-،-یقین کی بہرہ وری -طاہرہ رباب الیاس-،-

آسماں اپنی روش مسلسل سے نظام کے استحکام کی تدبیریں کرتا، اپنی کج روئی پہ مسرور، عالم ہست و بود کی خبرگیری رکھتے ہوئے بھی خاموش اپنے سفر پہ رواں دواں ہے، اور پیغام حقیقت سے عالم۔کو بہرہ وری بخش رہا ہے، حالانکہ یہ آسمان بذات خود لاوجودہے لیکن پھر بھی اپنے وجودکو منواتا بھی ہے اور ہمیشہ اپنی وجودی کہانیاں بناتا اور سناتا بھی ہے۔ جیسے ہم بے اختیار کہہ دیا کرتے ہیں کہ دکھاتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے۔ حالانکہ وہ نہیں دکھاتا مگر ہمیشہ مجرم ہی کہلاتا ہے۔انسان یونہی ہمیشہ اپنی محدود علمی بصیرت کو ہی تمام و کمال سمجھ کر اسے حتمی حرف آخر قرار دئے دیتا ہے۔ہماری ساری زندگی یونہی سنے سنائے پہ فیصلے کرتے اور اسے نجات سمجھتے اور خود کو کامل کرتے ہوئے گزر جاتی ہے۔اکثرحقیقت نہیں ہوتی مگر ہم اصرار کرتے ہیں کہ یہی صدیوں سے کہا گیا ہے لہذا یہی درست ہے اور اگر ہم اس میں تضاد کرئیں گے تو اللہ و رسول کے مخالف بن جائیں گے اور پھر جہنم ہی ملے گی۔ یہی وہ خوف ہے جو مسلمان کو تحقیق سے ہٹا کر حقیقتوں کی حجاب کشائی سے روکتا ہے۔ اور نہ سمجھ پانے پہ بہکا بہکا پھرتا ہےکبھی تباہی مچاتا اور کبھی خود کو خود ہی مٹا ڈالتا ہے۔فکر و تدبر کو اپنا شعور زندگی بنائیں اور ہر بات اور ہر شےکی حقیقت و وجودی موجودگی کی تہہ تک پہنچ کر ادراک عالی کو اہلیت سے بہرہ ور فرمائیں۔ اسی سے دریچہائے عقل و خرد وا ہوں گے اصل سمجھ میں آ جائے گی اور قرب الہی کے نشے سے آپ مالا مال ہو جائیں گے، کیونکہ حصول قرب الہی ہی مقصد خلقت حیات ہے

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے