جن کی بے پناہ مثالیں دی جا سکتی ہیں مگر یہ تحریر بہت طوالت اختیار کر جائے گی،مولانا فضل الرحمان نہ صرف ایک سیاسی لیڈر ہیں بلکہ بہت بڑے دینی رہنماء بھی ہیں خیبر پختونخواہ والی سائیڈ پر ان کے پیروکاروں کی وسیع تعداد موجود ہے ، جو لوگ سیاست کے ساتھ مذہبی لیڈر بھی ہوں ان میں دین کی بھی بہت سوجھ بوجھ ہو ان پر کسی عام سیاستدان کی نسبت قومی ایشوز پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے،مگر مولانا اس قدر بوکھلاہٹ کا شکار ہیں جو ہر وقت ان کے باریش چہرے سے عیاں ہے،موجودہ حکومت سے اتنے پریشان وہ بھی نہیں جنہیں قید سنا دی گئی ،جو جیل میں ہیں ،ضمانت پر ہیں،جو جیل جانے والے ہیں جن کے خلاف تحقیقات جاری ہیں ،جن کے خلاف ریفرنسز دائر کرنا حتمی مراحل میں ہیں یا جو بہت جلد نیب کے ریڈار پر آنے والے ہیں ،پھر انہیں کیا ٹیشن کیا ہے ؟درحقیقت بہت دکھ ہے کہ موجودہ حکومت نے ان کی قدر نہیں کی انہیں ماضی کی طرح اہمیت نہیں دی ،ایسا دکھ فطری عمل ہے جب طویل عرصہ ایوان کی راہداریوں میں رہا جائے،جب بھی کسی حکومت کو خطرہ ہو سبھی بھاگم بھاگے مولانا صاحب کے پاس پہنچیں مگر یہ کون ہیں جو انہیں اہمیت ہی نہیں دے رہے،الٹاان پر ماضی کے لگے الزام مولانا ڈیزل کو مزید ہوا دیتے ہیں،جہاں کہیں بھی عمران خان یا دیگر اہم حکومتی رہنماء تقریر کرتے ہیں مولانا کے ذکر کو نہیں بھولتے ،جب کوئی انتہائی وقعت والا شخص بے وقعت ہو جائے یا کر دیا جائے تو وہ ایسا کیوں نہیں کرے گا؟کیا کمال ہے مولانا صاحبکا ، ان کی سیاسی چالوں کا کہ وہ اپنی اپنی جماعتوں میں شدید تحفظات کا سامنے کرنے کے باوجود ان کے لیڈران کی نہ صرف آپس میں ملنے کی ہاں کرا چکے ہیں بلکہ اب ان کی اگلی نسل بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز شریف بھی جمہوریت بچاؤ مشن میں ملاقات کریں گے،سیاسی اختلافات اپنی جگہ ،موجودہ حکومت میں بھی ماضی کی حکومتوں کی طرح کچھ کرپٹ عناصر شامل ہیں جن کی وجہ سے عوام کی زندگی اجیران ہو چکی ہے مگر یہ کہنا کہ انہیں کوئی خاص قوت لائی ہے گھٹیا پن ہے چند روز قبل ایک اور سیاسی و مذہبی جماعت کے سربراہ کا بیان سامنے آیا پاکستان میں وہی بر سر اقتدار آتا ہے جسے عالمی قوتوں کی آشیر باد حاصل ہو اگر ان صاحب کو یہ علم ہے یا تھا تو وہ ماضی میں کیوں ایسے حکمرانوں کے ہمرکاب یا ساتھی رہے جو غیر ملکی و ظاغوتی طاقتوں کی ایما پر اقتدار حاصل کرتے ہیں،؟اور کیا آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کو وہی عالمی قوتیں اقتدار میں لائی تھیں؟ مولانا فضل الرحمان سمیت کچھ اور سیاسی مگر مقتدر قوتیں براہ راست پاکستان کے قومی اداروں (خاص طور پر پاک فوج پر) پر حملہ آور ہوتے ہیں ،بہرحال مولانا فضل الرحمان کی ؔ حکومت مخالف پھرتیاں قابل تحسین ہیں دیکھو وہ حکومت کو رگڑا لانے، پھر سے ایوان میں آنے اور کرپشن کو ڈھال فراہم کرنے کے عزم، عالی شان منصوبے میں کس حد تک اور کب تک کامیاب ہوتے ہیں،