۔،۔کوئٹہ میں امن دشمنوں کا ایک اور خونی وار۔( پہلو ۔صابر مغل ) ۔،۔


امن کی طرف بڑھتے کوئٹہ شہر کو امن دشمنوں نے اپنے بزدلانہ وار سے ایک بار پھر خون میں نہلا دیا20افراد شہید جبکہ48زخمی ہوئے ،ماضی کی طرح اس بار خونی کھیل کھیلنے کے لئے جمعہ کے دن کا ہی انتخاب کیا گیا کوئٹہ میں دہشت گردی کے مجموعی واقعات جمعہ کے روز ہی رونما ہوئے،ہزار گنجی فروٹ و سبزی منڈی کوئٹہ کے نواح میں قائم ہے جہاں فروٹ و سبزی کی وسیع پیمانے پر خریدو فروخت ہوتی ہے صبع وقت کے وقت جب دھماکہ ہوا تب لوگوں کی کثیر تعداد خریداری میں مصروف تھی دھماکہ اس قدرزور دار تھا جس کی آواز دور دور تک سنی گئی دہشت گردوں نے دھماکہ خیز مواد آلو کی بوری میں نصب کیا جسے ایک مزدور گاڑی پر لوڈ کر نے جا رہا تھا کہ اچانک قیامت برپا ہو گئی ہر طرف خون ہی خون بہنے لگا ،اس خونی کھیل کے نتیجے میں عرصہ سے دہشت گردی کا شکار ہزارہ کمیونٹی کے8افراد، 12کا تعلق دیگر قبائل سے جبکہ شہید ہونے والوں میں ایک ایف سی اہلکار انہی شہداء میں ایک بچہ بھی شامل ہے،ہزار گنجی منڈی اس سے قبل بھی کئی بار دہشت گردی کا نشانہ بن چکی ہے،اس مندی کی سیکیورٹی کا ہمیشہ سے خاص خیال رکھا جاتا ہے مگر انسانیت سے عاری انسان دشمن شدت پسند ایک بار پھر اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہو گئے ،دھماکہ کے فوری بعددرجنوں زخمیوں کو سول ہسپتال ،بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال اور شیخ زید ہسپتال پہنچایا گیا زخمیوں میں 4ایف سی اہلکار بھی شامل ہیں چار افراد نے ہسپتال پہنچ کر جان حقیقی مالک کے سپرد کی ،سول ہسپتال کے ترجمان وسیم بیگ کے مطابق وہاں11میتیں لائی گئیں ،دہشت گردی کی واردات کے بعدامدادی ٹیمیں اور سیکیورٹی فورسز موقع پر پہنچ گئیں بم ڈسپوزل اسکواڈ نے پورے ایریا کو چیک کیا ،پولیس نے علاقے کو خالی کروا کر وہاں ہر قسم کی آمدورفت پر پابندی لگا تے ہوئے پورے علاقے کی سرچنگ شروع کر دی، صوبائی وزیر داخلہ ضیا ء اللہ لانگو نے پریس کانفرنس کے دوران انکشاف کیا کہ یہ ایک خود کش حملہ تھا جس میں20افرادشہید اور 48زخمی ہوئے ہیں جس میں کسی ایک کمیونٹی کو نشانہ نہیں بنایا گیا البتہ زیادہ اموات ہزارہ قبیلے کی ہوئی ہیں ہم دشمن کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے دشمن نہیں چاہتا بلوچستان میں امن قائم ہو مگر ہم دشمن کو ناکام بنا دیں گے پاکستان خطے کا اہم ملک بننے جا رہا ہے ،ان سے قبل ڈی آئی جی عبدالرزاق کے نے 16افراد کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اس حملہ میں ہزارہ کمیونٹی کو ہی نشانہ بنایا گیا، ان کے مطابق مزدور آلو کی بوریاں گاڑی میں لوڈ کر رہے تھے کہ اس وقت زور دار دھماکہ ہواماہرین کی ٹیمیں تحقیق کے بعد ہی بتا سکیں گی کہ بارودی مواد بوری میں نصب ریموٹ کنٹرول تھا یا دیسی ساختہ ،دھماکے میں کس کو نشانہ بنایا جانے کا اصل مقصد تھا اس بارے ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا پولیس نے چند روز قبل ہی حفاظتی انتظامات کے سلسلے میں میں نگرانی اور صفائی ستھرائی کے مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی تھی تا کہ بوریوں وغیرہ میں کوئی خطرناک چیز نہ چھپائی جا سکے مگر یہ ہولناک واقعہ پھر بھی ہو گیا،کوئٹہ میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والی ہزارہ برادی عرصہ دراز سے بدترین دہشت گردی کا شکا ر ہیں اب تک ان کے سینکڑوں مرد و خواتین اور بچے اس درندگی کا شکا ر ہو چکے ہیں یہاں ان پر زمین تنگ کر دی گئی یہی وجہ کہ وہ بنیادی اشیاء کی خریدو فروخت کے لئے بھی سیکیورٹی فورسز کے رحم و کرم پر ہیں اور اسی وجہ سے سیکویرٹی فورسز کی بھی ان گنت شہادتیں ہو چکی ہیں تاہم ان کے علاقوں میں سخت سیکیورٹی انتظامات کی وجہ سے دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ،بظاہر مسلکی بنیادوں پر قتل و غارت مگر ظاقوتی طاقتوں کے ایجنڈے اور مذموم مقاصد میں ہر وقت خوفزدہ ہزارہ ٹاؤن اور مری آباد میں بسنے والے ہزارہ قبائل کے لوگوں کو سخت سیکیورٹی میں فروٹ و سبزی منڈی لایا جاتا ہے جب یہ لوگ منڈی پہنچائے جاتے تھے تو سیکیورٹی اہلکار چاروں میں گیٹس پر ڈیوٹی سنبھالنے کے علاوہ پوری منڈی میں گشت کرتے اور ہزارہ برادری کے افراد کو اپنے حصار میں رکھتے ہیں،دھماکہ سے کچھ دیر قبل بھی ہزارہ کمیونٹی کے55افراد کو11گاڑیوں میں قافلے کی صورت میں منڈی پہنچایا گیا معمول کے مطابق پولیس اور ایف سی نے انہیں منڈی پہنچا کر مین گیٹ اور منڈی کے اطراف میں پوزیشنیں سنبھال لیں مگر انہیں کیا علم تھا کہ آج موت ایک اور طرح سے گھات لگائے بیٹھی ہے ہزارہ برادی کے یہ لوگ جیسے ہی آلو مارکیٹ پہنچے یہ المناک سانحہ رونما ہو گیا،وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے ہزار گنجی دہشت گردی کے واقعہ کی شدید مذمت کرتے اوراسے بزدلانہ وار قرار دیتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا شدت پسند سوچ کے حامل افراد معاشرے کا ناسور ہیں ان کا تدارک نا گزیر ہے انسانیت کے دشمن کسی رعایت کے مستحق نہیں،وزیر اعظم عمران خان اس واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی ہے انہوں نے ہدایت کی کہ زخمیوں کی ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کی جائیں ،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ دہشت گرد اپنی بزدلانہ کاروائیوں سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہوں گے ہم نے ہزاروں قربانیوں کا نذرانہ پیش کر کے دہشت گردی کی اس جنگ میں دشمن کے دانت کھٹے کئے ہیں ،گورنر بلوچستان امان اللہ خان یسین زئی،سابق صدر آصف وعلی زرداری ،سپیکر و ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی ،مریم نواز شریف سمیت دیگر سیاستدانوں نے بھی اس دہشت گردی کی شدید مذمت کی ،گذشتہ ایک سال میں بلوچستان کے علاوہ پاکستان بھر میں دہشت گردی کی وارداتوں میں نمایاں ترین کمی واقع ہوئی ہے بلکہ بلوچستان میں سال2107کی نسبت2018میں زیادہ شہادتیں ہوئیں،اب صرف32دنوں میں دہشت گردی کے چار واقعات رونما ہو چکے ہیں، 6جنوری کو افغانستان سے ملحقہ ضلع پشین کے علاقہ میں دہشت گردوں نے لیویز کے نائب تحصیلدار عبدالمالک ترین کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ دفتر داخل ہورہے تھے ،یہ دھماکہ ایک موٹر سائیکل میں نصب مواد کے ذریعے کیا گیا تاہم خوش قسمتی سے کوئی ہلاکت نہ ہوئی،تاہم نائب تحصیلدار،لیویز اہلکاروں صلاح الدین اور مختار احمد کے علاوہ عبداللہ ،محمود،محمد اسحاق،حبیب اللہ ،محمد اکمل ،دلبر اور خان محمد زخمی ہوئے،اس علاقے میں میں اکثر پولیس اور لیویز کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے،5مارچ کو لورا لائی کے علاقہ میں سیکیورٹی فورسز کی ایک کاروائی میں چار دہشت گرد جہنم واصل ہوئے جبکہ سیکیورٹی اہلکاروں نے شہادت حاصل کی ،سیکیورٹی فورسز نے یہ کاروائی لیویز اہلکاروں پر حملے کے ماسٹر مائنڈ دہشت گردکی ساتھیوں سمیت اطلاع پر کی تھی ،11مارچ کو کوئٹہ کے علاقہ میاں غنڈی میں محکمہ انسداد دہشت گردی کی گاڑی کو پولیس لائن جان اڈہ کے نزدیک نشانہ بنایا گیا اس حملہ میں گاڑی مکمل تباہ البتہ چار اہلکار شدید زخمی ہوئے 17مارچ کو ڈیرہ مراد جمالی کے علاقہ ربیع کینال کے قریب راولپندی سے کوئٹہ جانے والی جعفر ایکسپریس کو نشانہ بنایا گیا ریل کی پٹری پر ہونے والے دھماکہ کی وجہ سے ٹرین کی چھ بوگیاں الٹ گئیں 400فٹ پٹری کو نقصان پہنچا جبکہ ماں بیٹی 50سالہ نور بانو اور 22سالہ سعدیہ سمیت چار افراد کی شہادت کے علاوہ 3فورسز اہلکاراور4سول افراد زخمی ہوئے تھے،

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے