۔،۔ جرمنی آفن باخ فیضان مدینہ میں تربیتی اجتماع بسلسلہ سحر و افطار کا انعقاد۔،۔

نذر حسین شان پاکستان جرمنی آفن باخ۔۔ جرمنی آفن باخ فیضان مدینہ میں تربیتی اجتماع بسلسلہ سحر و افطار کا انعقادکیا گیا جس میں خصوصی خطاب کے لئے حضرت علامہ مفتی شمس الہدی مصباحی برطانیہ سے تشریف لائے تھے۔محفل کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا ،صناخوان مصطفی نے نعت پیش کیں ، حضرت علامہ مفتی شمس الہدی مصباحی کے تشریف لانے پر حاضرین نے ان کا پرجوش استقبال کیا، تربیتی اجتماع کا آغاز انہوں نے سورۃ البقرہ کی اس آیت سے کیا *وَ کُلُو وَشرَبُو حَتی یَتَبَیََّنَ لَکُمُ لخَیَطُ الاَیَضُ مِنَالخَیطِ الاَوَدِ مِنَ الفَجرِ ثُمَ اَتِمُّو ا الصِّیامَ اِلیَ الَّلیلِ*۔ انہوں نے ہمبرگ، کوبلنز فرینکفرٹ اور جرمنی کے دوسرے شہروں سے تشریف لانے والے حضرات کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا ، مجھے اس حیثیت سے مسرت محسوس ہو رہی ہے کہ آپ کے دل میں خُدا نے یہ جذبہ ڈال دیا ہے کہ آپ اپنے دین کی بات سننے اور سمجھنے کے لئے محفل میں تشریف لائے انہوں نے علماء کا بھی شکریہ ادا کیا ان کا کہنا تھا کہ وہ علماء کرام جو تشریف نہیں لائے یا کسی وجہ سے تشریف نہ لا سکے ان کا بھی تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ ہم یہاں دین کے خادم کی حیثیت سے حاضر ہیں اور انشا اللہ جب ضرورت پڑے گی تو دوبارہ بھی حاضری دیں گے۔ دین کی باتیں چوری چھپے کرنے کی نہیں ہوتیں ہماری ذمہ داری ہے آپ کے سامنے بیان کریں اب آپ کی غیرت ایمانی یہ ہے کہجب آپ نے بات سن لی ،سمجھ لی تو اب چوں چراں نہ رہے کہ میرے دوست ایسا کر رہے ہیں یہ شان مومن نہیں جو باتیں میں عرض کرنے جا رہا ہوں صرف جرمنی کے لئے نہیں بلکہ دنیا اسلام کے لئے ہیں یہ بھی بتاتا چلوں کے یہ باتیں ہمارے اسلاف نے ،ہمارے مکابر نے واضع بتا گئے ہیں ہم تک یہ بات نہیں پہنچی تھی اب پہنچ گئی تو حیلہ بنانے کرنے والے رہے ہیں اور رہتے ہیں ایسے لوگوں کے لئے بھی ہم دعائے اصلاح کرتے ہیں کسی نے کیا خوب کہا۔ *نہ ادھر ادھر کی تو بات کر۔ یہ بتا کہ قافلہ کیوں لُٹا۔ ومیں رہزنوں سے غرض نہیں۔تیری رہبری کا سوال ہے*اگر میں رہبر ہوں خطا، ہو سکتی ہے جب خطاء واضع ہو جائے تو میرا یہ فریضہ بنتا ہے کہ میں اُس سے رجوع کروں اپنے رب کی بارگاہ میں تویہ کروں ۔ مجھے سید حامد شاہ ،طفیل بٹ اور چند دوسرے حضرات کی تحریر ملی تو میں نے محسوس کیا کہ یہ صرف اپنی اصلاح نہیں بلکہ کمیونٹی کی فکر رکھتے ہیں میں نے جن آیات کریمہ کا شرف حاصل کیا ۔*وَ کُلُو وَشرَبُو حَتی یَتَبَیََّنَ لَکُمُ لخَیَطُ الاَیَضُ مِنَالخَیطِ الاَوَدِ مِنَ الفَجرِ ثُمَ اَتِمُّو ا الصِّیامَ اِلیَ الَّلیلِ* اے روزے دارو روزے کی ابتداو کب ہو گی روزے کی انتہا کب ہو گی دونوں صورتیں رب کریم نے واضع بیان کر دیں ۔فرمایا کھاوُ پیو کب تک یہاں تک کہ کالے دھاگے سے سفید دھاگہ جدا ہو جائے ، کالے دھاگے سے مراد اندھیرا سفیددھاگے سے مراد صبح کا اجالا ہے۔ عالم دین فرماتے ہیں جب صبح صادق طلوع ہو جائے احتیاطاََ اس سے پہلے ہی کھانا پینا بند کر دو روزہ فجر صادق سے شروع ہو جاتا ہے پھر روزے کو مکمل کرو اس وقت تک جب رات کا آغاز ہو،سورج غروب ہو جائے ،اگر اس سے پہلے کچھ کھا پی لیا ،یا کسی کے کہنے پر تو وہ روزہ نہیں قضاء کرنی ہو گی، اگرصبح صادق طلوع ہونے کے بعد کھا لیا بھول کر یا کسی کے کہنے پر تو وہ روزہ نہیں ہو گا قضا لازم ہو گی ۔شکر ادا کرتے ہیں کہ کفارہ نہیں دینا پڑے گا،اگر یہ صورت نہ رہے جان بوجھ کر سورج ڈوبنے سے پہلے طلوع فجر صادق کے بعد اگر کھایا پیا تو روزہ بھی رکھنا پڑے گا اور کفارہ بھی ادا کرنا پڑے گا یعنی 60روزے متواتر رکھنے ہوں گے اگر ایک بھی رہ گیا تو گنتی پھر دوبارا سے شروع ہوں گیں حکم شریعت ہے۔ میرے احباب ابھی میں نے روزے کے متعلق بات شروع کی ہے نہ نمازنہ دوسرے مسائل مگر روزے کے معاملہ میں بہت دشواری ہے اور زیادہ بھیانک پہلو ہے ، اس لئے اس کو بتانا بہت ضروری ہے جب سردیوں میں روزہ آتا ہے ب بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بڑی رات ملتی ہے کوئی پریشان بھی نہیں ہوتا چھوٹا سا روزہ ہوتا ہے تب تو کوئی نہیں کہتا مولانا صاحب روزہ چھوٹا ہے ذرا لمبا کر دیجیئے کوئی نہیں کہتا جب روزہ لمبا ہو گیا تو فکر شروع ہو گئی ،میں نے کہا یہ لمبا اور چھوٹا کرنا میرا کام تو نہیں یہ شریعت کا اٹل فیصلہ ہے ،صحابہ کرام کے اندر بہت خوف تھا کالے اور سفید دھاگے کے متعلق تو ایک انگھوٹے پر کالا اور دوسرے انگھوٹھے پر سفید دھاگا اس کو بار بار دیکھتے تھے بارگاہ مصطفی میں حاضر ہوئے یا رسول اللہﷺ ہمیں ڈر لگتا ہے کہیں ایک لقمہ حلق سے نیچے چلا گیا تو کیا ہو گا یہ اہتمام کیا کرتے تھے ،خُدائے ذوالجلال نے جبرائیل امین کو حضور کی خدمت میں بھیجا جاوُ میرے محبوب کو اتنا ٹکڑا اور پہنچا دو مِنَ الفَجرِصبح صادق سے مراد فجر ہے جب یہاں سردیوں کا معاملہ ہوتا ہے جب سورج غروب ہوتا ہے اندھیرے کو علاقائی دھندلا پن کہلاتا ہے ، یہ سلسلہ اس وقت تک رہتا ہے جبتک سورجا افق سے نیچے 4ڈگری تک نہ چلا جائے ،اب افق پر سرخی نمودار ہوتی ہے جس کو عربی میں شفق احمر کہتے ہیں جسے انگریزی میں ناوٹیکل ٹوائلائٹ Nautical twilight وہ رہتی ہے 12ڈگری تک اب وہی ریڈ کلر سفید ہو گئی اس کو کہتے ہیں الشفق الفلکی۔شفق البیضا جس کو انگریزی میں اسٹرونومیکل ٹوائلائٹ Astronomical Twilight وہ رہتی ہے 18ڈگری تک یہی جمہور کا قول ہے یہی فن فلکیات کے ماہرین کا قول ہے رائل گرینوچ ابزرویٹریRoyal Greenwich Observatory کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ سالوں پہلے میٹنگ ہوئی میں نے جب اپنی بات کی تو کہنے لگے یہ سب باتیں وہی بتائی ہیں جو آپ پوچھ رہے ہیں مجھے اس بات پر خوشی ہوئی کہ میں نے تو مجدد اعظم امام احمد رضاء کی کتابوں کو پڑھ کر بتایا آج دنیا کا پڑھا ہوا سائنسدان وہ کہہ رہا ہے جو ہمارے امام نے 100سال پہلے لکھ دیا تھا ۔ اب میرے احباب ایک سادہ سا فارمولا اسی طرح سورج نیچے سے ہوتے ہوئے مشرق کی طرف آئے گا افق سے 18ڈگری نیچے ہی رہے گا پھر صبح صادق ہو جائے گی ۔ اور اوپر آیا 15سرخی آ جائے گی پھر 12ڈگری روشنی ہو جاتی ہے پھر سورج طلوع ہو جاتا ہے اس کی منزلیں دن بدن بدلتی رہتی ہیں، سردیوں میں کہاں سے طلوع ہوتا ہے کہاں غروب ہوتا ہے گرمیوں میں کہاں سے طلوع ہوتا ہے اور بہت دور جا کر ڈوبتا ہے یعنی طلوع ہونے کی جگہ بھی مختلف اور غروب ہونے کی جگہ بھی مختلف اسی لئے لئے رب قدیر نے مشارق اور مغارب کا ذکر کیا ہے جو جمع ہے طلوع اور غروب کی کئی جگہیں ہیں ،پیچیدگی کہاں سے شروع ہوئی گرمیوں میں کچھ دن ایسے آتے ہیں جن دنوں میں سورج افق سے 18ڈگری سے نیچے نہیں جاتا ، اسی لئے رات کو آسمان صاف ہو تو اجالا ختم نہیں ہوتا وہ اجالا کس کا ہے سورج کا سورج بہت نیچے چلا گیا اندھیرا ہو جاتا ہے نیچے نہیں جائے گا اجالا سامنے رہے گا ، بالکل ایسے دیوار کے دوسری طرف کوئی چلے گا آپ کو اجالا نظر آئے گا کس کا لائٹ کا یہی حال ہے سورج کی روشنی کاجو آپ کو Horizontale یعنی افق پر نظر آتی ہے۔ میرے احباب یہ اجالا یقیناََ سورج کا ہے جب سورج طلوع ہونے کے بعد چلتے چلتے آپ کے سر پر پہنچ جاتا ہے تو کہا جاتا ہے دوپہر ہو گئی انگلش میں Half-day کہا جاتا ہے اس کے بعد سورج مائل ہوتا ہے مغرب کی طرف اسی وقت ظہر کا وقت شروع ہو جاتا ہے اللہ فرماتا ہے اقیمو الصلواۃ ۔ اب سورج مغرب کی طرف ڈوب گیا اب وہ نیچے نیچے سے مشرق کی طرف جائے گا ڈوبنے کے بعد اسی لائن پر مشرق کی طرف درمیان میں پہنچا تو آدھی راتHalf-Night کہا جائے گا ، اس کے بعد سورج مشرق کی طرف جائے گا اجالا ختم ہو رہا ہے آدھی رات کے بعد سورج مشرق کی طرف جائے گا تو روشنی بھی مشرق کی طرف بڑھتی جائے گی جس کا نام ہے صبح صادق ان کے علاوہ شریعت میں کوئی نام نہیں مشرقی افق پر جو اجالا ہوتا ہے اسی کا نام ہے صبح صادق ۔اب جب کے صبح صادف شروع ہو جائے تو آپ کھانا کھا کر روزہ رکھیں گے یہی ہم سمجھا رہے ہیں وہ بھی سادہ طریقہ سے اجالا صاف ہے آدھی رات کو سورج مشرق کی طرف بڑھ گیا یہ ہے اب جو باتیں بتائی ہیں یہ ہمارے اکابر اور فقہا اور ماہرین کا کہنا ہے۔ فتاوہ رضویہ شریف میں بلغار کاذکر کیا گیا ہمارے فقہا کے پاس بہت سالوں پہلے سوال آیا تھا گرمیوں میں اجالا ختم نہیں ہوتا ابھی سفیدی رہتی ہے ڈوبی نہیں کہ فجر شروع ہو جاتی ہے ۔ وہاں کا latitude بھی جرمنی سے ملتا جلتا ہے فتاوہ رضویہ شریف دسویں جلد صفحہ 123صبح صادق کے لئے فتح القدیر ، دُر مختار کئی کتابوں کا حوالہ دیا گیا ہے کہ بلغار سے ہمارے مشائخ کرام کے پاس سوال آیا تھا کہ گرمیوں کی چھوٹی راتوں میں ان کو وقت عشاء یعنی حنفی عشاء کا وقت نہیں ملتا آدھی رات تک شفق ابیہت رہتی ہے اور وہ ابھی نہ ڈوبی کے مشرق سے صبح صادق طلوع کر آئی اب بتاوُ صبح صادق طلوع ہو جائے تو پھر سحری کریں گے ۔دوسرا مفتی افضل حسین فیصل آباد اتنے بڑے عالم تھے ہمارے بزرگ ان کو بحر العلوم کہا کرتے تھے یعنی علموں کا سمندر ان کی کتاب تہذیب الاخلاق اس کا صفحہ 62اس میں آپ لکھتے ہیں جہاں کا latitudeعرض البلد ساڑھے اڑتالیس ڈگری 48-50یا اس سے زیادہ ہوتا ہے ان سب جگہوں پر گرمیوں میں کچھ راتیں ایسی آتی ہیں کہ آدھی رات تک سفیدی مغرب میں رہتی ہے اور آدھی رات کے بعد ہی صبح صادق کا وقت ہو جاتا ہے ۔ ہماری شریعت انٹرنیشل ہے نہ کہ صرف پاکستان انڈیا یا بنگلہ دیش کے لئے ہے ۔اس کے بعدسوال و جواب کا سلسلہ ہوا جس میں محمد اقبال خان نے ڈگری کے حساب سے سوال کیا جس پر انہوں نے جواب دیا کہ یہاں پر 18ڈگری ہی مانا جائے گا.، ایسے امام کی کتاب ہے جس کو اس زمانے کے مشائخ امام علم فلکیات امام محمد بن عبد لوہاب مراکشی اس کتاب میں یورپی شہروں کا ذکر موجود ہے ایک مانچسٹر اور دوسرا پیرس کا ، مانچسٹر کا عرض و بلد کتنا ہے latitude اس کے بعد علم فلکیات کے نے پورا حساب لگایا ہے لگا کر ان دنوں میں جن میں اجالا ختم نہیں ہوتا ہے فرمایا ہاف نائٹ Half Night آدھی رات سے پہلے جتنا کھانا پینا ہو کھا پی لو،مغرب۔ عشاء اور تراویح پڑھ لو لیکن آدھی رات کے بعد فجر طلوع ہو جاتی ہے سحری کا ٹائم بالکل نہیں ہے العزم الجلال کی پہلی جلد صفحہ -227 -226 لکھتے ہیں کے پیرس کا عرض و بلد 48-50 ہے پھر لکھتے ہیں نصف اللیل فجر کا وقت شروع ہو گیا پھر لکھتے ہیں مانچسٹرآدھی رات کے بعد فجر کا وقت ہو جاتا ہے۔جو لوگ بغیر کسی شرعی ثبوت کے لوگوں کو فجر کے وقت کھلاتے ہیں اور کہتے ہیں ہم لوگ اکثریت کے ساتھ ہیں ،ہمارے ملکوں میں بیٹیوں اور بہنوں کو حصّہ نہیں دیتے یہ حرام کر رہے ہیں حق کا انکار کفر ہو جائے گا تم نے باطل پر کیوں اتفاق کیا باطل پر اتفاق نہیں ہوتا،ان کا فرمانا تھا قوم کو اندھیرے میں مت رکھو خدا کی گرفت سے ڈرو وہ رزاق ہے ۔سفر میں ہو بیمار ہو بعد میں روزے رکھو ۔حضور کا فرمان ہے ایک وقت ایسا آئے گا جب شریعت پر عمل کرنا ایسے ہو گا جیسے آگ کا انگارہ ہاتھ میں پکڑا ہوا ہے ،دیکھ رہے ہو جو ٹھیک کرتے ہیں ان کو طعنہ دیا جاتا ہے ،نظام الاوقات کی اصلاح کر لو 12 مہینوں میں سے 11 پر کوئی پابندی نہیں چوبیس گھنٹے کھاتے پیتے رہو ایک مہینہ رمضان کا آتا ہے اس کا احترام کر لو سحری کرنا واجب نہبں ہے کوئی بندہ عشاء پڑھ کر سو گیا سحری کیا ہی نہیں روزہ اس کا ہو جائے گا ،واجب نہیں ایک سنت طریقہ پر عمل کرنے کے لئے فرض کو ضائع کر دو ایسا نہ کرو ،یو بھی بتاتا چلوں کے وہ ایام بھی آتے ہیں جن کو declaration of the sun ان دنوں میں سورج تیزی سے بھاگتا ہے اور انحتاط شمس تیزی سے تبدیل ہوتا ہے یہ ہمارے آپ کے ہاتھ میں نہیں ہے وہ نظام چلا رہا ہے یہ قدرت ہے ۔نذر حسین نے جب چاند کی پیدائش پر بات کی تو مولانا صاحب کا کہنا تھا کہ اس کا پیدائش پر نہیں بلکہ ڈگری پر انعصار ہو گا جب ان سے سوال کیا گیا کہ Astronomisches Rechen-Institutکے مطابق 17سے 25گھنٹوں کے بعد چاند انسانی آنکھ سے دیکھا جا سکتا ہے آپ کیا کہتے ہیں انہوں نے دوبارہ یہی کہا کے ڈگری کے حساب سے ان کا فرمانا تھا کہ پانچ مہینے کا چاند دیکھنا ہمارے لئے فرض ہے لیکن ہم نہیں دیکھتے۔جب مولانا صاحب کو 25مئی 2015کو ہونے والے اجلاس کا بتایا گیا تو ان کا فرمانا تھا کہ ہمیں علم ہے ان میں کوئی مفتی نہیں تھا ،جب چاند کے بارے میں پھر پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ چاند کو دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کریں آپ گھنٹوں کو نہ دیکھیں روئیت کو دیکھیں۔ اجلاس کے اختتام پر دُعا کی گئی اور مہمانوں کی تواضع پاکستانی کھانوں سے کی گئی۔ ان کا فرمانا تھا کہ مجھے جب بھی بلائیں گے میں حاضر ہو جاوُں گا میں اپنے تمام بھائیوں سے بات کرنے کے لئے تیار ہوں اگر آپ نہیں آنا چاہتے تو مجھے بلا لیں میں آپ کے پاس حاضر ہو جاوُں گا تا کہ ہماری اصلاح ہو جائے ۔